’’بگڑے بچے‘‘ اور جنید خان!!

اسکول کے دنوں میں کلاس کے شرارتی بچوں کوجب’’ڈنڈا پیر‘‘ بھی بندا نہیں بناسکتا تھا تو ہمارے اُستاد ایسے بچوں کو اُن کے حال پر چھوڑتے ہوئے سب سے پیچھے بٹھا دیا کرتے تھے تاکہ دوسرے بچے ان کے ’’اثرات‘‘ سے دور رہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ بھی شاید انہی استادوں کے نقش قدم پر چل رہا ہے جس نے پاکستان کرکٹ کے دو بگڑے شہزادوں عمر اکمل اور احمد شہزاد کو مرکزی معاہدوں کی سب سے نچلی درجہ بندی میں دھکیل دیا ہے جنہیں ’’سزا‘‘ کے طور پر ورلڈ کپ 2015ء کے بعد سے قومی ٹیم سے دور رکھنے کا ’’تجربہ‘‘ بھی کیا جاچکا ہے۔

سینٹرل کانٹریکٹ برائے اکتوبر 2016ء تا جون 2017ء میں 30 کھلاڑیوں کیساتھ معاہدہ کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ نے جہاں احمد شہزاد کو ’’بی‘‘ اور عمر اکمل کو ’’سی‘‘ کیٹیگری سے ’’ڈی‘‘ میں بھیجا ہے وہاں شاہد آفریدی پہلی مرتبہ سنٹرل کانٹریکٹس سے محروم ہوئے ہیں اور سعید اجمل کے ساتھ ساتھ جنید خان اور فواد عالم کو بھی ماہانہ تنخواہوں کی مراعات کے قابل نہیں سمجھا گیا، جو پچھلے کانٹریکٹ کا حصہ تھے۔ سب سے زیادہ حیرت جنید خان کو سنٹرل کانٹریکٹس سے باہر رکھنے پر ہوئی ہے جو گزشتہ معاہدے میں بی کیٹیگری میں شامل تھے اور اس مرتبہ کھبے پیسر کوتنزلی کا شکار کرکے ’’سی‘‘ یا ’’ڈی‘‘ کیٹیگری میں بھیجنے کی بجائے سنٹرل کانٹریکٹس سے ہی باہر کردیا گیا ہے۔ ٹی20 کپتان سرفراز احمد اور لیگ اسپنر یاسر شاہ پہلی مرتبہ ’’ اے‘‘ کیٹیگری میں شامل ہوئے ہیں جبکہ 30 کھلاڑیوں ں کی فہرست میں محمد اصغر ایسے واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے ابھی تک پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل نہیں کیا۔ فواد عالم کو گزشتہ 15مہینوں میں کسی بھی فارمیٹ میں کوئی انٹرنیشنل میچ نہیں کھلایا گیا جبکہ پیٹرنز الیون کی قیادت دینے کے بعد فواد عالم کومرکزی معاہدے کا بھی اہل نہیں سمجھا گیا۔ دوسری طرف انجری کا شکار ہوکر قومی منظر نامے سے دور ہونے والے حارث سہیل کو بیرون ملک علاج کی سہولتیں بھی فراہم کی جارہی ہیں اور کھبے بیٹسمین کو ’’سی‘‘ کیٹیگری میں برقرار بھی رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مکی آرتھر بھی پاکستان کی کوچنگ کے امیدواروں میں شامل ہیں: بھارتی خبر رساں ادارہ

شاہد آفریدی پہلی مرتبہ مرکزی معاہدوں سے آؤٹ ہوئے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ’’بوم بوم‘‘ کا سورج اب غروب ہوچکا ہے جنہوں نے ریٹائرمنٹ لینے کا موقع بھی گنوادیا۔ یہی صورتحال سعید اجمل کے بھی ساتھ ہے جنہوں نے ریٹائرمنٹ کیلئے پی سی بی کو انکار کرکے کیرئیر جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے جبکہ پی سی بی نے ’’جادوگر‘‘ آف اسپنر کو سنٹرل کانٹریکٹس سے باہر رکھ کر اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔جنید خان کو جب سلیکشن کمیٹی منتخب ہی نہیں کررہی تو پھر کس بنیاد پر جنید خان کو مرکزی معاہدوں سے باہر کیا گیا ہے جو گزشتہ سیزن میں ’’بی‘‘ کیٹیگری کا حصہ تھا۔ چیف سلیکٹر متعدد مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ جنید خان اُن کی منصوبہ بندی کا حصہ ہے مگر انہوں نے بائیں ہاتھ کے پیسر کیلئے جو ’’منصوبہ‘‘ بنایا تھا وہ آشکار ہوچکا ہے۔جنید خان کو جس طرح ’’بی‘‘ کیٹیگری سے اُٹھا کر باہر پھینکا گیا ہے بالکل اسی طرح محمد عامر کو دھوم دھام کیساتھ ’’بی‘‘ کیٹیگری میں لا کر بٹھایا گیا ہے جو پی سی بی کی پالیسی کو واضح کررہا ہے کہ ملک کا نام بدنام کرنے والوں کو احترام دیا جارہا ہے اور مشکل حالات میں پاکستان کا نام بلند کرنے والے کو رسوا کیا جارہا ہے۔ سنٹرل کانٹریکٹ نے جنید خان کی زبان پر جو تالا لگایا ہوا تھا اب وہ کھل چکا ہے اس لیے ممکن ہے کہ ’’پٹھان‘‘ بالر مصلحت ختم کرکے پی سی بی پر باؤنسرز اور یارکرز کی بوچھاڑ کردے۔

