اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل اور جذباتیت

پاکستان سپر لیگ میں دو کھلاڑی فکسنگ کے شبہ میں پکڑے گئے اور اب ان کی تعداد دگنی ہوچکی ہے۔ کیس چل رہا ہے ،تفتیش ہورہی ہے اور ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں کچھ اور نام بھی سامنے آئیں۔ فرض کرتے ہیں کہ ان کھلاڑیوں پر جرم ثابت ہوجاتا ہے تو انہیں آئی سی سی کے قوانین کے مطابق سزا دی جائے گی اور اس سزا کا اطلاق کھلاڑیوں پر پابندی کی صورت میں ہوگا چاہے وہ پابندی کچھ برسوں کیلئے ہو یا پھر تاحیات ان کھلاڑیوں کو کرکٹ کے کھیل سے دور کردیا جائے۔ اوپری سطروں میں میچ فکسنگ یا سپاٹ فکسنگ اور پھر اس کے بعد ملنے والی سزاؤں کا خلاصہ بہت عام فہم انداز میں کردیا گیا ہے تاکہ اُن لوگوں کو بھی سمجھ آجائے جو اس کھیل اور اس کے قوانین سے واقف نہیں ہیں مگر اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ فکسنگ اسکینڈل پر مختلف لوگ حد سے زیادہ جذباتی کیوں ہورہے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ اس معاملے میں اپنی تحقیقات کررہا ہے اور اس کا فیصلہ بھی جلد سامنے آجائے گا مگر قومی اسمبلی میں جس طرح کے جذباتی بیانات دیے جارہے ہیں انہیں سن کر سنجیدگی طاری نہیں ہوتی بلکہ ہنسی آتی ہے کہ ایوانوں میں بیٹھے ہوئے قوم کے نمائندے اپنی سیاست چمکانے کیلئے کچھ بھی کہہ دیتے ہیں۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ سپاٹ فکسنگ معاملے پر پی سی بی نے ایف آئی اے سے رابطہ کیا ہے اور ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق پی سی بی اس معاملے پر مخمصے کا شکار ہے اور اگر کسی پر جرم ثابت بھی ہوجاتا ہے تو پی سی بی ایسے کھلاڑی پر محض پابندی ہی عائد کرسکتا ہے ۔چوہدری صاحب یہ سمجھ رہے ہیں کہ پی سی بی اپنے طور پر یہ معاملہ حل کرنا چاہتا ہے جو بالکل درست ہے ۔انہیں اس بات پر اعتراض نہیں مگر اس کیساتھ ساتھ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ پی ایس ایل فکسنگ اسکینڈل کی تحقیقات ایف آئی اے بھی کرے کیونکہ پی سی بی جرم ثابت ہونے پر کسی کو جیل نہیں بھیج سکتا لیکن ایف آئی اے ایسا کرسکتا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ چوہدری نثار نہ صرف کرکٹ کے کھیل سے ناواقف ہیں بلکہ عمومی قوانین کی بھی سمجھ نہیں اسی لیے انہوں نے انگلینڈ میں پکڑے جانے والے تین پاکستانی کھلاڑیوں کی مثال دی کہ اگر وہ انگلینڈ میں جیل جاسکتے ہیں تو پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا!اب چوہدری نثار کھلاڑیوں کو سزا دینے پر تُل گئے ہیں اور اس مقصد کیلئے ایف آئی اے نے شرجیل خان، خالد لطیف، محمد عرفان اور انگلینڈ میں موجود ناصر جمشید کو نوٹس جاری کردیے ہیں ۔

چوہدری نثار اس حقیقت سے واقف نہیں ہیں کہ کرپشن کا یہ اسکینڈل پاکستان کرکٹ بورڈ کی ’’حدود‘‘ میں آتا ہے اور اس پر فیصلہ کرنے کا اختیار صرف پی سی بی کو حاصل ہے۔اگر وزیر داخلہ انگلینڈ میں تین پاکستانی کھلاڑیوں کے جیل جانے کا حوالہ دے رہے ہیں تو انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ان کھلاڑیوں نے انگلینڈ میں کرپشن کی تھی اور ملکی قوانین کے مطابق انہیں سزا دی گئی تھی جس کا براہ راست تعلق کرکٹ کے کھیل یا سپاٹ فکسنگ نہیں تھا۔ برطانوی عدالت نے انہیں سزا بدعوانی کے جرم میں دی تھی جو کرکٹ سمیت کسی بھی شعبے میں ہوسکتی ہے جبکہ ان تین پاکستانی کھلاڑیوں کو سپاٹ فکسنگ کے جرم میں سزا انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے ملی تھی جس نے انہیں پابندی کا شکار بنایا تھا۔ دوسری دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ اگر ان کھلاڑیوں نے پاکستان میں ’’کرپشن‘‘ کی ہوتی تو ایف آئی اے ’’کرپشن فری‘‘ پاکستان میں ان کھلاڑیوں کی یہ حرکت برداشت نہ کرتے ہوئے انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے پھینک دیتی مگر حضور! اگر ان کھلاڑیوں نے سپاٹ فکسنگ کی ہے تو انہوں نے یہ جرم پاکستان میں نہیں بلکہ متحدہ عرب امارات میں کیا ہے اس لیے پاکستانی ادارے ان کھلاڑیوں کو سزا نہیں دے سکتے۔اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو پھر سزا کا اطلاق صرف پی سی بی کرے گا جس کی زیادہ سے زیادہ حد تاحیات پابندی ہے ...اور بس!

دوسری طرف سابق کپتان جاوید میانداد نے بھی جذباتی بیان دے ڈالا ہے کہ میچ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کو سزائے موت دے دینی چاہیے!یہ خبر دو تین مرتبہ پڑھی تو یقین آیا کہ واقعی میانداد نے ایسا بیان دیا ہے۔ ایسے بیانات اُس مایوسی کا شاخسانہ ہیں جو کرپشن میں ملوث کھلاڑیوں کے اوپر ہونے والی ’’مہربانیوں‘‘ کا نتیجہ ہے۔اگرماضی میں ایسے کھلاڑیوں کیساتھ رعایت نہ برتی جاتی تو آج جاوید میانداد جیسے کھلاڑیوں کی طرف سے ایسے بیانات نہ آتے اور چوہدری نثار کا جوش بھی اسی مایوسی کا اظہار ہے ۔ اگر پی سی بی نے بروقت اقدامات کیے ہوتے اور کرپٹ کھلاڑیوں پر نظر کرم نہ کی ہوتی تو آج سیاستدانوں کو اس معاملے میں بولنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔

ماضی میں اگر کرپشن میں ملوث کھلاڑیوں کو صحیح سزائیں نہیں دی گئیں تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پی ایس ایل فکسنگ اسکینڈل میں ملوث کھلاڑیوں کی گردنیں اتار دی جائیں ۔اگر ان پر جرم ثابت ہوتا ہے تو انہیں پی سی بی اور آئی سی سی کے قوانین کے مطابق سزا دیں اور آئندہ قوانین کی پابندی کرنے کی کوشش کریں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات نہ ہوں ۔جو لوگ فکسنگ اسکینڈل سے اپنی دکان چمکانا چاہ رہے ہیں انہیں یہی مشورہ ہے کہ اپنے کام پر توجہ دیں جو انہیں پوری طرح بھی نہیں آتا!!

Mohammad-Irfan

Facebook Comments