جب امپائر 'کالی آندھی' کی راہ میں حائل ہوگئے

کرکٹ کے میدان میں نیوٹرل یعنی غیر جانبدار امپائروں کے تقرر اور ٹیکنالوجی کے استعمال نے کئی مسائل کا خاتمہ کردیا ہے۔ ماضی میں’’امپائر تو ’اپنا‘ ہونا چاہیے‘‘ کا اصول عام تھا، یعنی جس ملک میں میچ کھیلا جارہا ہوتا تھا، امپائروں کا تعلق بھی وہیں سے ہوا کرتا تھا۔ کرکٹ کی تاریخ کے کئی تنازعات نے مقامی امپائروں پر جانبدارانہ امپائرنگ کے الزام سے ہی جنم لیا جن میں سے ایک 1980ء میں ویسٹ انڈیز کے دورۂ نیوزی لینڈ میں پیش آیا۔

یہ ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے عروج کا زمانہ تھا۔ دو مرتبہ عالمی کپ جیتنے کے علاوہ وہ آسٹریلیا کو آسٹریلیا میں شکست دے کر خود کو ثابت کر چکا تھا۔ تب فروری 1980ء میں ’کالی آندھی‘ نیوزی لینڈ کے دورے پر پہنچی۔ رچرڈ ہیڈلی میزبان ٹیم کے واحد نمایاں کھلاڑی تھے۔ اس بے جوڑ مقابلے کے لیے نیوزی لینڈ کے پاس ایک زبردست ہتھیار تھا، ’امپائرز‘۔

امپائروں کی بدولت پہلے ہی ٹیسٹ نے سیریز کو فیصلہ کن رخ دیا۔ نمایاں ترین کردار امپائر فریڈ گڈال کا تھا۔ نیوزی لینڈ کے گیند باز ایل بی ڈبلیو کی اپیل کرتے تو فریڈ کی انگلی فضا میں بلند ہوجاتی، جبکہ مہمان ٹیم کے گیند بازوں کی اپیلیں یکے بعد دیگرے مسترد ہوتی رہیں۔ پہلے ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کے مائیکل ہولڈنگ کی ایک گیند کیوی بلے باز جان پارکر کے دستانوں سے لگتی ہوئی پہلی سلپ میں گئی، مگر دوسرے امپائر جان ہیسٹی ٹس سے مس نہ ہوئے۔ ہولڈنگ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا۔ ان کی ٹیم کی کئی اپیلیں مسترد ہوچکی تھیں، آخر ہولڈنگ نے کرکٹ کی تاریخ میں ایک انوکھی حرکت کی۔ وہ غصے میں بلے باز کے پاس گئے اور لات مار کر وکٹیں گرا دیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا پاکستانی تماشائی بنگلہ دیشی شائقین سے کچھ سیکھیں گے؟
Michael-Holding

امپائروں کی حمایت ملنے کا نتیجہ تھا کہ نیوزی لینڈ کو آخری اننگز میں صرف 104 رنز کا ہدف ملا۔ تاہم غصے میں بپھری کالی آندھی نے اس معمولی ہدف کے دفاع میں بھی ناکوں چنے چبوا دیے۔ آخر نیوزی لینڈ کو صرف ایک وکٹ سے کامیابی ملی۔ آسٹریلیا کو اسی کی سرزمین پر شکست دینے والی ویسٹ انڈیز کو نیوزی لینڈ میں شکست ہونا معمولی بات نہیں تھی۔ بلاشبہ بدترین امپائرنگ نے اس میچ میں اہم کردار ادا کیا تھا جہاں 12 کھلاڑیوں کو ایل بی ڈبلیو قرار دے کر عالمی ریکارڈ بنایا گیا تھا۔ کیوی گیند باز رچرڈ ہیڈلی کی گیند 7 کھلاڑیوں کو ایل بی ڈبلیو دیا گیا تھا۔

دوسرا ٹیسٹ کرائسٹ چرچ میں تھا۔ امپائرنگ کی صورتحال یہاں بھی پہلے میچ جیسی ہی تھی اور مہمان کھلاڑی سخت غصے میں نظر آ رہے تھے۔ ویسٹ انڈین گیند باز کولن کرافٹ نے ہیڈلی کو ایک باؤنسر پھینکی جو ان کے دستانوں کو چھوتی ہوئی وکٹ کیپر کے ہاتھوں میں گئی۔ تاہم زوردار اپیل کے باوجود انھیں ناٹ آؤٹ قرار دیا گیا۔ اگلی گیند پر امپائر فریڈ گڈال نے نو بال کا اشارہ کردیا۔ یہ کرافٹ کے لیے برداشت سے باہر تھا۔ وہ اگلی گیند کرانے کے لیے دوڑے تو گیند پھینکنے سے پہلے امپائر کو زور سے کہنی مار دی۔ اس ضرب نے فریڈ کو شدید تکلیف میں مبتلا کردیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کرافٹ آج بھی یہی دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے جان بوجھ کر ٹکر نہیں ماری تھی۔ ہمیں تو وڈیو ثبوت ان کے حق میں نہیں دکھائی دیتا۔

یہ بھی پڑھیں:  جنوبی افریقہ کی تاریخی کامیابی ریکارڈز کی نظر سے

بہرحال، قصہ مختصر یہ کہ امپائروں کی مہربانیوں کا سلسلہ یونہی دراز ہوتا رہا اور سیریز کا دوسرا اور تیسرا ٹیسٹ بغیر کسی فیصلے کے ختم ہوا۔ یوں نیوزی لینڈ کی کمزور ٹیم کالی آندھی کے خلاف سیریز جیتنے میں کامیاب ہوگئی۔ یہ ایک بڑی فتح تھی، لیکن اس کے حصول کے لیے ایسا طریقہ اختیار کیا گیا تھا کہ شاید فاتح ٹیم کے کھلاڑیوں کو بھی خلش محسوس ہوئی ہوگی۔ امپائر فریڈ گڈال نے اسی پر اکتفا نہیں کیا تھا، بلکہ ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے انھوں نے دورے کے اختتام پر عشائیے میں تقریر کرتے ہوئے نسل پرستانہ جملے بھی ادا کیے تھے۔

Colin-Croft

ایک طرف ناقص امپائرنگ تو دوسری طرف ویسٹ انڈین کھلاڑیوں کا رویہ بھی ایسا تھا جو شرفا کا کھیل کہلانے والے کھیل کے لیے مناسب نہیں تھا اور اسے بھی بعد ازاں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

شاید یہی وہ امپائرنگ تھی جس سے مستقبل میں ویسٹ انڈیز نے سبق سیکھا اور اپنے ملک میں ایسے امپائر تیار کیے جو مہمان ٹیموں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرسکیں جیسا اس کے ساتھ نیوزی لینڈ میں روا رکھا گیا۔ 2000ء کا پاک-ویسٹ انڈیز اینٹیگا ٹیسٹ یاد ہے نا؟

wasim-akram

Facebook Comments