محمد عامر، چند یادگار لمحات

ایشیا کپ میں پاکستان کا سفر تو تمام ہوا لیکن "ٹاٹ میں ریشم کا پیوند" محمد عامر کی کارکردگی رہی۔ پہلے مقابلے میں بھارت کے خلاف 18 رنز دے کر تین وکٹیں لے کر عامر جس ترنگ میں آئے ہیں اس نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے قبل دنیا بھر کی ٹیموں کے لیے خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔

بھارت کے خلاف مقابلے میں صرف 84 رنز کا دفاع کرتے ہوئے 18 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کرنا، اگلے مقابلے میں متحدہ عرب امارات کے خلاف صرف 6 رنز دے کر دو وکٹیں اور پھر بنگلہ دیش کے خلاف 26 رنز دے کر دو وکٹیں لینا، شاید سننے میں اتنا اچھا نہ لگے لیکن ان تینوں مقابلوں میں انہوں نے بہت ہی نازک مراحل پر شکار کیے۔ وہ الگ بات کہ پاکستان ان میں سے سوائے امارات کے کسی کو شکست نہ دے سکا۔ لیکن عامر کی اس کارکردگی نے ان سے وابستہ ماضی کی کئی یادیں بھی تازہ کی ہیں۔ آئیے کچھ دیر کے لیے پاکستان کی حالیہ کارکردگی کو بھلا دیتے ہیں اور آپ کو عامر کی پانچ بہترین کارکردگیوں کے بارے میں بتاتے ہیں:

ایک اوور میں پانچ وکٹیں

Mohammad-Aamer

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2010ء کا چھٹا مقابلہ کہ جہاں پاکستان اور آسٹریلیا مدمقابل تھے۔ آسٹریلیا کے کپتان مائیکل کلارک نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا۔ جسے بلے بازوں نے ٹھیک ثابت کرکے دکھایا۔ شین واٹسن کے 81 اور ڈیوڈ ہسی کے 53 رنز نے اسکور کو 19 اوورز میں 191 رنز تک پہنچا دیا۔ 200 رنز کی نفسیاتی حد تک پہنچنا بس کچھ دیر کی بات تھی جب آخری اوور محمد عامر کو تھمایا گیا۔ پہلی گیند پر بریڈ ہیڈن اور دوسری پر مچل جانسن بولڈ ہوئے۔ ہیٹ ٹرک گیند مائیکل ہسی کھیل تو گئے لیکن رن بھاگنے کے چکر میں رن آؤٹ ضرور ہوئے۔ اگلی گیند اسٹیون اسمتھ سے ضائع ہوئی اور وکٹ کیپر کے ہاتھوں میں گئی لیکن وہ پھر بھی رن لینے کے لیے دوڑ پڑے اور یوں ایک اور رن آؤٹ ہوگیا۔ پانچویں گیند پر کوئی رن نہ بنا اور آخری گیند پر شان ٹیٹ کے کلین بولڈ کے ساتھ عامر کا تاریخی اوور مکمل ہوا۔ بغیر کوئی رن بنے ایک اوور میں پانچ وکٹیں گرگئیں۔ پاکستان بڑے ہدف کا تعاقب میں ناکام ثابت ہوا۔ ٹیم 157 رنز بنا سکی اور 34 رنز کی شکست نصیب میں لکھی گئی لیکن عامر کا یہ اوور تاریخ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگیا۔

"ٹارزن" کی واپسی

Mohammad-Aamer2
یہ 2009ء میں پاک-آسٹریلیا ٹیسٹ سیریز کا پہلا مقابلہ تھا۔ آسٹریلیا نے 454 رنز بنائے یعنی محمد عامر سمیت کوئی باؤلر آسٹریلیا کو نہ روک سکا۔ جواب میں 258 رنز کی اننگز اور 196 رنز کا خسارہ پاکستان کے نصیب میں آیا۔ یہاں آخری موقع تھا، آسٹریلیا کو کم سے کم رنز پر ڈھیر کرکے معمولی ہدف حاصل کرنے کا۔ نوجوان محمد عامر نے صرف 79 رنز دے کر پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور آسٹریلیا 225 رنز تک پہنچا اور اور اننگز کے خاتمے کا اعلان کردیا۔ پاکستان کو بری طرح شکست ضرور ہوئی لیکن عامر کی آسٹریلیا کے خلاف آسٹریلیا میں پانچ وکٹیں طویل عرصے تک یاد رکھیں گئیں۔

