اسد شفیق کی سنچری رائیگاں؛ برسبین ٹیسٹ آسٹریلیا کے نام

آسٹریلیا نے پاکستان کو پہلے ٹیسٹ میں 39 رنز سے شکست دے کر سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی ہے۔ گزشتہ ماہ نیوزی لینڈ کی تیز وکٹوں پر مصباح الیون نے جس نوعیت کی کارکردگی پیش کی تھی اس کے بعد آسٹریلیا کے خلاف برسبین ٹیسٹ کے نتیجے پر زیادہ حیرانی نہیں ہوئی۔ لیکن اس ٹیسٹ کا سب زیادہ مثبت اور قابل ذکر پہلو گرین شرٹس کی دوسری اننگز میں جان توڑ کوشش رہی۔ پہلی اننگ میں بھیانک ناکامی کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں نے دوسری اننگ میں جس طرح میچ کا پانسہ پلٹنے کی کوشش کی اس سے جہاں گرین ٹیم کو حوصلہ ملا وہیں کینگروز کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ اس کا ثبور آسٹریلوی کپتان کے اس اعتراف سے لگایا جاسکتا کہ میچ کے دوران شدید تناؤ کے باعث وہ اپنی تمام انگلیوں کے ناخن چبا گئے۔

دوسری اننگز میں پاکستانی دستے کی بہترین کارکردگی کا سہرا اسد شفیق کے سر جاتا ہے۔ اس شفیق اس وقت میدان میں اترے کہ جب اوپنرز اور مڈل آرڈر ہمت ہار کر پویلین لوٹ چکے تھے اور میچ تقریبا پاکستان کے ہاتھ سے نکلتا نظر آ رہا تھا۔ مگر اسد زبردست جرات اور دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے 137 رنز کی بہترین باری کھیلی۔ اس موقع پر ٹیل اینڈرز نے بھی بھرپور ذمہ داری کا ثبوت دیا۔ محمد عامر کے 48 رنز، وہاب کے 30 رنز اور یاسر کے 33 رنزوں میں سمیع اسلم، بابر اعظم، یونس خان اور مصباح الحق کے لیے واضح پیغام تھا اگر وہ سنبھل کر کھیلتے تو میچ کا نتیجہ مختلف ہوسکتا تھا۔

برسبین ٹیسٹ کی شروعات میں آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا انتخاب کیا۔ پریکٹس میچ میں شاندار گیندبازی کا مظاہرہ دیکھنے کے بعد پاکستانی تیز گیندبازوں سے اچھی امیدیں وابستہ ہو چکی تھیں کہ کینگروز کو اچھی طرح نمٹ لیں گے مگر میٹ رینشا اور وارنر کی اوپنر جوڑی نے 70 رنز کا آغاز فراہم کر کے اپنی ٹیم کی مضبوط پوزیشن پر لا کھڑا کیا۔ بعد میں محمد عامر اور یاسرشاہ نے وارنر اور عثمان خواجہ کی وکٹیں حاصل کر کے آسٹریلیا کو پریشانی میں مبتلا کیا مگر آسٹریلوی کپتان اسٹیون اسمتھ اور پیٹر ہینڈزکومب نے جلد ٹیم کو اس کیفیت سے نکال کر میچ پر گرفت مضبوط تر کرلی۔ دونوں کی سنچریوں نے گرین دستے سے جیت کی امید چھین لی اور میزبان دستے کو اس مقام پر کھڑا کر دیا جہاں سے شکست تقریبا ناممکن لگنے لگی۔ بعد میں آنے والے بلے بازوں نے بھی اپنا بھرپور حصہ ڈالا حتی کہ آخری وکٹ تک 429 رنز کا پہاڑ جتنا اسکور پاکستان کے سامنا کھڑا ہوچکا تھا۔ آسٹریلوی اننگ تمام کرنے میں محمدعامر اور وہاب نے 4، 4 شکار کیئے جبکہ یاسرشاہ کے حصے میں صرف دو وکٹیں آئیں۔

Peter Handscomb austrailia pakistan

پاکستان ٹیم اور شائقین اتنا بڑا ہدف دیکھ کر ہی حوصلہ ہار چکے تھے۔ دبئی یا شارجہ کے میدان ہوتے تو بات اور تھی لیکن یہاں تو پاکستانی بلے بازوں کا سامنا تیز وکٹوں اور دنیائے کرکٹ کی بہترین تیز گیند بازوں میں سے تھا۔ بہرحال، وہی ہوا جس کا ڈر تھا اور پہلی اننگز میں پاکستان کی پوری ٹیم صرف 55 اوورز میں 142 رنز ہی جمع کرپائی۔ آسٹریلیا کی شاندار گیند بازی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے 7 بلے باز تو دوہرا ہندسہ بھی عبور نہ کر سکے۔ سب سے قابل ذکر کارکردگی وکٹ کیپر بلے باز سرفراز احمد کی رہی جنہوں نے 59 رنز بنائے۔ گیند بازی میں غیر متاثر کارکرگی دکھانے والے محمد عامر بھی 21 رنز بنا کر نمایاں رہے۔ آسٹریلیا کی جانب سے مچیل اسٹارک، جوش ہیزلووڈ اور جیکسن برڈ نے 3، 3 وکٹیں حاصل کیں اور اپنی ٹیم کو 287 رنز کی سبقت دلوائی۔

