پاک-آسٹریلیا ایک روزہ سیریز برابر، 10 دلچسپ اعداد و شمار

پاکستان کرکٹ ٹیم ایک عرصے سے سخت تنقید کی زد میں ہے۔ ہر دوسرے شعبے کی طرح قومی ٹیم کے ناقدین بھی انتہا پسندی کے شکار نظر آتے ہیں۔ خراب کارکردگی پر تنقید کا حق ہر درد دل رکھنے والے کو حاصل ہے لیکن ضرورت سے زیادہ تنقید سے نہ کبھی فائدہ ہوا ہے اور نہ ہوگا۔ بہرحال، گزشتہ کئی ماہ میں ٹیم نے شائقین کو خوشیوں کے کم ہی مواقع فراہم کیے ہیں۔ اب سے چند ماہ قبل مصباح الحق کی قیادت میں ٹیسٹ ٹیم اچھا کھیل رہی تھی لیکن مسلسل ٹیسٹ مقابلوں میں شکست اور عالمی درجہ بندی میں تنزل کے بعد ناامیدی کی فضا بن چکی ہے۔ وہ لوگ بھی منہ چھپانے پر مجبور ہیں جو پاکستان کو بہترین ٹیسٹ ٹیم گردانتے تھے اور وہ بھی جان چکے ہیں کہ اب 'بہترین' بننے کے لیے بہت پاپڑ بیلنے پڑیں گے۔

محدود اوورز کی کرکٹ میں تو جو حال ہے، وہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ یہ کہنا بالکل بھی غلط نہ ہوگا کہ ون ڈے میں ٹیم کی کارکردگی دیگر تمام طرز کی کرکٹ سے زیادہ بری ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب عالمی کپ 2019ء میں براہ راست شمولیت کے بھی لالے پڑ گئے ہیں۔ اگر آسٹریلیا کے دورے پر پاکستان ایک میچ بھی نہ جیت پاتا تو غالباً کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلنا یقینی ہو جاتا۔ لیکن پہلے مقابلے میں شکست کے بعد جب جیت کی تمام تر امیدیں ختم ہو چکی تھیں، پاکستان نے ایک مرتبہ پھر "ناقابل یقین" ہونے کا ثبوت دیا اور دنیا کی بہترین ٹیم کو اس کے گھر میں شکست دے دی۔

پاک آسٹریلیا سیریز اس وقت ایک-ایک سے برابر ہے اور تیسرے ایک روزہ سے پہلے دیکھتے ہیں اس سیریز کے 10 دلچسپ اعداد و شمار:

1 - محمد حفیظ پہلے اسپنر ہیں کہ جنہیں گابا میں باؤلنگ اننگز کی شروعات کرنے کا موقع ملا۔ یاد رہے کہ پہلے ایک روزہ مقابلے میں پاکستان کی جانب سے محمد حفیظ اور محمد عامر نے گیند بازی کی ابتداء کی تھی۔

2 - میتھیو ویڈ نے پہلے ایک روزہ میں ساتویں نمبر پر بلے بازی کرتے ہوئے سنچری بنائی اور اپنا نام ان کھلاڑیوں کی فہرست میں لکھوا لیا کہ جو نصف ٹیم کے پویلین لوٹ جانے کے بعد کریز پر آئے اور 100 سے زائد رنز بھی بنائے۔ وہ یہ کارنامہ انجام دینے والے دوسرے آسٹریلوی کھلاڑی ہیں۔ اس سے قبل جیمز فاکنر بھی یہ ایسی ہی کارکردگی پیش کرچکے ہیں۔ دیگر ممالک کی بات کریں تو اب تک صرف 14 بلے باز ہی ایسے ہیں کہ جنہیں ساتویں یا اس سے نیچے نمبر پر بلے بازی کا موقع ملا اور انہوں نے سنچری اننگز کھیلی۔ اس فہرست میں پاکستانی آل راؤنڈر عبدالرزاق کا نام بھی شامل ہے۔ انہوں نے 2010ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف ایک تاریخی میچ میں ناقابل یقین اور فتح گر سنچری بنائی تھی۔

3 - دوسرے ایک روزہ کے مرد میدان قرار پانے والے محمد حفیظ مجموعی طور پر 15 مرتبہ یہ اعزاز حاصل کرچکے ہیں۔ یہ 2010ء سے اب تک کسی بھی پاکستانی کھلاڑی کے حاصل کردہ سب سے زیادہ مین آف دی میچ ایوارڈز ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  اعتراف،سزا،معافی۔۔۔۔بات ختم؟

