کراچی کا کھیل جم گیا، اسلام آباد کا سفر ختم

کراچی کنگز نے دفاعی چیمپیئن اسلام آباد یونائیٹڈ کو 44 رنز کے واضح فرق سے شکست دے کر ٹائٹل کی دوڑ سے باہر کردیا ہے اور اب وہ تیسرے پلے آف میں پشاور زلمی کا سامنا کرے گا۔ اس مقابلے کی خاص بات کراچی کی جانب سے صرف 127 رنز کا کامیابی سے دفاع کرنا تھا جس کے جواب میں اسلام آباد یونائیٹڈ صرف 82 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

شارجہ میں ہونے والے پی ایس ایل2 کے اس آخری مقابلے میں اسلام آباد نے ٹاس جیتا اور پہلے کراچی کو بلے بازی کی دعوت دی۔ بابر اعظم اور کرس گیل میدان میں اترے اور انتہائی محتاط آغاز لیا یہاں تک کہ ابتدائی دو اوورز میں ایک رن تک نہیں بنا۔ تیسرے میں بابر اعظم نے محمد عرفان کو پے در پے چوکے رسید کیے اور 18 رنز لوٹے۔ کرس گیل نے رمان رئیس کو میچ کا پہلا چھکا رسید کیا لیکن اس کے فوراً بعد آؤٹ ہوگئے۔ شاداب خان کی پہلی گیند بابر اعظم کی اننگز کا خاتمہ کرگئی جو 21 گیندوں پر 25 رنز بنا چکے تھے۔ ساتویں اوور میں مجموعہ 45 رنز تھا اور دوسری وکٹ گرتے ہی کنگز دباؤ میں آ گغے۔ رنز بنانے کی رفتار سست ہوتی چلی گئی اور 10 اوورز میں اسکور بورڈ پر 68 رنز تھے جو اہم مقابلے کے لیے کافی نہیں دکھائی دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ کمار سنگاکارا اور شعیب ملک نے اننگز کو تیز کرنے کی کوشش کی اور تین چوکے بھی لگائے لیکن وکٹیں نہیں روک سکے۔ پہلے کپتان صاحب کا بلاوا آیا جو 16 رنز بنانے کے بعد شین واٹسن کی عمدہ حکمت عملی کا شاکر بنے اور اپنے ہم منصب مصباح الحق کو ایک آسان کیچ دے کر چلتے بنے۔ پھر روی بوپارا شاداب کی گیند پر امپائر کے اشارے پر آؤٹ قرار دیے گئے البتہ انہیں ریویو نے اکی نئی زندگی تھی۔ بیٹنگ کے لیے ناسازگار حالات دیکھتے ہوئے بلے باز مزید محتاط ہوگئے اور 15 ویں اوور کے اختتام پر کراچی کنگز کا اسکور تین وکٹوں پر تہرے ہندسے تک پہنچا تھا۔

اب آخری پانچ اوور کا اہم مرحلہ تھا اور یہیں پر اسلام آباد کے گیند باز چھا گئے۔ پہلے تو روی بوپارا شاداب کے ایک خوبصورت کیچ کا نشانہ بنے اور پھر شعیب ملک غیر ضروری رن دوڑنے کی کوشش میں وکٹ گنوا بیٹھے۔ دونوں نے بالترتیب 15 اور 25 رنز بنائے۔ اب معاملہ کیرون پولارڈ اور عماد وسیم کے ہاتھ میں تھا۔ عماد نے ایک شاندار چھکا بھی لگایا اور 17 ویں اوور میں مجموعے کو 115 تک پہنچایا لیکن آخری اوورز کراچی کے لیے بھیانک ثابت ہوئے۔ پہلے رمان نے دو مسلسل گیندوں پر عماد اور پولارڈ کو ٹھکانے لگایا اور پھر ہیٹ ٹرک کا موقع گنوانے کے بعد اسی اوور میں سہیل خان کو بھی واپسی کی راہ دکھا دی۔ آخری اوور میں محمد سمیع نے اسامہ میر اور عثمان خان کو بغیر کھاتہ کھولے اپنا شکار بنایا اور یوں کراچی کی اننگز مقررہ اوورز مکمل ہونے سے پہلے ہی 126 رنز پر تمام ہوگئی۔

اسلام آباد کے رمان رئیس نے صرف 25 رنز دے کر 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور ہر وکٹ لینے کے بعد ان کا جشن کا منفرد انداز کراچی کے بلے بازوں کے سینے پر مونگ دلتا رہا یہاں تک کہ عماد وسیم سے تو برداشت ہی نہیں ہوا جو پویلین واپسی سے پہلے ان کے ساتھ 'تو تو میں میں' کرتے ہوئے گئے۔ بہرحال، سمیع اور واٹسن نے دو، دو شکار کیے۔