"فاتح" محمد عامر

Mohammad-Amir2

جب پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کا خاتمہ ہوا تو پاکستان کو مجبوراً اپنے مقابلوں کی میزبانی بیرون ملک کرنا پڑی۔ 2010ء میں اک-آسٹریلیا دو ٹیسٹ مقابلوں کی سیریز انگلستان میں کھیلی گئی۔ لارڈز میں ہونے والے پہلے ٹیسٹ میں فتح آسٹریلیا کو ملی۔ اس لیے لیڈز میں ہونے والا دوسرا ٹیسٹ بہت اہمیت اختیار کرگیا۔ آسٹریلیا کے کپتان رکی پونٹنگ نے ٹاس جیتا اور پہلے بلے بازی سنبھالی اور اس کے ساتھ ہی پاکستانی باؤلرز آسٹریلیا پر ٹوٹ پڑے۔ محمد عامر اور محمد آصف کے سامنے آسٹریلیا کی بیٹنگ لائن صرف 88 رنز پر ڈھیر ہوگئی جس میں عامر کی تین وکٹیں بھی شامل تھیں۔ مچل جانسن کو کیا گیا کلین بولڈ بلاشبہ گزشتہ کئی سالوں میں پھینکی گئی بہترین گیند تھی۔ بہرحال، پاکستان نے پہلی اننگز میں 170 رنز کی برتری حاصل کی اور دوسری اننگز میں آسٹریلیا سنبھلنے میں کامیاب ہوگیا۔ 349 رنز بنے۔ عامر نے سائمن کیٹچ، رکی پونٹنگ، مائیکل ہسی اور مارکس نارتھ کی چار قیمتی وکٹیں لیں۔ پاکستان نے آخر میں ہدف حاصل کیا اور کامیابی حاصل کرلی۔ محمد عامر کو میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ملا۔

"لنکا ڈھا دی"

Mohammad-Aamer3

محمد عامر نے اپنے کیریئر کے آغاز میں ہی دنیا کے بہترین بلے بازوں کو تگنی کا ناچ نچایا۔ سری لنکا کے دورے پر پانچ ایک روزہ میچز کی سیریز کے آخری مقابلے میں گو کہ نتیجے کی اہمیت نہ تھی کیونکہ سری لنکا پہلے ہی تین-ایک کی فیصلہ کن برتری حاصل کر چکا تھا لیکن شکست کا فرق کم کرنے کے لیے پاکستان کو جیتنا چاہیے تھا۔ پاکستان نے یونس خان اور مصباح الحق کی عمدہ اننگز کی بدولت 279 رنز بنائے۔ ہدف مشکل نہ تھا لیکن احتیاط ضروری تھی کیونکہ سری لنکا کے بلے باز عمدہ فارم میں تھے۔ یہاں محمد عامر اور رانا نوید الحسن کے سامنے ان کی ایک نہ چلی۔ دونوں نے چار، چار وکٹیں لیں اور میزبان کو 147 رنز پر ڈھیر کرکے ایک بڑی فتح حاصل کی۔

"تنہا سپاہی"

Mohammad-Amir3
پاک-انگلستان چار ٹیسٹ مقابلوں کی سیریز عجیب ہی تھی۔ وہ عامر کے لیے جہاں بہترین تھی، وہیں بدترین بھی۔ آخری ٹیسٹ میں سیریز دو-ایک سے انگلستان کے حق میں تھی۔ پاکستان جیت جاتا تو سیریز برابر ہو جاتی۔ سازگار حالات کو دیکھتے ہوئے پاکستان نے پہلے باؤلنگ سنبھالی اور عامر کی گیندبازی نے صبح صبح تہلکہ مچا دیا۔ انگلستان کے 7 کھلاڑی صرف 102 رنز پر آؤٹ ہو چکے تھے اور ان میں سے 6 وکٹیں عامر نے لی تھیں۔ پاکستان کو بس آخری دھکا لگانے کی ضرورت تھی لیکن آٹھویں وکٹ پر جوناتھن ٹراٹ اور اسٹورٹ براڈ کی 332 رنز کی ریکارڈ شراکت داری نے سارا کھیل خراب کردیا۔ جو کسر رہ گئی تھی وہ پاکستان کے 74 رنز پر آل آؤٹ ہونے اور اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے منظر عام پر آنے سے پوری ہوگئی۔ فالو آن کرتے ہوئے پاکستان دوبارہ ناکام ہوا اور ایک اننگز و 225 رنز کی بدترین شکست کے ساتھ عامر کے کیریئر کو بہت بڑا دھچکا پہنچا۔ ایک دو دن قبل ایلسٹر کک سے لے کر کیون پیٹرسن تک کی شاندار وکٹیں اور پھر جھکا ہوا اور پانچ سال کی پابندی۔

اب عامر تمام "گناہوں" کو دھونے کے بعد ایک مرتبہ پھر میدانوں میں موجود ہیں۔ اگر اگلے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کے آگے جانے کی کوئی ہلکی سی امید بھی ہے، تو وہ محمد عامر ہی کی وجہ سے ہے۔ امید ہے کہ وہ اپنے کیریئر کی سب سے بہترین کارکردگی بھارت کے میدانوں پر ہی دکھائیں گے۔

Facebook Comments