پی ایس ایل، آن لائن اسٹریمنگ بھی ریکارڈ توڑتی ہوئی

0 475

پاکستان سپر لیگ کے تیسرے سیزن کا سفر متحدہ عرب امارات میں جاری ہے اور شائقین کرکٹ کو خوب جاندار مقابلے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چاہے ان کی پسندیدہ ٹیم نہ ہی کھیل رہی ہو مگر پاکستانی عوام ہر میچ میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔

رواں سیزن میں کھیل کا ہر شعبہ دنیا بھر کی دیگر لیگز کو ٹکر دے رہا ہے بلکہ کرکٹ کے تجزیہ نگار گیندبازی اور فیلڈنگ کے معیار کے لحاظ سے اسے دیگر ممالک کے لیگ ٹورنامنٹ سے بہتر قرار دے رہے ہیں۔ تاہم ایک شعبہ کسی حد تک سبکی کا باعث بن رہا ہے اور وہ میدان میں شائقین کی عدم شرکت اور کرسیوں کے خالی پڑے رہنے کا منظر ہے۔ شاید ایونٹ نیوٹرل مقام پر ہو رہا ہے اس لیے یا ہو سکتا ہے کہ پی ایس ایل انتظامیہ اس حوالے سے مقامی سطح پر اتنا جوش پیدا کرنے میں ناکام رہی ہو۔ بہرحال، اصل موازنہ تو تب بنے گا جب یہ مقابلے پاکستانی میدانوں پر ہوں۔ ایک جھلک کوالیفائرز اور فائنل میں دکھائی دے گی جو لاہور اور کراچی میں ہوں گے۔

بہرحال، پی ایس ایل کی مقبولیت جانچنے کا اب دوسرا، اور واحد ، پیمانہ رہ جاتا ہے ٹیلی وژن چینلوں اور سوشل میڈیا کی ریٹنگ۔ اس حوالے سے رپورٹس بتاتی ہیں کہ آبادی کے تناسب کے اعتبار سے پی ایس ایل میں عوامی دلچسپی بہت زیادہ ہے جیسا کہ موجودہ سیزن کے صرف ابتدائی 15 میچز کو آفیشل آن لائن اسٹریمنگ کے ذریعے 82 لاکھ افراد نے دیکھا اور یہ اعداد و شمار صرف ایک ویب سائٹ کے ہیں یعنی cricketgateway.pk کے جو پی ایس ایل 2018ء کی براہ راست نشریات کے لیے آفیشل شراکت دار ہے۔ جبکہ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان میں غالب اکثریت ٹیلی وژن چینلوں پر کرکٹ دیکھتی ہے اور بہت سے غیر قانونی اسٹریمنگ پر بھی یعنی حقیقی اعداد و شمار تو نجانے کیا ہوں گے۔

یعنی عوامی دلچسپی میں کمی ہرگز نہیں بس مور جنگل میں ناچ رہا ہے، جسے ٹی وی پر دیکھنے کے علاوہ پاکستانیوں کے پاس کوئی چارہ نہیں۔ اس لیے سب کا یہی کہنا ہے کہ پی ایس ایل کے اصل ثمرات تب سمیٹے جا سکتے ہیں، جب اس کا انعقاد پاکستان میں ہو۔