سلطان چھا گئے، کوئٹہ چاروں خانے چت

0 337

ملتان سلطانز نے کھیل کے ہر شعبے میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو چت کرکے ایک زبردست کامیابی حاصل کی ہے جس نے انہیں پوائنٹس ٹیبل پر دوسرے نمبر پر پہنچا دیا ہے اور سونے پہ سہاگہ تھی عمران طاہر کی ہیٹ ٹرک، جس کی بدولت کوئٹہ صرف 102 رنز پر ڈھیر ہوا یعنی سرفراز الیون گزشتہ دو سیزنز کی شاندار کامیابیوں کے بعد اس بار اپنا بھرم کھوتی نظر آ رہی ہے۔ گلیڈی ایٹرز میں نہ ویسا جذبہ نظر آ رہا ہے اور نہ ہی جیت کی ویسی تڑپ دِکھ رہی ہے جو اسے مضبوط حریفوں پر بھی برتری مہیا کرتی تھی۔ دوسری طرف ملتان نے بالکل ویسا ہی آغاز لیا ہے جیسا ابتدائی دونوں سیزنز میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے لیا تھا۔

شارجہ میں ہونے والے اس مقابلے میں ٹاس جیتا ملتان کے کپتان شعیب ملک نے انہوں نے کوئٹہ کو بلے بازی کی دعوت دی۔ یہ فیصلہ کپتان کی سوچ سے بھی زیادہ اچھا ثابت ہوا کیونکہ کوئٹہ سولہویں اوور میں صرف 102 رنز پر ہی ڈھیر ہو گیا۔ ایک بجھے بجھے سے آغاز کے بعد کوئی بلے باز ملتانی باؤلرز کے سامنے ڈٹ نہیں پایا۔ وقفے وقفے سے سب ہمت ہارتے گئے اور آخر میں قہر ڈھایا عمران طاہر نے جنہں نے حسان خان، جان ہیسٹنگز اور راحت علی کو آؤٹ کرکے ہیٹ ٹرک بنا ڈالی۔ یہ پی ایس ایل تاریخ کا پہلا موقع تھا کہ کسی غیر ملکی باؤلر نے ہیٹ ٹرک کی ہے۔ اس سے پہلے محمد عامر نے پہلے سیزن میں جبکہ ملتان ہی کے جنید خان نے رواں سیزن میں ہیٹ ٹرک کی تھی۔

کوئٹہ کی بیٹنگ کا حال اسکور کارڈ سے عیاں کہ جس میں کپتان سرفراز احمد 30، شین واٹسن 19 اور محمود اللہ 15 رنز کے ساتھ نمایاں نظر آتے ہیں۔ باقی کوئی بلے باز دہرے ہندسے میں بھی نہیں گیا۔ عمران طاہر کے علاوہ تین وکٹیں سہیل تنویر نے بھی حاصل کیں جنہوں نے عمر امین، سرفراز احمد اور محمد نواز کو آؤٹ کیا۔ کیون پیٹرسن کی جگہ کھلائے گئے رمیز راجہ جونیئر صرف دو گیندوں کی مار ثابت ہوئے اور انتہائی ناقص شاٹ کھیلتے ہوئے جنید خان کا پہلا شکار بنے۔ جنید نے اگلے ہی اوور میں شین واٹسن کی قیمتی وکٹ بھی حاصل کی جو ایک چھکے کے حصول کی کوشش میں عین باؤنڈری لائن پر کیچ دے گئے۔

ملتان کے لیے 103 رنز بنانا بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ احمدشہزاد اور عظیم کمار سنگارا کی جوڑی نے 66 رنز کی شراکت داری قائم کر کے مزید آسان بنا دیا۔ احمد شہزاد 27 رنز پر آؤٹ ہوئے اور یہ وہ واحد وکٹ تھی جو کوئٹہ کے گيند بازوں کو ملی، ورنہ وہ تو پورا دن وکٹ کو ہی ترستے رہے۔ صہیب مقصود نے پہلی بار کچھ جم کر کھیل پیش کیا۔ سنگاکارا نے سیزن کی تیسری نصف سنچری بنائی اور 51 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ میدان سے واپس آئے جبکہ صہیب نے 26 رنز بنائے۔ یہاں تک کہ ملتان باآسانی 9 وکٹوں سے جیت گیا۔ سہیل تنویر کو عمدہ باؤلنگ پر میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ملا۔

اب ملتان پانچ میچز میں تین کامیابیوں کے ساتھ 7 پوائنٹس کا حامل ہو گیا ہے یعنی اس کے پوائنٹس ٹاپ پر موجود کراچی کنگز کے برابر ہوگئے ہیں البتہ رن ریٹ کی وجہ سے وہ کراچی سے پیچھے ہیں۔ کوئٹہ پانچ میچز میں سے تین ہارنے کے بعد صرف چار پوائنٹس رکھتے ہیں اور چوتھے نمبر پر ہے۔