سنسنی خیز معرکہ، گھر میں بھارتی فتوحات کا سلسلہ ختم

بھارت-ویسٹ انڈیز معرکہ گو کہ سننے میں ہاتھی اور چیونٹی کا مقابلہ لگتا ہے، لیکن ویسٹ انڈیز نے بھارت میں جاری ایک روزہ سیریز میں جس طرح عالمی چیمپئن کو ناکوں چنے چبوائے ہیں، اس سے ویسٹ انڈین دستے کی اہلیت کا اندازہ ہوتا ہے اور صرف ایک کمی دکھائی دیتی ہے یعنی 'آخری دھکا' دینے کی صلاحیت۔ تاہم احمد آباد میں کھیلے گئے ایک روزہ سیریز کے تیسرے مقابلے میں ماضی کی کالی آندھی نے پہلے بلے بازی اور پھر گیند بازی سے میدان مارتے ہوئے سیریز میں اپنے امکانات کو برقرار رکھا ہے۔ بار بار پانسہ پلٹتا یہ مقابلہ آخری اوورز میں ویسٹ انڈین کپتان ڈیرن سیمی اور آندرے رسل کی شعلہ فشاں بلے بازی اور بعد ازاں روی رامپال اور ویسٹ انڈیز کے دیگر گیند بازوں کی عمدہ کارکردگی کے باعث عرصہ تک یاد رکھا جائے گا۔ میچ کے دو اہم 'ٹرننگ پوائنٹس' تھے، ایک ویسٹ انڈین کا اپنی اننگز کے آخری 5 اوورز میں 72 رنز بنانا اور دوسرا ان فارم روہیت شرما کی 95 رنز کی عمدہ اننگز کا اس وقت خاتمہ ہونا جب بھارت فتح سے 45 رنز کے فاصلے پر تھا۔ آخری وکٹ پر ڈیبوٹنٹ ابھیمنیو متھن اور امیش یادیو نے 19 گیندوں پر 28 رنز داغ کر ویسٹ انڈیز کو پریشان ضرور کیا لیکن روی رامپال کی ایک یارکر نے بھارتی اننگز کا خاتمہ کر دیا اور ویسٹ انڈیز کو 16 رنز سے فتح نصیب ہوئی۔ اس مقابلے میں شکست سے وریندر سہواگ کی قائدانہ صلاحیتوں پر ایک مرتبہ پھر بڑا سوال کھڑا ہو گیا ہے جبکہ اس سے بڑا بحران دورۂ آسٹریلیا سے قبل ٹیم کے انتخاب پر پیدا ہوا ہے۔

روی رامپال نے اپنے پہلے ہی اوور میں وریندر سہواگ اور گوتم گمبھیر کو صفر پر ٹھکانے لگا کر تہلکہ مچایا (تصویر: AFP)

روی رامپال نے اپنے پہلے ہی اوور میں وریندر سہواگ اور گوتم گمبھیر کو صفر پر ٹھکانے لگا کر تہلکہ مچایا (تصویر: AFP)

یوں ویسٹ انڈیز نے ہوم گراؤنڈ پر بھارت کی مسلسل فتوحات کے سلسلے کا خاتمہ کر دیا ہے، جو مسلسل 12 مقابلوں سے ناقابل شکست تھا۔ بھارت کو آخری شکست عالمی کپ 2011ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف ایک انتہائی سنسنی خیز مقابلے کے بعد ہوئی تھی جس کے بعد وہ عالمی کپ اور بعد ازاں دیگر تمام مقابلوں میں فتحیاب ٹھیرا۔

سردار پٹیل اسٹیڈیم، احمد آباد میں عالمی کپ 2011ء کے بھارت- آسٹریلیا کوارٹر فائنل کے بعد کھیلے جانے والے پہلے مقابلے میں میزبان بھارت نے ٹاس جیت کر ویسٹ انڈیز کو بلے بازی کی دعوت دی جس کے بلے باز بھارت کی عمدہ گیند بازی کے سامنے سہمے سہمے دکھائی دیے۔ گو کہ ٹاپ آرڈر میں ڈیرن براوو کی 58 رنز کی اننگز شامل تھی لیکن اس کے لیےانہوں نے 93 گیندیں کھیلیں۔ اننگز کی سب سے خاص بات آندرے رسل اور کپتان ڈیرن سیمی کی آخری لمحات میں 34 گیندوں پر 79 رنز کی زبردست شراکت داری تھی جس کی بدولت ویسٹ انڈیز اسکور بورڈ پر ایک اچھا مجموعہ اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوا۔ بلاشبہ اگر یہ شراکت داری قائم نہ ہوتی تو بھارت روہیت شرما کی عمدہ بلے بازی کے باعث ایک مرتبہ پھر جیت کر سیریز اپنے نام کر چکا تھا۔ ڈیرن سیمی نے 5 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے محض 17 گیندوں پر 41 رنز بنائے جبکہ آندرے رسل نے 18 گیندوں پر 4 چوکے اور 2 چھکے لگا کر 40 رنز سمیٹے۔ ڈیرن سیمی نے کیریئر کا پہلا ایک روزہ کھیلنے والے متھن کے اوور میں 23 رنز داغ کر عالمی کرکٹ میں ان کا خیر مقدم کیا۔ یہ اننگز کا 49 واں اوور تھا جس میں سیمی نے پہلی دو گیندوں پر دو چوکے اور پھر چوتھی اور پانچویں گیند پر دو چھکے رسید کیے۔ آخری اوور میں رسل نے نوجوان امیش یادیو کو آڑے ہاتھوں لیا اور پہلی دوسری گیند پر چوکا اور چوتھی گیند پر چھکا داغا اور مجموعی طور پر اوور میں 20 رنز حاصل کیے۔ اس عمدہ کارکردگی کے بعد ویسٹ انڈیز کے حوصلے اس وقت بلند ہوئے جب انہوں نے دوسرے ہی اوور میں وریندر سہواگ اور گوتم گمبھیر جیسے تجربہ کار بلے بازوں کی وکٹیں حاصل کر کے بھارتی بلے بازی کی بنیادیں ہلا دیں۔

