انگلستان کے 'پاکستانی'

کہنے کو تو پاکستان کا قومی کھیل ہاکی ہے لیکن کرکٹ میں عوام کی دلچسپی اور جوش و خروش دیکھیں تو یہی سمجھ آتی ہے کہ چاہے کاغذات میں قومی کھیل ہاکی ہی ہو لیکن عوامی کھیل کرکٹ ہی ہے۔ پاکستان کے گلی کوچوں سے نکلنے والے کھلاڑیوں نے نہ صرف وطن عزیز کو بلکہ دنیائے کرکٹ کو بھی کئی مایہ ناز کھلاڑی دیے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے عمران طاہر ہوں یا آسٹریلیا کے فواد احمد، یہ وہ کھلاڑی ہیں جو خالصتاً پاکستانی کرکٹ کلچر میں پلے بڑھے اور آج ایک بہت بڑے مقام پر موجود ہیں۔

اس وقت پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم انگلستان کے دورے پر ہے، جو اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ انگلستان اور پاکستان کا باہمی تعلقات نوآبادیاتی دور سے ہے کہ جب غیر منقسم ہندوستان عظیم برطانوی سلطنت کا حصہ تھا۔ آقا و غلام کا یہ باہمی تعلق ایک صدی تک قائم رہا یہاں تک کہ ہندوستان اس غلامی سے نکل گیا اور پاکستان و بھارت کی دو ریاستیں یہاں وجود میں آئیں۔ بدلتے وقت کے ساتھ یہ باہمی تعلق مختلف روپ اختیار کرتا گیا۔ پاکستان سے بیرون ملک جانے والوں کا پہلا بڑا مسکن وہی برطانیہ تھا جو کبھی ان کا حاکم تھا۔ آج لاکھوں پاکستانی اس ملک میں رہتے ہیں اور ہر شعبہ ہائے زندگی میں نمائندگی رکھتے ہیں جن میں کرکٹ بھی شامل ہے۔ آئیے آپ کو پانچ ایسے پاکستانی نژاد کھلاڑیوں سے ملاتے ہیں جو انگلستان کی قومی کرکٹ ٹیم تک پہنچے اور ہر سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

عادل رشید

adil-rashid
آغاز کرتے ہیں عادل رشید سے جو پہلی بار 2009ء میں انگلستان کی قومی کرکٹ ٹیم کا حصہ بنے۔ انہوں نے اپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز 5 جون 2009ء کو نیدرلینڈز کے خلاف ٹی20 میچ سے کیا، جبکہ پہلا ایک روزہ بین الاقوامی میچ بھی اسی سال آئرلینڈ کے خلاف 27 اگست کو کھیلا۔ تاہم انہیں ٹیسٹ کے لیے خاصا طویل انتظار کرنا پڑا، یہاں تک کہ اکتوبر 2015ء میں پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں انہیں کھلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میں عادل نے دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کرکے شائقین کو اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ عادل ایک آل راؤنڈر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ ایک روزہ مقابلوں میں ان کا سب سے زیادہ اسکور 69، جبکہ ٹیسٹ میں 61 رنز ہے۔ یوں تو عادل یارکشائر میں پیدا ہوئے ہیں، لیکن ان کے گھرانے کا اصل تعلق میرپور سے ہے۔ ان کا خاندان 1967ء میں آزاد کشمیر سے ہجرت کرکے انگلستان منتقل ہوا تھا۔

معین علی

moeen-ali
انگلستان کی موجودہ قومی ٹیم کے مرکزی کھلاڑیوں میں سے ایک، معین علی کا تعلق بھی میرپوری برادری سے ہے۔ ان کے اجداد نے بھی آزاد کشمیر ہی سے ہجرت کی تھی اور معین نے برمنگھم میں جنم لیا۔ انگلستان میں پیدا ہونے کے باوجود معین اردو اور پنجابی زبان سمجھ سکتے ہیں۔ معین علی نے فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز 2005ء سے کردیا تھا، مگر انہیں بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کا موقع 2014ء میں ملا۔ 28 فروری 2014ء کو معین نے اپنا پہلا ایک روزہ بین الاقوامی میچ ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلا، اور ایک وکٹ حاصل کرنے کے ساتھ 44 رنز بناکر 96 رنز کی اوپننگ شراکت قائم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  اسپاٹ فکسنگ ایک اور ابھرتا ہوا ستارہ نگل گئی