4 - پاکستان نے آسٹریلیا کو آسٹریلیا ہی کی سرزمین پر ایک روزہ مقابلے میں 12 سال بعد شکست دی۔ مقابلوں کی تعداد کے اعتبار سے دیکھیں تو پاکستان تمام طرز میں 17 مقابلوں میں شکست کھانے کے بعد کسی مقابلے میں فتح یاب ہوا۔

5 - محمد حفیظ نے پہلی مرتبہ ایک روزہ مقابلوں میں پاکستان کی قیادت کی اور ایک دلچسپ ریکارڈ اپنے نام کیا۔ اس وقت محمد حفیظ کی عمر 36 سال اور 90 دن تھی۔ یوں وہ ایک روزہ میں پاکستان کی قیادت سنبھالنے والے معمر ترین کپتان بن چکے ہیں۔ اس سے پہلے یہ اعزاز سابق کپتان سرفراز نواز کو حاصل تھا جنہوں نے 35 سال اور 16 دن کی عمر میں پہلی بار ٹیم کی قیادت کی تھی۔

6 - پاکستان کے خلاف دوسرے ایک روزہ میں اسٹیون اسمتھ نے 91 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی۔ یہ نہ صرف خود اسٹیون اسمتھ کی سست ترین انفرادی اننگز ہے بلکہ پچھلے 7 سالوں میں کسی بھی آسٹریلوی بلے باز کی سست ترین نصف سنچری ہے۔

7 - گزشتہ 20 مقابلوں میں یہ دوسرا موقع ہے کہ جب پاکستانی گیند بازوں نے مقررہ اوورز ختم ہونے سے پہلے آسٹریلیا کی پوری ٹیم کو پویلین کی راہ دکھائی۔ اس سے قبل عالمی کپ 2011ء کے دوران کولمبو میں کھیلے گئے مقابلے میں پاکستانی گیند بازوں نے آسٹریلیا کے تمام کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔

8 - دوسرے ایک روزہ میں پاکستانی قائد محمد حفیظ نے 72 رنز کی اننگز کھیلی۔ یوں وہ چھٹے پاکستانی کپتان بنے کہ جنہوں نے بطور قائد اپنے پہلے ہی میچ میں نصف سنچری یا زائد رنز بنائے۔ اس سے قبل اظہر علی بھی بنگلہ دیش کے خلاف بطور کپتان اپنے پہلے میچ میں نصف سنچری اسکور بنا چکے ہیں۔

9 - بابر اعظم 47 رنز کمی کے باعث ایک بڑے اعزاز سے محروم ہوگئے۔ انہیں ایک روزہ بین الاقوامی کیریئر میں تیز ترین 1000 رنز بنانے کے لیے اس میچ میں 81 رنز بنانے تھے تاہم وہ صرف 34 رنز ہی اسکور کر پائے۔ بہرحال، بابر اعظم کے پاس موقع ہے کہ وہ اگلی اننگز میں 47 رنز سے زائد بنا کر ویون رچرڈز کا ریکارڈ برابر کردیں۔ ویسے کوئنٹن ڈی کوک، کیون پیٹرسن اور جوناتھن ٹراٹ پہلے ہی یہ ریکارڈ برابر کر چکے ہیں۔

10 - پاکستان نے آسٹریلیا کو شکست دے کر میلبرن میں میزبان ٹیم کی مسلسل 9 فتوحات کا سلسلہ بھی ختم کردیا۔ اس میدان میں آسٹریلیا کو آخری مرتبہ سال 2013ء میں سری لنکا کے ہاتھوں 9 رنز کی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اب پاکستان اور آسٹریلیا کا تیسرا ایک روزہ 19 جنوری کو پرتھ میں کھیلا جائے گا۔ امید ہے کہ پاکستان نے اس ون ڈے سے بہت کچھ سیکھا ہوگا اور کھلاڑیوں کے حوصلے بھی بلند ہوئے ہوں گے۔ البتہ یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ آسٹریلیا جیسی باصلاحیت ٹیمیں پہلے سے زیادہ شدت اور بھرپور تیاری سے پلٹتی ہیں۔ چونکہ آسٹریلیا کو ہوم گراؤنڈ کا بھی فائدہ حاصل ہے اس لیے پاکستان کو بہترین منصوبہ بندی اور زیادہ تیاری کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا۔

Billy-Stanlake

Facebook Comments