پاکستانی کرکٹر حسن رضا عرب امارات کی نمائندگی کے لیے پرعزم

پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس کھلاڑیوں کو انتخاب یا فارغ کرنے کی کوئی باقائدہ حکمت عملی نہیں ہے۔ اس وجہ سے جہاں کئی نوجوان باصلاحیت کھلاڑی ضائع ہوئے وہیں زائدالعمر ہونے کے باوجود کئی نام ٹیم سے چپکے رہ گئے۔ ایسے ہی حالات سے دوچار کھلاڑیوں میں سے ایک حسن رضا بھی ہیں۔

حسن رضا نے صرف 14 سال کی عمر میں 20 اکتوبر 1996 کو زمبابوے کے خلاف ٹیسٹ کیپ حاصل کی۔ تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں گزشتہ دس سالوں سے مکمل طور پر نظرانداز کر رکھا ہے۔ لیکن اب لگتا ہے حسن رضا نے پی سی بی کے بلاوے کے طویل انتظار کے بعد مایوس ہو کر اپنی قسمت کو کہیں اور تلاشنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ ممکنہ طور پر متحدہ عرب امارات ہوسکتا ہے۔

ٹیسٹ کرکٹر حسن رضا کو عرب امارات کی جانب سے کھیلنے کی اجازت ملنے میں اب چھ ماہ کا ہی عرصہ بچا ہے کیونکہ آئی سی سی قوانین کے مطابق کسی دوسرے ملک سے کھیلنے سے پہلے 4 سال انتظار کرنا ضروری ہے۔ 34 سالہ مڈل آرڈر بلے باز یو عرب امارات کی جانب سے کھیلنے کے لئے بہت پرجوش اور بے تاب نظر آتے ہیں۔ حسن کا کہنا ہے کہ گرین دستے کی طرف سے میں نے آخری ٹیسٹ 2005 میں انگلینڈ کے خلاف کھیلا تھا اور اس کے بعد سے اب تک مجھے ٹیم کے لئے متنخب نہیں کیا گیا اور دوسرے ملک کی نمائندگی کا فیصلہ اسی مایوسی کا ردعمل ہے۔

یاد رہے کہ حسن رضا پاکستان میں مقامی کرکٹ کا حصہ رہے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ وہ قائداعظم ٹرافی میں پاکستان ٹیلی ویژن کی نمادگی کرتے آرہے ہیں بلکہ گزشتہ ماہ عرب امارات میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلے گئے دو پریکٹس میچوں میں بھی گرین ٹیم کا حصہ تھے۔ ہر کھلاڑی کی طرح حسن رضا بھی بین الاقوامی مقابلوں میں قومی ٹیم کی نمائندگی کرنا چاہتے تھے لیکن پاکستان میں اپنی خواہش پوری ہونے کے امکانات نہ دیکھ کر انہوں نے بحالت مجبوری یہ قدم اٹھایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اعتراف،سزا،معافی۔۔۔۔بات ختم؟
hasan raza pakistan test

Facebook Comments