12 جون 2014ء کو سری لنکا کے خلاف اپنے پہلے ٹیسٹ میچ میں معین صرف 48 اور 4 رنز کی اننگز کھیل سکے، لیکن دوسرے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں جہاں کوئی دوسرا انگلش بلے باز 31 رنز سے آگے نہ بڑھ سکا، معین نے ناقابل شکست رہتے ہوئے 108 رنز بنائے۔ حال ہی میں معین علی نے پاکستان کے خلاف ایک ٹیسٹ میں بھی 108 رنز کی اننگز کھیلی ہے۔ قبل ازیں معین نے اپنے پانچویں ٹیسٹ میں بھارت کے خلاف ایک اننگز میں چھ وکٹیں حاصل کی تھیں، اور اس مقابلے میں بھارت کو 266 رنز سے شکست ہوئی تھی۔

اویس شاہ

owais-shah
جون 2001ء میں آسٹریلیا کے خلاف ایک روزہ میچ سے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز کرنے والے اویس شاہ نے کراچی میں جنم لیا تھا۔ اگرچہ وہ ایک روزہ ٹیم کے علاوہ ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی میں مستحکم اور مستقل جگہ حاصل نہ کرسکے، لیکن انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ خوب کھیلی۔ اویس کا سب سے بڑا کارنامہ انگلستان کو انڈر19 ورلڈ کپ جتوانا ہے۔ 1998ء میں انہی کی زیر قیادت انگلستان نے یہ کارنامہ انجام دیا۔ اویس شاہ نے مجموعی طور پر 71 ایک روزہ بین الاقوامی مقابلے کھیلے اور 30.56 کی اوسط سے 1834 رنز بنائے، جن میں ایک سنچری اور 12 نصف سنچریاں شامل تھیں۔ اویس کے کیریئر میں ان کی ناقص فیلڈنگ آڑے آئی، اور وہ ایک روزہ ٹیم سے بھی باہر ہوتے رہے۔ اویس شاہ نے اپنا آخری بین الاقوامی مقابلہ اکتوبر 2009ء میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلا۔

ساجد محمود


چھ فٹ چار انچ قامت رکھنے والے ساجد کے دادا نے اپنے خاندان کے ساتھ 1968ء میں راولپنڈی سے ہجرت کرکے انگلستان آئے تھے۔ ساجد، معروف باکسر عامر خان کے کزن ہیں۔ ساجد کا کرکٹ کیریئر زیادہ طویل نہیں ہو سکا۔ ساجد محمود نے اپنا پہلا ایک روزہ بین الاقوامی میچ 4 جولائی 2004ء کو نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلا، جس میں وہ کوئی وکٹ لینے میں ناکام رہے۔ اپنے تیسرے ایک روزہ مقابلے میں انہوں نے بھارت کے خلاف تین وکٹیں حاصل کیں اور انگلینڈ کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ غیر مستقل کارکردگی کے باعث ساجد صرف 8 ٹیسٹ اور 26 ایک روزہ مقابلے ہی کھیل سکے۔

عثمان افضال

usman-afzaal
بائیں ہاتھ سے بلے بازی کرنے والے عثمان افضال نے راولپنڈی میں جنم لیا۔ 235 فرسٹ کلاس میچ کھیلنے والے عثمان کا بین الاقوامی کیریئر صرف تین ٹیسٹ میچوں تک محدود رہا۔ ان تین مقابلوں میں انہوں نے ایک نصف سنچری بنائی، اور صرف ایک وکٹ لے سکے۔ اس کے بعد وہ قومی کرکٹ ٹیم میں جگہ نہ بناسکے۔ تاہم فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان کا سب سے زیادہ اسکور ناقابلِ شکست 204 رنز ہے اور ان کی اوسط 39.15 رہی۔

Facebook Comments