کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے!

0 527

بالآخر… بالآخر لاہور قلندرز پاکستان سپر لیگ سیزن 3 میں پہلا مقابلہ جیتنے میں کامیاب ہو گئے، وہ بھی پوائنٹس ٹیبل پر سب سے اوپر موجود ملتان سلطانز کے خلاف کہ جسے قلندروں نے چھ وکٹوں سے پچھاڑ دیا۔ نوجوان باؤلر شاہین شاہ آفریدی نے سلطانوں کی مضبوط بیٹنگ لائن کے پرخچے اڑا کر رکھ دیے اور 4 اوورز میں صرف 5 رنز کے عوض ان کی پانچ وکٹیں، یعنی آدھی ٹیم ٹھکانے لگا دی۔ اس کامیابی کا شاید لاہور قلندرز کو زیادہ فائدہ نہ ہو کیونکہ یہ لڑائی کے خاتمے پر یاد آنے والے مکّے کی طرح ہے لیکن رانا فواد صاحب کے چہرے کی شادابی لوٹتے ہوئے دیکھنا ایک ہی اس مقابلے کی سب سے بڑی کامیابی تھی۔

دبئی میں ہونے والے اس میچ میں ملتان سلطانز نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا جو ابتداء میں تو ٹھیک لگ رہا تھا لیکن پھر تباہ کن ثابت ہوا۔ کمار سنگاکارا اور احمد شہزاد کی جوڑی نے 8 اوورز میں 61 رنز کا آغاز تو دے دیا لیکن سنگا کے جاتے ہی سلطانوں کے قدموں تلے سے زمین کھسکنے لگی۔ تجربہ کار سری لنکن بلے باز نے 30 گیندوں پر ایک چھکے اور 8 چوکوں کی مدد سے 45 رنز بنائے۔ صہیب مقصود اور احمد شہزاد مجموعے کو 93 تک لے گئے کہ جہاں 32 رنز بنانے والے احمد شہزاد کی باری آئی۔ یہاں 13 اوورز کا کھیل ہو چکا تھا اور اتنے رنز بہترین بنیاد فراہم کر چکے تھے لیکن نرائن کے ہاتھوں صہیب مقصود کی چھٹی ہوئی اور دوسرے اینڈ سے شاہین آفریدی قہر بن کر بلے بازوں پر ٹوٹ پڑے۔ انہیں سوئنگ بھی ملا، رفتار تو ویسے ہی ہے، پھر ہم نے دیکھا کہ انہوں نے دو مسلسل گیندوں پر شعیب ملک اور روس وٹلی کو آؤٹ کیا۔ ہیٹ ٹرک تو نہیں ہوئی لیکن اگلی گیند پر سیف بدر کو آؤٹ کرکے ایک ہی اوور میں تین وکٹیں حاصل کرلیں۔ سلطانوں کی امیدوں کا محل بکھرنے لگا کیونکہ سہیل تنویر اور کیرون پولارڈ بھی کچھ خاص نہ کر پائے۔ شاہین نے آحری اوور میں مزید دو شکار کیے اور ملتان کو صرف 114 رنز پر روک دیا۔

شاہین شاہ آفریدی نے چار اوورز میں صرف 4 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں یعنی یہ ٹی ٹوئنٹی تاریخ کی بہترین باؤلنگ میں سے ایک ہے۔

لاہور نے آسان ہدف کا پیچھا ایک مرتبہ پھر فخر زمان اور انتون ڈیوسچ کے ذریعے کیا۔ 33 رنز پر ڈیوسچ کی اننگز اختتام پذیر ہوئی۔ انہوں نے صرف 9 گیندوں پر 22 رنز بنائے۔ اگلے اوور میں فخر زمان عمران طاہر کا شکار بنے تو ہول اٹھنے لگے کہ کہیں گزشتہ میچز والی کہانی نہ دہرا دی جائے خاص طور پر جب آغا سلمان بھی آؤٹ ہوگئے۔ لیکن کپتان برینڈن میک کولم اور گلریز صدف نے 53 رنزکی سست لیکن ضروری شراکت داری سے مقابلہ بچا لیا۔ کپتان 35 رنز پر ناقابل شکست رہے جس میں فاتحانہ چوکا بھی شامل تھا۔

اس کامیابی کو 'دیر آید، درست آید' بھی نہیں کہا جا سکتا لیکن شاہین آفریدی کو وکٹیں لیتے ہوئے دیکھنا خوب نظارہ تھا ، خاص طور پر انہوں نے جس طرح وٹلی کی وکٹ لی، وہ سیزن کی بہترین گیندوں میں سے ایک تھی۔ ویسے لاہور خود تو شاید اگلے مرحلے میں نہ جا پائے، لیکن یاد رکھیں کہ وہ خود کو ڈوبا ہے، کسی دوسرے کو بھی لے ڈوب سکتا ہے کیونکہ ابھی اس کے تین میچز باقی ہیں۔ اس لیے ذرا ہوشیار!