میزبان ٹیم کے پاس فالو آن کروانے آپشن موجود تھا مگر کپتان اسمتھ نے بلے بازی کا فیصلہ کیا۔ یہ وہ فیصلہ تھا کہ جس کے بارے میں سوچ سوچ کر آسٹریلوی کپتان اپنے ناخن چبائے ہوں گے۔ پاکستانی گیند باز دوسری اننگز میں نسبتاً بہتر رنگ میں نظر آئے۔ 12 اور 24 رنز کے مجموعے پر دونوں اوپنر عامر اور راحت کا شکار ہوئے تو کینگروز کے ڈریسنگ روم میں پریشانی کی جھلک دیکھی جاسکتی تھی۔ تاہم بعد ازاں عثمان خواجہ اور کپتان اسمتھ نے ایک مرتبہ پھر حالات کو سنبھالا اور بالترتیب 74 اور 63 رنز کی شاندار اننگ کھیل کر میچ کو آسٹریلیا کے حق میں کردیا۔ 202 رنز کے مجموعے تک پہنچنے تک آسٹریلیا کے صرف پانچ کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔ اس موقع پر کپتان کپتان نے دلیرانہ فیصلہ کیا اور اننگ ڈیکلئر کرنے کا اعلان کردیا۔ یوں پاکستان کو دوسری اننگ میں جیت کے لئے 490 رنز کا ایسا ہدف ملا کہ جسے دیکھ کر پاکستان کی شکست کی پیش گوئی کی جانے لگی۔

پہلی اننگز کی طرح پاکستانی بلے بازوں نے دوسری اننگز کا آغاز بھی انتہائی مایوس کن انداز سے کیا۔ 31 رنز پر سمیع اسلم مچل اسٹارک کا شکار ہو جس کے بعد بابر اعظم بھی 14 رنز کے ساتھ پویلین سدھار گئے۔ اس موقع پر اظہر علی نے بہتر کھیل پیش کیا اور مسلسل دو ساتھیوں کو کھونے کے باوجود رنز بنانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ پہلی اننگز میں گولڈن ڈک حاصل کرنے والے یونس خان نے اظہر علی سے سبق سیکھتے ہوئے زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ اظہر اور یونس نے دونوں نے نصف سچریاں بنائیں تو گرین دستے کو کچھ حوصلہ ملا۔ تاہم 145 کے مجموعے پر اظہر علی 71 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو کپتان مصباح بھی زیادہ دیر میدان میں نہ ٹک سکے۔ یوں پاکستان ایک بار پھر مزید مشکلات سے دوچار ہوگیا۔ اس نازک صورتحال میں اسد شفیق سے امید رکھنے یا نہ رکھنے پر اختلاف رہا جسے انہوں نے شاندار اور تاریخی اننگ کھیل کر مٹا دیا۔ 207 گیندوں پر 1 چھکے اور 13 چوکوں کے ساتھ اپنے ٹیسٹ کیریئر کی بہترین اننگز کھیل کر اسد نے نہ صرف آسٹریلیا کی نام میں دم کیا بلکہ پاکستان سے ناامیدی کی بادل بھی چھٹ گئے۔ محمدعامر، یاسر شاہ اور وہاب ریاض نے اسد شفیق کا جس طرح ساتھ دیا وہ قابل تعریف ہے۔ تین ٹیل اینڈرز نے بالترتیب 48، 33 اور 30 رنز جوڑے۔

برسبین ٹیسٹ کا چوتھا روز مکمل ہوا تو ایک بار پھر ٹیسٹ کے نتیجے پر بحث شروع ہوئی۔ ابتدا ہی سے آسٹریلیا کو فیورٹ قرار دینے والے بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئی کہ اسد شفیق کی وجہ سے میچ کا نتیجہ مختلف بھی ہوسکتا ہے۔ تاہم پانچویں اور فیصلہ کن دن کے آغاز میں ہی پاکستان کی باقی ماندہ دونوں وکٹیں ایک ہی اوور میں گر گئیں اور آسٹریلیا میچ جیت گیا۔ گو کہ میزبان ٹیم نے پہلا ٹیسٹ اپنے نام کرلیا مگر پاکستان نے نتیجے تک جس طرح مردانہ وار مقابلہ کیا اس کی تعریف بنتی ہے۔ اسد شفیق اپنی شاندار کارکردگی کی بنیاد پر مرد میدان قرار پائے۔

asad shafiq austrailia pakistan

Facebook Comments