شرجیل اور خالد پر تاحیات پابندی کا خطرہ

تازہ ترین اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل نے پاکستان کرکٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس ہنگامے کے دو مرکزی کردار شرجیل خان اور خالد لطیف فوری طور پر وطن واپس بھیج دیے گئے تھے اور ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں نے اعترافِ جرم کرلیا ہے اور اب ہو سکتا ہے کہ ان پر تاحیات پابندی عائد کردی جائے۔

یہ دو لحاظ سے بہت افسوس ناک بات ہے، ایک تو دونوں کھلاڑیوں نے عرصے تک ڈومیسٹک کرکٹ میں محنت کی اور ملک کی نمائندگی کا اعزاز پایا، دوسرا چیئرمین پی سی بی شہریار خان کا کہنا ہے کہ اسی روز کھلاڑیوں کو اینٹی کرپشن یعنی انسدادِ بدعنوانی پر لیکچر دیے گئے تھے، جن میں یہ دونوں بھی شامل تھے۔ اس کے باوجود ایسی حرکت کرنا نہ صرف شرجیل اور خالد بلکہ پورے پاکستان کے لیے شرمناک ہے۔

پاکستان سپر لیگ کے دوسرے سیزن میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی نمائندگی کرنے والے شرجیل خان اور خالد لطیف پر الزام ہے کہ ان کی ایک مشتبہ سٹے باز سےملاقات ہوئي تھی اور قانون کے مطابق انہوں نے حکام کو اس بارے میں مطلع نہیں کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چند گیند ضائع کرنے کے عوض شرجیل خان کو رقم کی پیشکش کی گئی تھی اور سودا منظور ہونے کی صورت میں اگلے روز انہیں اپنے بیٹ پر وہ مخصوص گرپ لگا کر میدان میں اترنا تھا جو سٹے باز نے فراہم کی تھی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے دونوں کھلاڑیوں کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کردیا ہے۔ لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چيئرمین شہریار خان نے کہا کہ دونوں کھلاڑیوں کو اپنا موقف واضح کرنے کا پورا موقع دیا جائے گا اور معاملے کی تحقیقات ایک سینئر جج کی زیر صدارت ہوگی۔ "کوئی یہ نہ سمجھے کہ اسے دو یا تین سال کی سزا کے بعد چھوڑ دیا جائے گا، ہم ایک مثال بنانا چاہتے ہیں۔"

یہ بھی پڑھیں:  لہولہو...لہور!!

شہریار خان نے مزید بتایا کہ محمد عرفان، شاہ زیب حسن اور ذوالفقار بابر سے بھی اس معاملے پر پوچھ گچھ کی گئی تھی تاہم انہیں پی ایس ایل کھیلنے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ عرفان اب بھی زیر تفتیش ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ انہیں بھی نوٹس جاری کیا جائے البتہ شاہ زیب اور ذوالفقار کو شفاف قرار دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں کھلاڑیوں نے تسلیم کیا ہے کہ سٹے باز سے ملاقات کے بارے میں حکام کو مطلع نہیں کیا۔ خالد لطیف کہتے ہیں وہ شرجیل کے اصرار پر اس شخص سے ملے اور ان کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔

Sharjeel-Khan-Khalid-Latif

Facebook Comments