"United we win" اسلام آباد پہلا پی ایس ایل چیمپئن

اسلام آباد یونائیٹڈ نے جب پاکستان سپر لیگ کے پہلے سیزن کا آغاز شکستوں کے ساتھ کیا تھا تو کسی کو یقین نہیں تھا کہ وہ اس مقام سے واپسی کرے گا اور بالآخر "شوٹنگ اسٹار" ٹرافی جیت لے گا۔ 'مردِ حق' مصباح الحق کی زیر قیادت، ڈین جونز کی زیر تربیت اور وسیم اکرم کی زیر نگرانی یونائیٹڈ مسلسل چار فتوحات کے ساتھ فائنل میں پہنچا اور یہاں ٹاس جیتنے کے بعد کھیل کے ہر شعبے میں میدان مارا۔ پھر باآسانی 6 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی اور تاریخی لمحہ اپنے نام کرلیا۔ کوئٹہ کے لیے یہ ایک دل شکستہ مرحلہ تھا کہ جس نے اپنی ناقابل یقین کارکردگی سے خود کو منوایا لیکن فائنل میں اسلام آباد کی فتوحات کے سلسلے کو نہ توڑ سکا۔افسوسناک بات یہ ہے کہ راؤنڈ مرحلے کے دونوں مقابلوں میں کوئٹہ نے اسلام آباد کو شکست دی تھی لیکن "بڑے مقابلے" میں وہ نتیجے کو نہ دہراسکا۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کیون پیٹرسن وہ بدنصیب ہیں جو لگاتار تیسری لیگ میں اپنی ٹیم کو فائنل تک لائے لیکن شکست خوردہ ثابت ہوئے۔ وہ جنوبی افریقہ کی ریم سلیم کے فائنل میں ہارے، پھر بگ بیش لیگ میں طوفانی کارکردگی کے باوجود ملبورن اسٹارز کو نہ جتوا سکے اور اب کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے ان کے زخموں کو دوبارہ تازہ کردیا ہے۔ دوسری جانب آندرے رسل قسمت کے وہ دھنی ہیں جو بنگلہ دیش اور آسٹریلیا کے بعد اب پاکستان میں بھی ٹائٹل جیتنے والی ٹیم میں شامل تھے اور بلاشبہ بغیر کارکردگی کے نہیں۔ وہ پی ایس ایل کے پہلے سیزن میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے باؤلر بنے۔

Andre-Russell

175 رنز کے ہدف کے تعاقب میں اسلام آباد یونائیٹڈ کا آغاز ہی بہت پراعتماد تھا۔ انور علی کو ڈیوین اسمتھ نے دو چوکے لگائے اور اوور کا اختتام شرجیل خان کے چھکے سے ہوئے تو صرف 6 گیندوں پر اسکور 15 رنز تک پہنچ چکا تھا۔ کوئٹہ نے شرجیل خان کو تو آؤٹ کردیا لیکن گزشتہ مقابلے میں مایوس کن کارکردگی دکھانے والے ڈیوین اسمتھ ان کے ہتھے نہ چڑھ سکے۔ تجربہ کار بریڈ ہیڈن کے ساتھ ان کی 85 رنز کی رفاقت نے کوئٹہ کی امیدوں کا خاتمہ ہی کردیا۔ اسمتھ نے صرف 51 گیندوں پر 73 رنز کی اننگز کھیل کر اپنے اگلے پچھلے سب "گناہ" معاف کروا لیے۔ ان کے لگائے گئے چار چھکوں میں سے ایک تو 105 میٹر تک کی دوری پر گیا۔ جب اسمتھ سولہویں اوور میں آؤٹ ہوئے تو اسلام آباد فتح سے صرف 36 رنز کے فاصلے پر تھا۔ دو کھلاڑی ضرور آؤٹ ہوئے لیکن مصباح الحق نے 19 ویں اوور کی چوتھی گیند پر فاتحانہ رن دوڑ کر اسلام آباد یونائیٹڈ کے خوابناک سفر کو منزل تک پہنچا دیا۔ بریڈ ہیڈن صرف 39 گیندوں پر 61 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے۔ ان کی اننگز میں پانچ چھکے اور دو چوکے شامل تھے۔ بلاشبہ اسلام آباد کی لگاتار فتوحات میں بریڈ ہیڈن کا بڑا کردار رہا ہے کہ جنہوں نے چار مقابلوں میں تین نصف سنچریاں اسکور کیں اور نازک ترین مراحل پر جم کر بیٹنگ کی۔

