قلندرز چکرا گئے، کوئٹہ کی شاندار جیت

پاکستان سپر ليگ کا دوسرا مقابلہ دکیھنے کے بعد یہ کہنا پڑے گا کہ دوسرے سیزن میں بھی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی خوش قسمتی اور لاہور قلندرز کی بدقسمتی برقرار ہے۔ دبئی میں ہونے والے دونوں ٹیموں کے پہلے مقابلے میں کوئٹہ نے صرف 8 رنز سے کامیابی حاصل کی۔ یوں پچھلے سال کے رنر اپ نے فاتحانہ آغاز لیا۔

لاہور کے کپتان برینڈن میک کولم نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا اور قلندروں نے یہاں اپنا کمال تو دکھا ہی دیا۔ کوئٹہ کی پوری ٹیم کو صرف 136 رنز پر ڈھیر کردیا۔ کوئٹہ کی طرف سے اسد شفیق اور احمد شہزاد نےبلے بازی کا آغاز کیا۔ تیسرے اوور میں احمد شہزاد کی وکٹ گرتے ہی پوری ٹیم کاحوصلہ گر گیا۔ کیون پیٹرسن اور کپتان سرفراز احمد سے بھرپور امیدیں تھیں لیکن دونوں خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے۔ بالترتیب تین اور ایک رن بنا کر پویلین لوٹ آئے۔ اس کے بعد کے بلےبازوں نے باقی کسر بھی پوری کر دی سوائے ریلی روسو اور اسد شفیق کے کوئی بھی جم کر نہ کھیل سکا۔ روسو نے 60 اور اسد نے 29 رنز بنائے اور اننگز بمشکل 136 رنز تک پہنچ سکی۔ لاہور کی جانب سے محمد عرفان نے تین اور سہیل تنویر اور سنیل نرائن نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

چھوٹے ہدف کے تعاقب میں لاہور قلندرز کے کپتان برینڈن میک کولم اور جیسن روئے نے جارحانہ آغاز کیا۔ صرف 3 اوورز میں ہی لاہور 34 رنز جڑ چکا تھا اور ایسا لگتا تھا کہ جیت اب زیادہ دور نہیں۔ یہاں پر کوئٹہ کے ذوالفقار بابر نے یکے بعد دیگرے دونوں وکٹیں حاصل کرکے قلندروں پر پہلا کاری وار لگایا۔ روئے نے 27 اور میک کولم نے 20 رنز بنائے۔ یہیں سے لاہور کا زوال شروع ہوا۔ بعد میں آنے والوں میں صرف گرانٹ ایلیٹ اور سنیل نرائن ہی 26، 26 رنز کے ساتھ کچھ مزاحمت کر سکے ورنہ فخر زمان صرف 11 اور محمد رضوان 5 رنز پر ہی ہمت ہار گئے۔ امیدوں کے محور عمر اکمل کی اننگز تو صفر پر ہی تمام ہوئی۔ 19 ویں اوور میں یاسر شاہ کے آؤٹ ہوتے ہی لاہور کی اننگز 128 رنز پر ختم ہوئی۔

ذوالفقار بابر کے علاوہ محمد نواز اور حسن خان نے دو، دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ حسن خان کو میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ملا ۔

اب لاہور اپنا اگلا مقابلہ سنیچر کو دفاعی چیمپیئن اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف کھیلے گا جبکہ اسی روز رات کو دوسرے مقابلے میں کوئٹہ کا مقابلہ کراچی سے ہوگا۔

Rilee-Rossouw

Facebook Comments