دورۂ آسٹریلیا: شکست خوردہ دستے پر ہی اعتماد

نیوزی لینڈ میں بے حال پاکستان نے دورۂ آسٹریلیا کے لیے بھی دستے کا اعلان کردیا ہے اور تمام تر توقعات کے برخلاف اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ مصباح الحق، جو اپنے سسر کی وفات اور بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی جانب سے ایک میچ کی پابندی کی وجہ سے، ہیملٹن میں جاری ٹیسٹ نہیں کھیلے تھے، ایک مرتبہ پھر قیادت سنبھالیں گے اور بلاشبہ اپنے اپنے کیریئر کا سب سے مشکل دورہ کریں گے۔

آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے لیے وہی 16 رکنی دستہ برقرار رکھا گیا ہے جو نیوزی لینڈ میں 31 سال بعد سیریز شکست کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ہیملٹن ٹیسٹ کے آخری روز پاکستان کو جیتنے کے لیے 368 رنز کی ضرورت ہے اور جیسی کارکردگی اب تک بلے بازوں نے دکھائی ہے، اس میں جیت کی توقع رکھنا عبث ہے۔ نیوزی لینڈ کو تین دہائیوں کی تاریخ بدلنے کے لیے صرف ڈرا کی ضرورت ہے کیونکہ وہ دو مقابلوں کی سیریز میں ایک-صفر کی ناقابل شکست برتری رکھتا ہے۔

اب آسٹریلیا جانا ہے، جہاں پاکستان آخری بار تمام ٹیسٹ، سارے ایک روزہ اور سب ٹی ٹوئنٹی مقابلے ہارا تھا۔ اب وہاں جانے سے ہلے حال یہ ہے کہ یونس خان سمیت تقریباً تمام ہی بلے باز ناکام ہیں اور انہیں 15 دسمبر سے برسبین ٹیسٹ کے ذریعے آسٹریلیا کا مقابلہ کرنا ہے۔ اب محض دو ہفتوں میں انہیں کون بھیڑ سے شیر بنائے گا؟ یہ ہیڈ کوچ مکی آرتھر اور کپتان مصباح الحق کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

سلیکشن کمیٹی نے کھلاڑیوں پر جو اعتماد کیا ہے، وہ اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ کھلاڑیوں کو بھرپور مواقع دیے جا رہے ہیں تاکہ محض ایک یا دو مقابلوں کے بعد نکالے جانے سے یہ تاثر پیدا نہ ہو کہ کسی کھلاڑی کو اچھی طرح نہیں آزمایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  وکٹیں گنوانے والے بلے بازوں سے سختی سے پیش آئیں: آفریدی کا مصباح کو مشورہ

پاکستان برسبین کے بعد 26 دسمبر سے ملبورن میں روایتی "باکسنگ ڈے ٹیسٹ" کھیلے گا جبکہ سال نو کا ٹیسٹ 3 جنوری سے سڈنی میں ہوگا۔

اعلان کردہ دستہ ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے:

مصباح الحق (کپتان)، اسد شفیق، اظہر علی، بابر اعظم، راحت علی، سرفراز احمد، سمیع اسلم، سہیل خان، شرجیل خان، عمران خان سینئر، محمد رضوان، محمد عامر، محمد نواز، وہاب ریاض، یاسر شاہ اور یونس خان۔

Mohammad-Amir

Facebook Comments