اگر گزشتہ معاہدوں کی معیاد کے درمیان کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو جولائی 2015ء سے ستمبر 2016ء تک تینوں فارمیٹس میں مجموعی طور پر شعیب ملک نے سب سے زیادہ 1541 رنز 44 اننگز میں 49.70 کی اوسط سے اسکور کیے ہیں جبکہ تینوں فارمیٹس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے محمد حفیظ اور سرفراز احمد بھی ہزار سے زائد رنز بنانے میں کامیاب رہے اور یہ تینوں کھلاڑی’’اے‘‘ کیٹیگری کا حصہ ہیں۔ ان کے علاوہ مصباح الحق، اظہر علی اور یونس خان ٹاپ کیٹیگری میں شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان سپر لیگ ایک مرتبہ پھر مؤخر

عمر اکمل اور احمد شہزاد نے گزشتہ 15ماہ کے دوران زیادہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ’’ان‘‘ اور ’’آؤٹ‘‘ کا شکار رہنے والے کھلاڑیوں کی تنزلی زیادہ بڑی بات دکھائی نہیں دے رہی مگر پی سی بی نے یہاں بھی مختلف کھلاڑیوں کیلئے مختلف قوانین کی مثال قائم کی ہے کہ احمد شہزاد کو ’’بی‘‘ سے براہ راست ’’ڈی‘‘ کیٹیگری میں بھیجا گیا ہے جبکہ دوسری طرف پچھلے سنٹرل کانٹریکٹس کا حصہ نہ بننے والے شرجیل خان، خالد لطیف، حسن علی، محمد نواز، سہیل خان اور سہیل تنویر کو ’’سی‘‘ کیٹیگری میں انٹری دی گئی ہے۔ سنٹرل کانٹریکٹس میں ترقی اور تنزلی کیلئے کارکردگی ہی کسوٹی ہونی چاہیے مگر پسند و ناپسند سے بالاتر ہوکر ترقی و تنزلی کا عمل صرف ایک درجہ بندی تک محدود ہونا چاہیے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک کھلاڑی جو پانچ سال کی ’’سزا‘‘ کاٹ کر آیا ہو اسے براہ راست دوسری بہترین درجہ بندی میں جگہ مل جائے اور جس کھلاڑی کو ناانصافی کا شکار بنا کر پہلے ٹیم سے باہر کیا گیا ہو اسے تنزلی کا شکار کرکے ’’بی‘‘ کیٹیگری سے براہ راست باہر کا دروازہ دکھا دیا ہو۔ایک درجہ ترقی پاکر ’’سی‘‘ کیٹیگری میں آنے والے عماد وسیم اور بابر اعظم کو غیر معمولی کارکردگی پر ڈبل پروموشن نہیں دی گئی مگر جنید خان کی دہری تنزلی ضرور کی گئی۔

پی سی بی ہر سال مرکزی معاہدوں کو متنازع بناتا ہے جس میں چند ایک کھلاڑی ناانصافی کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ اس سال سب سے بڑی ناانصافی جنید خان کیساتھ کی گئی ہے جس نے کچھ عرصہ قبل انگلینڈ منتقل ہونے کا متنازع بیان دیا تھا مگر اب ایسا لگ رہا ہے کہ جنید خان کو اپنا بوریا بستر باندھ لینا چاہیے کیونکہ محمد عامر کی غیر موجودگی میں مردہ وکٹوں پر شاندار بالنگ کرنے کا اس سے بہتر ’’انعام‘‘ اور کیا ہوسکتا ہے!!

Ahmed-Shehzad-Umar-Akmal

Facebook Comments