آسٹریلیا کے اہم ترین دورے سے قبل ویسٹ انڈیز جیسی ٹیم کے خلاف بھارت کی ناقص گیند بازی کے باعث بھارتی کرکٹ میں ایک بڑا بحران جنم لے رہا ہے، جس کے حوالے سے کرک نامہ نے گزشتہ روز ایک تجزیہ پیش کیا تھا۔ کئی کرکٹ حلقوں کی جانب سے عرفان پٹھان اور اشیش نہرا جیسے گیند بازوں کی واپسی کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔ عرفان اور اشیش کا بھی نجات دہندہ دکھائی دینا اس بحران کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

ایک یادگار فتح کے بعد ویسٹ انڈین کپتان ڈیرن سیمی کے چہرے پر اطمینان کی لہر (تصویر: AFP)

ایک یادگار فتح کے بعد ویسٹ انڈین کپتان ڈیرن سیمی کے چہرے پر اطمینان کی لہر (تصویر: AFP)

بہرحال، ویسٹ انڈین گیند بازوں خصوصا روی رامپال اور اپنا پہلا ایک روزہ کھیلنے والے سنیل نرائن نے بھارت کے ٹاپ آرڈر پر کاری ضربیں لگائیں اور یہی وجہ تھی کہ سیریز میں ایک مرتبہ پھر بھارت کی آدھی ٹیم اسکور کو تہرے ہندسے میں پہنچانے سے قبل ہی پویلین لوٹ چکی تھی۔ سہواگ اور گمبھیر جیسے بلے بازوں کے صفر کی ہزیمت سے دوچار ہونے کے بعد گزشتہ میچ کے ہیرو ویرات کوہلی 20 اور بعد اوپنر پارتھیو پٹیل 39 رنز بنا کر میدان بدر ہوئے۔ رہی سہی کسر سریش رائنا (2 رنز) اور رویندر جدیجا (11 رنز) کی وکٹوں سے پوری کر دی اور اب ایک مرتبہ پھر تمام تر ذمہ دار روہیت شرما کے سر آ گئی جنہوں نے سیریز کے ابتدائی دونوں مقابلوں میں میچ بچاؤ اننگز کھیلیں اور زبردست فارم میں ہیں۔ انہوں نے ٹیل اینڈرز کے ساتھ مل کر اسکور کو آگے بڑھانا شروع کیا۔ پہلے انہوں نے روی چندر آشون کے ساتھ 91 رنز جوڑے تاہم نرائن کے ہاتھوں آشون (31 رنز) کے پویلین لوٹتے ہی بھارتی اننگز پٹڑی سے اترنے لگی۔ 216 کے مجموعی اسکور پر جب روہیت شرما حریف کپتان ڈیرن سیمی کی براہ راست تھرو پر رن آؤٹ ہوئے تو گویا میچ کا فیصلہ ہو گیا۔ دو آسان کیچ چھوڑنے والے ڈیرن سیمی نے یہ قیمتی تھرو پھینک کر کسی حد تک اپنی ناقص فیلڈنگ کا ازالہ کیا۔ شرما کے لوٹنے کے وقت بھارت فتح سے 45 رنز کے فاصلے پر تھا جبکہ اس کی محض ایک وکٹ باقی تھی۔ گو کہ آخری دونوں بلے بازوں ابھیمنیو متھن اور امیش یادیو نے پوری کوشش کی کہ اس جگہ سے بھی بھارت کو فتح تک پہنچا دیا جائے اور ویسٹ انڈین بلے بازی کے دوران آخری اوورز میں اپنی ناقص گیند بازی کا ازالہ کر دیا جائے لیکن 47 ویں اوور میں روی رامپال کو دو چوکے رسید کرنے کے بعد متھن وکٹوں کے سامنے جکڑے گئے اور یوں ویسٹ انڈیز نے ایک تاریخی فتح حاصل کی۔ عالمی درجہ بندی میں دوسرے نمبر پر موجود بھارت کو آٹھویں نمبر کے ویسٹ انڈیز سے یہ شکست کھا کر زبردست دھچکا پہنچا ہے۔ اپنے قریبی ترین حریف یعنی جنوبی افریقہ پر اب اس کی برتری محض ایک پوائنٹ رہ گئی ہے اور سیریز میں ایک بھی شکست اسے ایک روزہ ٹیموں کی عالمی درجہ بندی میں دوسری پوزیشن سے محروم کر دے گی۔

