بھارت پاکستان سے کرکٹ تعلقات مکمل ختم کرنے کے درپے

کبھی پاک بھارت تعلقات میں موجود تناؤ کو کمی لانے کے لیے کرکٹ ڈپلومیسی استعمال ہوتی تھی لیکن گزشتہ ایک دہائی سے حالات خراب ہوتے ہوتے مودی سرکار کے عہد میں اس نہج پر آ چکے ہیں کہ امید کا آخری دروازہ بھی بند ہونے لگا ہے۔

بھارتی کرکٹ بورڈ نے اپنے ایک خصوصی اجلاس میں پاکستان کے ساتھ کسی بھی سطح پر دو طرفہ کرکٹ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے، یہاں تک کہ کسی کثیر ملکی ٹورنامنٹ میں بھی نہیں۔ بی سی سی آئی نے بین الاقواموی کرکٹ کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ دونوں ممالک کو اپنے کسی ٹورنامنٹ میں ایک ہی گروپ میں شامل نہ کرے۔ یہ فیصلہ مقبوضہ کشمیر میں جاری ریاستی ظلم و ستم کے خلاف پاکستان کے آواز بلند اور اوڑی میں بھارتی فوجی اڈے پر حملے کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ جس کے بعد دونوں ممالک میں تعلقات سخت کشیدہ ہیں۔

بی سی سی آئی کے صدر انوراگ ٹھاکر، جو حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے اہم عہدیدار بھی ہیں، فیصلے پر کہا ہے کہ ہم نے پاکستان کے ساتھ کرکٹ نہ کھیلنے کا فیصلہ اسے تنہا کرنے کی نئی حکمت عملی کے تحت کیا ہے۔ آئی سی سی سے بھی کہا ہے کہ وہ آئندہ کسی بڑے ٹورنامنٹ میں ہمیں پاکستان کے گروپ میں شامل نہ کرے۔

آئی سی سی کا اگلا بڑا ٹورنامنٹ اگلے سال جون میں چیمپئنز ٹرافی کی صورت میں ہوگا جہاں دونوں روایتی حریف ایک گروپ میں ہی ہیں جیسا کہ یہ آئی سی سی کی روایت ہے کہ وہ دونوں ملکوں کے مقابلے کی مالی اہمیت کے پیش نظر ایسا کرتا ہے۔ لیکن اب لگتا ہے آئی سی سی کی آمدنی کا یہ بڑا ذریعہ بھی بند ہونے والا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اقتدار کی ترقی، اقدار کی تنزلی

Facebook Comments