جب باب وولمر نہیں رہے

0 1,049

ٹھیک 11 سال پہلے، آج ہی کے دن پاکستان کرکٹ نے اپنی تاریخ کا ایک بدترین دن دیکھا تھا۔ ورلڈ کپ 2007ء میں آئرلینڈ کے ہاتھوں شکست کھاتے ہی پاکستان نہ صرف عالمی اعزاز کی دوڑ سے باہر ہوا بلکہ کوچ باب وولمر بھی چل بسے۔ شکست تو عارضی شے ہے، لیکن جان سب سے بڑھ کر ہے، وہ بھی باب وولمر جیسی شخصیت کی کہ جن کی خاک اسی برصغیر سے اٹھی تھی۔

باب وولمر تقسیم ہند کے کچھ ماہ بعد 1948ء میں کانپور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 19 ٹیسٹ اور 6 ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں انگلینڈ کی نمائندگی کی۔ کھلاڑی کی حیثیت سے نہیں ایک کوچ کے طور پر انہوں نے عالمگیر شہرت حاصل کی جب 1994ء میں دنیا کی ابھرتی ہوئی کرکٹ طاقت جنوبی افریقہ کی کوچنگ سنبھالی اور پانچ سال میں اسے کرکٹ کی سپر پاور بنا دیا۔ ان کے کوچنگ کے انوکھے کی وجہ سے جنوبی افریقہ عظمت کی بلندیوں کو پہنچا۔

پھر 2003ء میں پاکستان ورلڈ کپ میں بری طرح شکست سے دوچار ہوا اور نئے سیٹ اپ میں کوچ کا عہدہ باب وولمر کو ملا۔ جند ہی سالوں میں انہوں نے پاکستان کو کئی یادگار کامیابیاں دلائیں۔ پاکستان نے بھارت کے خلاف بھارت میں ٹیسٹ سیریز برابر کی، وہاں ون ڈے سیریز بھی بہت بڑے مارجن سے جیتی۔ انگلینڈ کے خلاف 2005ء میں ہوم سیريز میں ایک یادگار کامیابی حاصل کی حالانکہ انگلستان اس وقت عروج پر تھا اور آسٹریلیا کو ایشیز ہرا کر بلندیوں پر پرواز کر رہا تھا۔ پاکستان زوال کی اتھاہ گہرائیوں سے بلندیوں تک پہنچ گیا اور اس کا سہرا باب وولمر کے سر باندھنا چاہیے جو پوری ٹیم کے لیے ایک قابل احترام شخصیت تھے۔

پاکستان اس زمانے میں ون ڈے رینکنگ میں تیسرے نمبر تک پہنچا اور مزید آگے جاتا کہ ورلڈ کپ 2007ء آ گیا۔ ایک ایسا خطرناک موڑ کہ جہاں پاکستان کرکٹ کی گاڑی لڑکھڑائی اور گہری کھائیوں میں جا گری۔ 17 مارچ کو پاک-آئرلینڈ مقابلے میں پاکستان کو شکست ہوئی اور اس کے ساتھ ہی عالمی کپ کی مہم کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ مسلسل دوسری بار پاکستان اگلے مرحلے میں بھی نہ پہنچ سکا۔ یہ شائقین کرکٹ کے لیے تو بہت بری خبر تھی ہی، لیکن وولمر کے لیے جان لیوا صدمہ ثابت ہوا۔ اس رات وہ اپنے کمرے میں مردہ پائے گئے۔ پاکستان کے کھلاڑی اور شائقین کرکٹ شکست کا غم بھول گئے اور 'بابائے کرکٹ' کی زندگی کو یاد کرنے لگے۔ باب وولمر صدمے کے عالم میں دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گئے تھے۔

بعد از وفات حکومت پاکستان نے باب وولمر کو اعلیٰ ترین شہری اعزاز ستارۂ امتیاز دیا اور پی سی بی ہیڈکوارٹرز، لاہور میں موجود عالمی معیار کی انڈور کرکٹ اکیڈمی بھی باب وولمر سے ہی موسوم کردی۔