بغیر کسی نقصان کے 255 رنز کا ہدف، ایک نیا عالمی ریکارڈ

سری لنکا کے خلاف دوسرے ایک روزہ میں انگلستان نے بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے 255 رنز کا ہدف حاصل کیا، جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔ اوپنرز ایلکس ہیلز اور جیسن روئے کی شاندار بلے بازی کی بدولت یہ ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کا پہلا موقع ثابت ہوا کہ کسی ٹیم نے بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے اتنا بڑا ہدف حاصل کرلیا ہو۔

انگلستان نے 255 رنز کا ہدف 35 ویں اوور کی پہلی گیند پر حاصل کیا کہ جس کے دوران ہیلز اور روئے دونوں نے اپنی بہترین ایک روزہ اننگز کھیلیں۔ ہیلز نے 133 اور روئے نے 112 رنز بنائے اور میدان سے فاتحانہ لوٹے۔

بغیر کوئی وکٹ گنوائے سب سے بڑے ہدف کا ریکارڈ اس سے پہلے نیوزی لینڈ کے پاس تھا جس نے گزشتہ سال اگست میں زمبابوے کے خلاف 236 رنز بنائے تھے۔ لیکن بغیر سب سے بری شکست انگلستان ہی نے کھائی ہے اور اسی سری لنکا کے خلاف۔ عالمی کپ 2011ء کے چوتھے کوارٹر فائنل میں انگلستان نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 229 رنز بنائے تھے، جس کے جواب میں سری لنکا نے اوپل تھارنگا اور تلکارنے دلشان کی سنچریوں کی مدد سے ہدف چالیسویں اوور میں بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے حاصل کیا۔ یہ انگلستان کی بہت بری شکست تھی، جس سے عالمی کپ کی دوڑ سے باہر ہوگیا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ انگلستان نے بڑا پرانا بدلہ چکایا ہے۔

Andrew-Strauss

پاکستان نے ہدف کے تعاقب میں بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے سب سے زیادہ 228 رنز بنائے ہیں۔ ستمبر 2011ء میں زمبابوے کے خلاف سیریز کے دوسرے ایک روزہ میں محمد حفیظ کی 139 رنز کی اننگز اور عمران فرحت کے ناقابل شکست 75 رنز نے پاکستان کو 43 ویں اوور میں ہدف تک پہنچایا۔

یہ بھی پڑھیں:  گیم پلاننگ کس ’’چڑیا‘‘ کا نام ہے؟

پاکستان نے حریف کے ہاتھوں 10 وکٹ کی جو سب سے بڑی شکست کھائی ہے وہ عالمی کپ 1992ء میں اپنے پہلے مقابلے میں تھی۔ رمیز راجہ کی سنچری اور کپتان جاوید میانداد کی نصف سنچری کی بدولت پاکستان نے 50 اووز میں صرف 2 وکٹوں پر 220 رنز بنائے لیکن ویسٹ انڈیز نے 221 رنز کا ہدف بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے پورا کرلیا۔ برائن لارا 88 رنز پر ریٹائرڈ ہرٹ ہوئے جبکہ ڈیسمنڈ ہینز 93 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ میدان سے واپس آئے۔

آئیے، آخر میں آپ کو دکھاتے ہیں کہ بلے بازوں نے کون سے اہداف باؤلر کو تڑپا تڑپا کر حاصل کیے:

فاتح تعاقب میں اسکور اوورز بمقابلہ بمقام بتاریخ
انگلستان 256/0 34.1 سری لنکا برمنگھم 24 جون 2016ء
نیوزی لینڈ 236/0 42.2 زمبابوے ہرارے 4 اگست 2015ء
سری لنکا 231/0 39.3 انگلستان کولمبو 26 مارچ 2011ء
پاکستان 228/0 42.1 زمبابوے ہرارے 11 ستمبر 2011ء
ویسٹ انڈیز 221/0 46.5 پاکستان ملبورن 23 فروری 1992ء

Facebook Comments