کوئٹہ کی باؤلنگ میں آج وہ دم خم نظر نہیں آیا۔ صرف محمد نواز نے کسی حد تک رنز کا بہاؤ روکا کہ جن کو 3 اوورز میں صرف 15 رنز پڑے۔ لیکن وہ کوئی وکٹ نہ لے سکے۔ جبکہ اعزاز چیمہ کے چار اوورز میں 34 بلکہ ذوالفقار بابر کو تو 41 رنز پڑے۔ گرانٹ ایلیٹ، جو سیزن میں بہت عمدہ کھیلتے نظر آئے، صرف دو اوورز میں 27 رنز کھا بیٹھے۔

قبل ازیں، کوئٹہ کی اننگز کا آغاز اور اختتام دونوں بھیانک تھے۔ پہلے ہی اوور میں بسم اللہ خان ایک مرتبہ پھر صفر کی ہزیمت سے دوچار ہوئے۔ کیون پیٹرسن آج بڑے موڈ میں دکھائی دے رہے تھے لیکن عین اس موقع پر جب وہ ایک بلند پرواز کے لیے پر تول رہے تھے، آصف علی کے ایک شاندار کیچ نے ان کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔ سخت طیش کے عالم میں وہ واپس آئے تو صرف 33 رنز پر کوئٹہ دو وکٹوں سے محروم ہو گیا تھا۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز یہاں سخت دباؤ کا شکار ہوا لیکن ایک، دو نئی زندگیاں ملنے کی وجہ سے احمد شہزاد اور کمار سنگاکارا نے معاملات سنبھال لیے۔ دونوں نے تیسری وکٹ پر 87 رنز جوڑے اور ایک بڑے مجموعے کی راہ ہموار کردی۔ سنگاکارا نے 32 گیندوں پر 55 رنز کی زبردست اننگز کھیلی اور کوئٹہ باآسانی بہت بڑا مجموعہ حاصل کرتا دکھائی دے رہا تھا لیکن سنگا گئے اور "اسلام آبادی" مقابلے پر چھا گئے۔ اس کے بعد نہ صرف ہر اوور میں کوئٹہ کی وکٹ گری بلکہ اہم ترین مرحلے پر 18 ویں اور 19 ویں اوورز میں کل ملا کر صرف 9 رنز بنے۔ یہی اوورز بعد میں اصل "فرق" ثابت ہوئے۔ اسی دوران احمد شہزاد 39 گیندوں پر 64 رنز بنانے کے بعد محمد سمیع کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔ انہیں 38 رنز پر ایک نئی زندگی ملی تھی جب آسان کیچ چھوٹ گیا تھا اور اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ آخری اوور میں دو چھکوں کے ساتھ کوئٹہ 174 رنز تک پہنچ گیا۔ آخری پانچ اوورز میں صرف 45 رنز حاصل کیے جا سکے جو 7 وکٹیں باقی ہونے کے ساتھ بہت کم رنز ہیں۔ بہرحال، 174 پہلی نظر میں ایک بڑا مجموعہ نظر آ رہا تھا لیکن اسلام آباد کی طوفانی بیٹنگ کے سامنے بہت کم ثابت ہوا۔

Mohammad-Nawaz

آندرے رسل نے 36 رنز دے 3 وکٹیں لیں اور یوں پاکستان سپر لیگ کے پہلے سیزن میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے باؤلر بن گئے۔ انہوں نے 15 شکار کرنے والے پشاور زلمی کے وہاب ریاض کو پیچھے چھوڑا۔ انہیں ٹورنامنٹ کے بہترین باؤلر کا اعزاز ملا۔ لاہور قلندرز کے عمر اکمل پی ایس ایل کے بہترین بلے باز اور فیلڈر قرار پائے جبکہ فائنل میں "مین آف دی میچ" ڈیوین اسمتھ کو ملا۔

CHAMPIONSHIP MOMENT! ISLAMABAD UNITED has done it! This is a tremendous turn-around for them considering the way they started #HBLPSL but they deserve every bit of it!

Posted by Pakistan Super League on Tuesday, February 23, 2016

Facebook Comments