’’چھوٹوز‘‘...بڑوں سے بھی آگے!

ٹی20نوجوانوں کا کھیل ہے...یہ ایسا بیان ہے جو ہر چند دن بعد سننے کو ملتا ہے لیکن پاکستان سپر لیگ کا پہلا مرحلہ ختم ہونے کے بعد یہ بات بالکل سچ ثابت ہورہی ہے کیونکہ اس لیگ میں اب تک تمام ٹیموں نے چار چار میچز کھیل لیے ہیں مگر ان میچز میں بہت سے بڑے نام مکمل طور پر ناکامی کا شکار ہوئے ہیں جن میں خاص طور پر کیون پیٹرسن، کرس گیل ،کمار سنگاکارااور برینڈن میک کولم جیسے بڑے غیر ملکی اسٹارز بھی شامل ہیں جبکہ دوسری طرف کئی پاکستانی اسٹارز بھی اپنا اصل رنگ جمانے میں ناکام ہوئے ہیں لیکن پی ایس ایل ٹو کی سب سے عمدہ بات نوجوان اور خاص طور پر ایمرجنگ کھلاڑیوں کی غیر معمولی اور حوصلہ افزا پرفارمنس ہے جنہوں نے اتنے بڑے اسٹیج اور بڑے بڑے ناموں کے دباؤ تلے دبنے کی بجائے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور انداز میں ثبوت دیا ہے جس نے نہ صرف ان نوجوانوں کا مستقبل روشن کردیا ہے بلکہ یہ ثبوت بھی دے دیا ہے کہ پاکستان کرکٹ میں صلاحیت کی آمد پورے زور و شور سے جاری ہے۔

دنیا بھر میں کھیلی جانے والی لیگز کی طرح پی ایس ایل میں بھی اس قانون کی پاسداری کی جاتی ہے کہ فائنل الیون میں چار غیر ملکی کھلاڑیوں کیساتھ ساتھ ایک ایمرجنگ پلیئر کو بھی شامل کیا جائے اور اس قانون کی وجہ سے ایمرجنگ کھلاڑیوں کا کردار بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہوگیا ہے ۔اس لیے آنکھیں بند کرکے کسی بھی کھلاڑی پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ پی ایس ایل ڈرافٹ میں جن دس ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کا انتخاب ہواان میں لاہور قلندرز نے عثمان قادر اور غلام مدثر کو منتخب کیا ، کراچی کنگز کے اسکواڈ میں ابرار احمد اور عبدالامیر نے جگہ بنائی۔ پشاور زلمی نے اس درجہ بندی میں حسن علی اور محمد اصغر کو برقرار رکھا اور اسی طرح اسلام آباد کے ایمرجنگ کھلاڑی بھی گزشتہ برس کی طرح اس مرتبہ بھی حسین طلعت اور عماد بٹ رہے جبکہ کوئٹہ نے حسان خان اور نورولی پر بھروسہ کیا۔ ان کھلاڑیوں کے علاوہ سپلیمنٹری کیٹیگری میں منتخب ہونے والے شاداب خان(اسلام آباد) اور محمد عرفان(لاہور) بھی اپنی صلاحیتوں کا ثبوت دے رہے ہیں۔

ان کھلاڑیوں میں اکثر کو زیادہ مواقع نہیں مل سکے لیکن راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے لیگ اسپنر شاداب خان اور کراچی سے اُبھرنے والے حسان خان بھرپور انداز میں اپنی خام صلاحیتوں سے دیکھنے والوں کو متاثر کررہے ہیں۔بائیں ہاتھ کے اسپنر حسان خان نے کراچی کی گلیوں سے اپنی کرکٹ کا آغاز کیا اور پاکستان کی جونیئر ٹیم سے ہوتا ہوا پی ایس ایل کا حصہ بننے میں کامیاب ہوگیا ۔ دبئی میں لاہور قلندرز کیخلاف ڈیبیو کرتے ہوئے حسان خان نے گیارہ بالز پر نہ صرف 16رنز بنائے 16گیندوں پر صرف 10رنز دیتے ہوئے دو کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔کراچی کیخلاف وکٹ سے محروم رہنے والے بالر نے دو اوورز میں14رنز دیے جس کے بعد چار اوورز کے اسپیل میں 24رنز کے بدلے مصباح الحق کی وکٹ کھبے بالر کی زندگی کا یادگار لمحہ بن گیا۔اسی طرح پشاور کیخلاف دو اوورز میں صرف آٹھ رنز دے کر کامران اکمل کو ایک عمدہ گیند پر پویلین کی راہ دکھا کر حسان خان نے ایونٹ میں اپنی دھاک بٹھا دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  شاداب جیسے نوجوانوں کو موقع چاہیئے!

18سالہ شاداب خان جونیئر کرکٹ کی پراڈکٹ ہے جس نے نہایت تیزی سے مراحل طے کرتے ہوئے پی ایس ایل میں جگہ بنائی ہے۔گزشتہ برس پاکستان اے کیساتھ دورہ انگلینڈ پر فرسٹ کلاس ڈیبیو کرنے والے شاداب خان نے لیگ اسپنر بننے کا فیصلہ شین وارن جیسے عظیم لیگ اسپنر کی بالنگ سے متاثر ہوکر کیا اور اب نوجوان کھلاڑی خود کو آسٹریلین کپتان اسٹیو اسمتھ کے سانچے میں ڈھالنا چاہتا ہے۔اپنی آل راؤنڈر صلاحیتوں کا پہلا بڑا ثبوت شاداب نے زمبابوے کیخلاف غیر سرکاری ٹیسٹ میچ میں دیا جب دائیں ہاتھ کے اسپن بالر نے نہ صرف میچ میں نو وکٹیں حاصل کرتے ہوئے جیت کا سامان کیا بلکہ 132رنز کی یادگار اننگز بھی کھیل ڈالی۔ راولپنڈی کیلئے ون ڈے اور ٹی20کرکٹ کھیلنے والے شاداب خان کیلئے اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم میں شامل ہونا کیرئیر کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا ہے جو تین میچز میں ابھی تک کوئی وکٹ حاصل نہیں کرسکا لیکن کوئٹہ کیخلاف چار اوورز میں صرف 19رنز دے کر نوجوان لیگ اسپنر نے خود کو بڑے اسٹیج پر منوانے کی کوشش کی ہے ۔ اعدادوشمار کے برعکس لیگ اسپنر کی آنکھوں سے جھلکتا ہوا اعتماد یہ ثابت کررہا ہے کہ کم عمر کھلاڑی کا مستقبل بہت روشن ہے۔

حسان خان اور شاداب خان نے مواقع ملنے پر اپنی صلاحیتوں کو ثابت کیا ہے اس کے علاوہ لیگ اسپنر اُسامہ میر نے بھی انجری سے کم بیک کرنے کے بعد عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ یہ وہ کھلاڑی ہیں جنہیں پی ایس ایل نے ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے جس کی بنیاد پر یہ نوجوان اپنا مستقبل تابناک بناسکتے ہیں۔ غالباً یہی پی ایس ایل کی کامیابی ہے جس نے کم وقت میں نئے کھلاڑیوں کو منظر نامے پر لاکھڑا کردیا ہے ۔ اب یہ ان ’’چھوٹوز‘‘پر منحصر ہے کہ وہ مزید کتنی محنت کرتے ہوئے خود کو ’’بڑوں‘‘ کے مقابل کھڑا کرتے ہیں!

Sanga-Usama-Abrar

Facebook Comments