پی ایس ایل فائنل کھیلنے کون آ رہا ہے؟

پاکستان سپر لیگ آخری مرحلے تک آن پہنچی ہے اور ابھی متحدہ عرب امارات میں لیگ کا آخری مقابلہ جاری ہے۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز فائنل میں پہنچ چکے ہیں بلکہ اب تو فائنل کے میزبان لاہور بھی پہنچ ہی گئے ہوں گے جبکہ ابھی کراچی کنگز اور پشاور زلمی کے درمیان مقابلہ فیصلہ کرے گا کہ 5 مارچ کو قذافی اسٹیڈیم میں ہونے والے تاریخی مقابلے میں کوئٹہ کے مقابل کون ہوگا؟ لیکن اس سے پہلے ایک بہت بڑا سوال یہ ہے کہ کون سا غیر ملکی کھلاڑی فائنل کھیلے گا؟

پاکستان 2009ء میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد سے بین الاقوامی کرکٹ سے محروم ہے اور اب تک گزرے ہوئے 7 سالوں میں صرف ایک بین الاقوامی ٹیم زمبابوے نے پاکستان کا دورہ کیا ہے۔ پاکستان کے شائقین اپنے کھلاڑیوں کو میدانوں میں دیکھنے کے لیے ترس رہے ہیں اس لیے پاکستان سپر لیگ انتظامیہ کا یہ اعلان کہ فائنل لاہور میں ہوگا، بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن اس فیصلے کے نتیجے میں پی ایس ایل کی ٹیموں کو نقصان بھی پہنچا ہے بالخصوص کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو، جس کے تمام غیر ملکی کھلاڑیوں نے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے لاہور میں فائنل کھیلنے سے انکار کردیا ہے جن میں کیون پیٹرسن، رائلی روسو، لیوک رائٹ اور ٹائمل ملز بھی شامل ہیں۔ ان اہم کھلاڑیوں کے بغیر کوئٹہ فائنل میں کتنا طاقتور ہوگا؟ یہ تو تبھی اندازہ ہوگا جب ان کے متبادل کھلاڑیوں کا پتہ چلے۔ آج بالآخر یہ عقدہ بھی کھل گیا ہے کہ وہ کون سے غیر ملکی کھلاڑی ہیں جو لاہور میں ہونے والا پی ایس ایل فائنل کھیلنے کے لیے دستیاب ہیں۔ انتظامیہ نے ان 16 کھلاڑیوں کی حتمی فہرست جاری کی ہے جنہوں نے رضامندی ظاہر کی ہے۔ ان کا انتخاب لاہور کے فائنل میں نہ کھیلنے والے کھلاڑیوں کی جگہ پر کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  صلاحیت کی تلاش صرف پی ایس ایل سے کیوں؟

ویسے اس فہرست تک جانے سے پہلے آپ کو ایک اہم خبر بھی دیتے چلیں کہ کراچی کنگز کے روی بوپارا نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا ہے کہ اگر کراچی فائنل میں پہنچ جاتا ہے تو وہ لاہور جائیں گے۔ ان کے علاوہ پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی نے کہا ہے کہ ان کے تمام غیر ملکی کھلاڑی فائنل میں پہنچنے کی صورت میں کھیلنے کو تیار ہیں۔

اب تک جن کھلاڑیوں کے ناموں کی تصدیق ہوئی ہے انہیں پاکستان کے ویزے پہلے ہی جاری کردیے گئے ہیں۔ ان میں ٹی ٹوئنٹی کے کئی بڑے نام بھی موجود ہیں۔ انٹرنیشنل کرکٹ میں تیز ترین ٹی ٹوئنٹی کا ریکارڈ رکھنے والے جنوبی افریقہ کے رچرڈ لیوی اور ان کے ہم وطن مورنے وان ویک شامل ہیں۔ بنگلہ دیش کے انعام الحق کو ملک کے ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انگلینڈ کے اہم فاسٹ باؤلر جیڈ ڈرنباخ اور آل راؤنڈر اشعر زیدی، زمبابوے کے ایلٹن چگمبرا اور کريگ اروائن اور نیدرلینڈز کے بہترین بلے باز راین ٹین ڈیسکاٹے شامل ہیں۔ ان کے علاوہ انگلینڈ کے پٹیر ٹریگو، جوش کوب اور اظہر اللہ، زماببوے کے شان اروائن اور گریم کریمر اور ویسٹ انڈیز کے ریاد امرت، کیسرک ولیمز اور کرشمار سنتوکی شامل ہیں۔

Quetta-Gladiators

Facebook Comments