اسمتھ کا دورانِ گفتگو آؤٹ ہونا، ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا

انتہائی مصروف زندگی میں پانچ روزہ مقابلہ دیکھنے کی فرصت بھلا کس کو ہے؟ اس لیے کرکٹ میں تماشائیوں کی تعداد آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہوگئی اور کئی ممالک میں تو طویل طرز کی کرکٹ کو سنگین خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ تماشائیوں کو کھیل سے منسلک رکھنے کے لیے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ٹی ٹوئنٹی کرکٹ نے جنم لیا۔ 20 اوورز کی دلچسپی سے بھرپور اور انتہائی تیز کرکٹ نے جدتوں کے نئے دروازے کھول دیے لیکن جدید کرکٹ کا ایک پہلو اب تنقید کی زد میں ہے۔ وہ ہے کھیل کے دوران کھلاڑیوں کے ساتھ بذریعہ مائیکرو فون بات چیت۔

دراصل آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان کھیلے گئے پہلے ٹی ٹوئنٹی مقابلے کے دوران آسٹریلیا کے بلے باز اسٹیون اسمتھ اس وقت آؤٹ ہوئے جب وہ مائیکروفون پر کمنٹیٹر کے ساتھ بات کر رہے تھے۔

ایڈیلیڈ اوول میں کھیلے گئے پہلے ٹی ٹوئنٹی میں بھارت کے 188 رنز کے جواب میں جب آسٹریلیا کے اسٹیون اسمتھ اور آرون فنچ بیٹنگ کر رہے تھے تو نشریاتی چینل "نائن" کے کمنٹیٹر کے تبصرہ کار اسمتھ سے رابطے میں تھے۔ پوچھے گئے سوالات کے جواب کے دوران وہ کھیل بھی رہے تھے کہ رویندر جدیجا کی گیند پر لگایا گیا ایک شاٹ سیدھا ویراٹ کوہلی کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ کوہلی، جو کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، فوراً اسمتھ کے خلاف بول پڑے اور اشارتاً طنز بھی کیا کہ یہ زیادہ بولنے کی سزا ہے۔

آسٹریلیا کے شائقین اس بات پر سخت طیش میں ہیں اور انہوں نے نشریاتی چینل پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے اسمتھ کی توجہ ہٹائی اور اسی وجہ سے وہ آؤٹ بھی ہوئے اور بعد ازاں آسٹریلیا مقابلہ ہار گیا۔ حیران کن طور پر ایسے افراد بھی موجود رہے جو ویراٹ کوہلی کی کھلی بد زبانی کا دفاع کر رہے ہیں۔ چند کا کہنا ہے کہ کوہلی سے اسمتھ کو اشارہ کیا کہ یہ ایک کرکٹ میچ ہے، ٹی وی انٹرویو نہیں ہو رہا۔

ایک صحافی نے کہا کہ جس طرح اسمتھ آؤٹ ہوئے ہیں، اس سے مختصر ترین طرز کی کرکٹ کی بنیادی ساخت پر ہی سوال کھڑا ہوگیا ہے کہ یہ مقابلے ہیں یا تفریح۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کو اس بے وقوفانہ ٹیکنالوجی کی کتنی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ اگر یہی حرکت کسی ٹیسٹ میں ہوتی تو وہ غصے میں آپے سے باہر ہو جاتے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک بین الاقوامی مقابلہ ہے، اس کے کچھ تقاضے ہیں، انہیں ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے ورنہ اس طرح کھیل بے معنی ہو کر رہ جائے گا۔

Facebook Comments