کراچی نے بلے بازی میں آخری پانچ اوورز کے مرحلے میں صرف 26 رنز پر اپنی 7 وکٹیں گنوائیں اور ایسا لگتا تھا کہ مقابلے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ لیکن جب اسلام آباد کے بلے باز کھیلنے آئے تو محسوس ہوا کہ بلے بازی اتنی آسان نہیں ہے۔ کراچی نے محمد عامر کی گیند پر کپتان سنگاکارا کے ایک ناقابل یقین کیچ کی بدولت اپنا پہلا شکار کیا۔ ڈیوین اسمتھ واپس پہنچنے کے بعد ابھی پیڈ بھی نہ اتار پائے ہوں گے کہ عامر نے ایک ظلم ڈھا دیا اوربریڈ ہیڈن کو بولڈ کرکے اسلام آباد کو پہلی بار دباؤ میں لے آئے۔

ان مشکل حالات میں کپتان مصباح بلّا پکڑے میدان میں آئے اور آصف علی کے ساتھ مل کر8 اوورز میں مجموعے کو 47 تک لے آئے۔ حالات گرفت میں تھے جب عماد وسیم نے مقابلے کو پلٹا کھلایا اور مصباح الحق کو کلین بولڈ کرکے اکی اہم وکٹ حاصل کرلی۔ اگلے 10 اوورز میں درکار 72 رنز کچھ زیادہ تو نہیں تھے لیکن وکٹیں بچانا اس کے لیے شرط تھا جس میں اسلام آباد ناکام رہا۔ ایک کنارے سے عماد وسیم کم تھے کہ دوسرے سے اسامہ میر نے بھی اپنے کمال دکھانا شروع کردیے۔ واٹسن نے 13 رنز بنانے کے بعد عماد کو وکٹ دی تو شاداب خان اسامہ میر کا شکار بنے۔ اپنا پہلا میچ کھیلنے والے نکولس پورن نے عماد کو وکٹ دی تو اسلام آباد صرف 70 پر چھ کھلاڑیوں سے محروم ہو گیا۔

اب مقابلہ بہت ہی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکا تھا جہاں آصف علی کا موجود رہنا اسلام آباد کے لیے بہت ضروری تھا۔ کراچی نے اسامہ میر کی ایک خوبصورت گیند پر انہیں آؤٹ کرکے سکھ کا سانس لیا اور کچھ ہی دیر میں تمام وکٹیں سمیٹ لیں۔ محمد سمیع اور رمان رئیس صفر پر آؤٹ ہوئے جبکہ عماد بٹ نے 7 رنز بنائے۔ اسلام آباد 16 ویں اوور میں صرف 82 رنز پر آل آؤٹ ہوگیا اور یوں واپسی کے ٹکٹ کی تصدیق ہوگئی۔

کراچی کنگز کی جانب سے عماد وسیم، اسامہ میر اور محمد عامر نے 3،3 وکٹیں حاصل کیں اور میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز عماد وسیم کو دیا گیا۔

کراچی کے لیے تیسرے پلے آف تک پہنچنا کسی خواب سے کم نہیں۔ پی ایس ایل2 کا آغاز کنگز نے مسلسل تین شکستوں کے ساتھ کیا تھااور ابتدائی چھ مقابلوں میں سے صرف دو میں کامیابی حاصل کی تھی۔ لیکن لاہور کے خلاف پولارڈ کے دو چھکوں کی مدد سے شاندار کامیابی نے ٹیم میں نیا جذبہ بھر دیا اور اس کے بعد نہ صرف دفاعی چیمپیئن اسلام آباد کو آخری مقابلے میں شکست دے کر پلے آف میں جگہ بنائی بلکہ وہاں بھی اسلام آباد کے لیے کافی ثابت ہوا۔ رواں سیزن میں کراچی نے اسلام آبا دکے خلاف تینوں میچز جیتے جو ثابت کرتا ہے کہ ٹیم اب صحیح رخ پر روانہ ہوگئی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ جمعے کو پشاور زلمی کے خلاف ناک آؤٹ مقابلے میں کراچی کیا کارنامے دکھاتا ہے؟ اس مقابلے کی فاتح 5 مارچ کو لاہور میں ہونے والے فائنل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا مقابلہ کرے گا۔

Imad-Wasim

Facebook Comments