مسلسل چار کامیابیاں، اسلام آباد ٹاپ پر

0 468

اگر آپ نے ابھی تک اسلام آباد یونائیٹڈ کو سنجیدہ نہیں لیا تھا تو خبردار ہو جائیے، مسلسل چوتھا مقابلہ جیت کر وہ پوائنٹس ٹیبل پر نمبر ایک بن گئے ہیں۔ پشاور زلمی کے خلاف اہم مقابلے میں مصباح الیون نے 26 رنز کی واضح کامیابی حاصل کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ اسے خاطر میں نہ لانے والے کتنی بڑی غلطی پر تھے۔ دبئی میں چھٹی کے دن ہزاروں تماشائیوں کی موجودگی میں ہم نے جے پی دومنی کی شاندار بیٹنگ دیکھی اور ساتھ ہی آصف علی کی دھواں دار اننگز بھی اور بعد میں سمیت پٹیل کی زبردست باؤلنگ بھی، جس نے پشاور کو چت کرکے رکھ دیا ہے۔ دفاعی چیمپیئن 7 میچز میں 4 ناکامیوں کے ساتھ اب پانچویں نمبر پر ہے یعنی اگر ٹیبل پر پوزیشن نہ بدلی تو پہلے مرحلے میں ہی باہر ہو جائے گا۔ سیمی الیون کے پاس اب غلطی کی گنجائش بالکل نہیں۔

آندرے رسل اور رمّان رئیس سے محروم ہو جانے کے بعد اسلام آباد نے جامع کارکردگی دکھائی ہے جبکہ ڈیرن سیمی کی واپسی بھی پشاور کے کسی کام نہ آئی۔ ٹاس زلمی نے جیتا اور پہلے اسلام آباد کو بلّے بازی کی دعوت دی جو اس کے کسی کام نہ آئی۔ خطرناک لیوک رونکی تو پانچویں اوور میں ہی آؤٹ ہوگئے جو مسلسل دو میچز سے مردِ میدان کے اعزازات پاتے آ رہے تھے۔ لیکن حسین طلعت اور جے پی دومنی نے اسکور کو بغیر کسی نقصان کے 100 رنز تک پہنچا دیا۔ 13 ویں اوور کا اختتام اس اسکور پر حسین طلعت کی وکٹ گرنے سے ہوا جنہوں نے 29 رنز بنائے۔ شاداب خان کے رن آؤٹ نے پشاور کو واپسی کی امید دکھلائی لیکن اس پر آصف علی کی آمد نے پانی پھیر دیا۔ مصباح نے خود آنے کے بجائے اس فیصل آبادی نوجوان کو میدان میں اتار دیا جس نے صرف 24 گیندوں پر 4 شاندار چھکوں اور دو چوکوں کے ساتھ 45 رنز جڑ دیے۔ دوسرے اینڈ سے دومنی نے بھی اپنی اننگز اگلے گیئر میں ڈال دی اور آخری 7 اوورز میں 82 رنز کے اضافے کے ساتھ اسلام آباد نے مجموعہ 182 تک پہنچا دیا۔ دومنی صرف 54 گیندوں پر چار چھکوں اور چھ چوکوں کے ساتھ 73 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ میدان سے واپس آئے۔

پشاور کی جانب سے سوائے وہاب ریاض کے کسی باؤلر نے اچھی کارکردگی نہیں دکھائ۔ وہاب نے اپنے چار اوورز میں 30 رنز دیے اور 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ ان کی یارکرز دیکھنے کے قابل تھیں، خاص طور پر جس گیند پر انہوں نے آصف علی کو کلین بولڈ کیا، وہ بہترین تھی۔

بہرحال، اب پشاور کو 183 رنز کے بہت بڑے ہدف کا سامنا تھا اور اس کے لیے ضروری تھی ایک بہترین اوپننگ شراکت۔ لین 4 اوورز میں 32 رنز ہی بنے تھے کہ سمیت پٹیل آ گئے اور آتے ہی کامران اکمل کو وکٹوں کے سامنے جا لیا۔ اگلے اوور میں انہوں نے آندرے فلیچر اور ڈیوین اسمتھ کی وکٹیں بھی سمیٹ لیں اور یوں پشاور کو بہت بڑا دھچکا پہنچا دیا۔ 75 رنز پر خوشدل شاہ بھی آؤٹ ہوگئے جنہوں نے 8 رنز بنائے۔ ابھی پشاور سمیت پٹیل اور شاداب خان سے نمٹ ہی رہا تھا کہ مصباح الحق نے اپنا اگلا مہرہ میدان میں اتار دیا۔ انہوں نے گیند ظفر گوہر کو تھما دی جنہوں نے ایک ہی اوور میں لیام ڈاسن اور ڈیرن سیمی کو کلین بولڈ کرکے گویا مقابلے کا فیصلہ ہی کردیا۔ خاص طور پر ڈیرن سیمی کو پھینکی گئی گیند ایک شاہکار تھی۔ مڈل اور لیگ پر پڑنے والی اس گیند کو وہ لیگ سائيڈ پر کھیلنا چاہتے تھے لیکن گیند نے تیزی سے ٹرن لیا اور ان کی آف اسٹمپ پر جا لگی۔

76 رنز پر چھ وکٹیں گرنے کے بعد اب رسمی کارروائی باقی رہ گئی تھی، یا شاید آنے والے نچلے بلے بازوں کے لیے کچھ بیٹنگ کی مشق۔ وہاب ریاض نے 33 اور عمید آصف نے 25 رنز بنا کر یہ مشق کی اور شکست کے مارجن کو کافی کم کردیا۔ جب 20 اوورز مکمل ہوئے تو پشاور 9 وکٹوں کے ساتھ 156 رنز پر کھڑا تھا۔

اسلام آباد کی جانب سے سمیت پٹیل نے 34 رنز دے کر 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ تین وکٹیں ظفر گوہر نے لی۔ ایک، ایک کھلاڑی کو فہیم اشرف اور شاداب خان نے آؤٹ کیا۔

جے پی دومنی کو شاندار اننگز پر میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ملا۔

اسلام آباد کا اگلا مقابلہ اب 13 مارچ کو ملتان سلطانز سے ہے یعنی ہمیں ایک بڑی جنگ دیکھنے کو ملنے والی ہے۔ تیار رہیے!