کرکٹ پنڈتوں کی صدر مملکت سے ملاقات، ڈیڈ لاک برقرار

سندھ کے سیلاب زدگان کی امداد کے لیے صدر مملکت اور پیٹرن اِن چیف پاکستان کرکٹ بورڈ آصف علی زرداری سے ہونے والی ملاقات میں پاکستان کرکٹ کی تمام تر متنازع و متصادم شخصیات ایک جگہ اکٹھا ہو گئیں لیکن اس کے باوجود کوئی واضح پیشرفت سامنے نہیں آ سکی۔ نہ ہی شاہد آفریدی کی جانب سے ریٹائرمنٹ واپس لینے کا اعلان ہوا، اعجاز بٹ کے عہدے میں توسیع کے حوالے سے بھی کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آ سکا اور نہ ہی قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کی لاہور سے کراچی منتقلی کے حوا لےسے کوئی اعلان کیا گیا۔

صدر مملکت نے شاہد آفریدی اور اعجاز بٹ کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو پاٹنے کے بجائے صرف مسکراہٹ سے کام لیا

صدر مملکت نے شاہد آفریدی اور اعجاز بٹ کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو پاٹنے کے بجائے صرف مسکراہٹ سے کام لیا

ملاقات کرنے والے کھلاڑیوں میں سابق کپتان شاہد خان آفریدی، پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل جاوید میانداد، چیئرمین اعجاز بٹ، سابق وکٹ کیپرز وسیم باری اور معین خان شامل تھے جبکہ ہاکی کے عظیم کھلاڑی سمیع اللہ، حسن سردار اور دیگر اعلیٰ شخصیات بھی شامل تھیں۔ اس ملاقات کا اہتمام سندھ کے مشیر کھیل حلیم عادل شیخ نے کیا تھا۔

سابق کپتان اور موجودہ ڈائریکٹر جنرل پی سی بی جاوید میانداد نے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کے دوران واضح موقف اپناتے ہوئے کہا کہ لاہور میں ڈینگی بخار کی وباء کے باعث قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کا انعقاد کرنا بہتر نہیں ہے اس لیے اسے کراچی منتقل کیا جائے۔ انہوں نے ٹورنامنٹ کو کراچی منتقل کرنے کی ایک اور اہم وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں سیلاب زدگان کے لیے امدادی رقوم یہاں زیادہ آسانی سے اکٹھی کی جا سکتی ہیں۔ تاہم چیئرمین اعجاز بٹ نے جاوید میانداد کےمؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ٹورنامنٹ کے تمام تر انتظامات مکمل ہو چکے ہیں اس لیے آخری لمحات میں اسے دوسرے شہر منتقل کرنا ایک مشکل امر ہوگا تاہم انہوں نے کہا کہ کل بورڈ کے خصوصی اجلاس میں تمام آپشنز زیر غور ہوں گے جس میں بلاشبہ کراچی منتقلی پر بھی غور و خوض کیا جائے گا۔

اس ضمن میں سیلاب زدگان کی امداد کے لیے پاکستان الیون اور ریسٹ آف پاکستان الیون کے درمیان کرکٹ میچ کی تجویز پیش کی گئی جسے بالفاظ دیگر مصباح الیون بمقابلہ آفریدی الیون کا ٹکراؤ کہا جا سکتا ہے۔

ملاقات کے موقع پر جہاں سابق کپتان شاہد آفریدی کی صدر آصف علی زرداری سے بالمشافہ ملاقات ہونے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے تھے، جس کے لیے شاہد آفریدی نے شکایات کا خصوصی انبار جمع کر رکھا تھا، تاہم وہ صدر مملکت سے الگ ملاقات نہیں کر پائے۔ یوں شاہد آفریدی کے خدشات درست ثابت ہوئے جن کی بناء پر انہوں نے گزشتہ روز کہا تھا کہ اتنے بڑے وفد کی صورت میں اُن کی صدر سے علیحدہ ملاقات ممکن نہیں ہوگی اس لیے انہوں نے ملاقات نہ کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔ تاہم ذرائع ابلاغ میں خبر سامنے آنے کے بعد انہیں بادل نخواستہ صدر مملکت سے ملاقات کے لیے جانا پڑا۔یہی وجہ ہے کہ شاہد آفریدی نے اپنی ریٹائرمنٹ کی واپسی کا اعلان نہیں کیا، جس کا بہت زیادہ امکان ظاہر کیا جا رہا تھا۔

ملاقات کے دوران جب صوبائی مشیر کھیل نے صدر مملکت سے مفاہمت کی پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے اسے پاکستان کرکٹ بورڈ میں بھی لاگو کرنے کا مطالبہ کیا تو انہوں سے اسے مسکرا کر ٹال دیا۔ صوبائی مشیر کا اشارہ چیئرمین اعجاز بٹ اور شاہد آفریدی کے درمیان ہونے والے تنازع کو نمٹانا تھا تاہم اس پر کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی۔

Facebook Comments