آئی سی سی کی صدارت کا رائج طریقہ تبدیل کرنے پر غور

بین الاقوامی کرکٹ کونسل ادارے کی صدارت کے لیے رائج طریق کار کو بدلنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

پاکستان کے احسان مانی آئی سی سی کے صدر رہ چکے ہیں

اس وقت آئی سی سی میں باری یعنی روٹیشن کا طریقہ رائج ہے جس کے مطابق دو ممالک کو صدارت و نائب صدارت دی جاتی ہے اور اس مرتبہ پاکستان اور بنگلہ دیش کی باری تھی لیکن رواں ماہ آئی سی سی بورڈ اراکین کے عمومی اجلاس کے موقع پر توقع ہے کہ یہ طریقہ بدل دیا جائے گا اور ظاہر سی بات ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش اس کی مخالفت کریں گے۔

معروف کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ روٹیشن پالیسی کو تبدیل کرنے کے منصوبوں پر کام جاری ہے اور یہ گزشتہ ہفتے چنئی میں ہونے والے آئی سی سی گورننس کمیٹی کے اجلاس کا اہم ترین موضوع تھا۔

ممکنہ طور پر اس فیصلے کا سبب 2010ء میں آئی سی سی کی صدارت کے حوالے سے اٹھنے والا تنازع ہے جس میں آسٹریلیا کے سابق وزیر اعظم جان ہاورڈ کی نامزدگی پر اعتراضات کے باعث ہنگامہ کھڑا ہو گیا تھا اور بالآخر شدید بحث مباحثے کے بعد نیوزی لینڈ کے ایلن آئزک کو نائب صدر منتخب کیا گیا تھا۔

آئی سی سی میں صدارت کے عہدے کے قیام سے اب تک روٹیشن کی بنیاد پر بھارت کے جگموہن ڈالمیا، آسٹریلیا کے میلکم گرے، پاکستان کے احسان مانی اور جنوبی افریقہ کے پرسی سون صدارت کے عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔

2007ء میں نائب صدارت کا عہدہ بھی شامل کیا گیا جس میں بھی اسی طریقے کا اطلاق کیا گیا جس کے مطابق مندرجہ ذیل ممالک جوڑیوں کی صورت میں اپنے امیدوار نامزد کر سکتے ہیں: آسٹریلیا –نیوزی لینڈ، ویسٹ انڈیز-انگلینڈ، بھارت-سری لنکا، پاکستان-بنگلہ دیش اور جنوبی افریقہ-زمبابوے۔

Article Tags

Facebook Comments