ویسٹ انڈیز کے ہیرو روی رامپال نے 57 رنز دے کر 4 بلے بازوں کو ٹھکانے لگایا جس میں اپنے پہلے ہی اوور میں گمبھیر اور سہواگ کی قیمتی وکٹیں اور بعد ازاں سریش رائنا اور متھن کی صورت میں حاصل کردہ آخری وکٹیں بھی شامل تھیں۔ شاید وہ پانچویں وکٹ لینے میں بھی کامیاب ہو جاتے لیکن رویندر جدیجا کے خلاف ایل بی ڈبلیو کی ایک کامیاب اپیل اس وقت واپس لے لی گئی تھی جب بعد ازاں ری پلے سے اندازہ ہوا کہ ان کا قدم لکیر سے آگے بڑھ گیا تھا اور یوں وہ گیند نو بال قرار پائی۔ دوسری جانب سنیل نرائن نے ویرات کوہلی کی اہم ترین وکٹ حاصل کی اور بعد ازاں آشون کو آؤٹ کر کے 91 رنز کی شراکت کا بھی خاتمہ کیا۔ ایک، ایک وکٹ کیمار روچ اور مارلون سیموئلز کو ملی۔

روی رامپال کو یادگار گیند بازی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ یوں ان کے لیے ہی سیریز بہت یادگار ثابت ہو رہی ہے۔ گزشتہ مقابلے میں انہوں نے بلے بازی میں اپنے جوہر دکھائے اور آج گیند بازی سے اپنی مہارت کا اظہار کیا۔

5 مقابلوں کی سیریز میں بھارت کو اب بھی 2-1 کی برتری حاصل ہے جبکہ دو مقابلے ابھی باقی ہیں جو 8 دسمبر کو اندور اور 11 دسمبر کو چنئی میں کھیلے جائیں گے۔

بھارت بمقابلہ ویسٹ انڈیز: تیسرا ایک روزہ بین الاقوامی مقابلہ

بتاریخ: 5 دسمبر 2011ء

بمقام: سردار پٹیل اسٹیڈیم، احمد آباد، بھارت

نتیجہ: ویسٹ انڈیز 16 رنز سے کامیاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: روی رامپال (ویسٹ انڈیز)

ویسٹ انڈیز رنز گیندیں چوکے چھکے
لینڈل سیمنز ک پارتھیو پٹیل ب ونے کمار 1 8 0 0
ڈینزا ہیاٹ ک ک پارتھیو پٹیل ب متھن 20 39 1 1
مارلون سیموئلز ب آشون 58 93 5 1
ڈیرن براوو ریٹائرڈ ہرٹ 26 41 2 0
دنیش رامدین ک پارتھیو پٹیل ب یادیو 38 52 3 0
کیرون پولارڈ ک جدیجا ب ونے کمار 29 32 2 1
آندرے رسل ناٹ آؤٹ 40 18 4 2
ڈیرن سیمی ناٹ آؤٹ 41 17 5 2
فاضل رنز ل ب 2، و 5 7
مجموعہ 50 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 260

 

بھارت (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
ونے کمار 8 1 39 2
امیش یادیو 9 1 75 1
ابھیمنیو متھن 7 0 47 1
رویندر جدیجا 10 1 37 0
روی چندر آشون 10 0 33 1
سریش رائنا 6 0 27 0

 

بھارتہدف: 261 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
پارتھیو پٹیل ب سیموئلز 39 35 7 0
وریندر سہواگ ک رامدین ب رامپال 0 1 0 0
گوتم گمبھیر ایل بی ڈبلیو ب رامپال 0 1 0 0
ویرات کوہلی ایل بی ڈبلیو ب نرائن 20 30 3 0
روہیت شرما رن آؤٹ 95 100 10 1
سریش رائنا ک رامدین ب رامپال 2 3 0 0
رویندر جدیجا رن آؤٹ 11 16 2 0
روی چندر آشون ایل بی ڈبلیو ب نرائن 31 64 1 0
ونے کمار ب روچ 3 8 0 0
ابھیمنیو متھن ایل بی ڈبلیو ب رامپال 23 16 2 2
امیش یادیو ناٹ آؤٹ 11 10 2 0
فاضل رنز ب 1، ل ب 2، و 3، ن ب 3 9
مجموعہ 46.5 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 244

 

ویسٹ انڈیز (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
کیمار روچ 10 0 54 1
روی رامپال 8.5 1 57 4
سنیل نرائن 10 0 34 2
مارلون سیموئلز 10 0 50 1
آندرے رسل 4 0 25 0
ڈیرن سیمی 1 0 7 0
لینڈل سیمنز 2 0 10 0
کیرون پولارڈ 1 0 4 0

Facebook Comments