سپر کنگز کی چنئی میں واپسی، استقبال جوتوں سے

0 575

چنئی سپر کنگز اور کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے مقابلے میں جہاں آندرے رسل کی دھواں دار اننگز پر سب کی نظریں جمی ہوئی تھیں، چنئی کے ایم اے چدمبرم اسٹیڈیم میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے بھارت، بالخصوص چنئی کے، باسیوں کا چہرہ شرم سے جھکا دیا ہوگیا۔

بھارتی ریاست تمل ناڈو میں پانی کے مسئلے پر ہونے والی سیاسی کشمکش نے کرکٹ کے میدان پر بہت ہی شرمناک موڑ لیا اور میچ کے دوران چند مظاہرین نے کھلاڑیوں پر جوتے بھی پھینکے۔

"نام تاملر کچھی" نامی جماعت کے چار اراکین نے اسٹیڈیم کے ایک اسٹینڈ سے جوتے پھینکے جب کولکتہ کی اننگز کا آٹھواں اوور جاری تھا۔ چنئی کے کھلاڑیوں رویندر جدیجا اور فف دو پلیسی نے میدان میں پھینکے گئے جوتے اٹھائے جبکہ مظاہرین کو پولیس نے پکڑ کر میدان سے باہر کردیا۔

گزشتہ چند دنوں سے ریاست میں تمل اور دراوڑ سیاسی گروپوں کے درمیان کشمکش جاری ہے کہ جب تک پانی کے مسئلے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں آ جاتا تب تک چنئی میں ہونے والے آئی پی ایل کے مقابلے کہیں اور منعقد کیے جائیں۔

یہ خبریں بھی تھیں کہ چنئی سپر کنگز کے مقابلے کہیں اور منتقل کیے جا سکتے ہیں لیکن آئی پی ایل کی گورننگ کونسل نے یہیں پر مقابلے کروانے پر اصرار کیا۔ پھر میچ سے قبل اسٹیڈیم کے باہر چند مظاہرین دکھائی دیے بلکہ شہر کے مختلف مقامات پر بھی مظاہرے کیے گئے، جن میں چنئی سپر کنگز کے جھنڈے تک نظر آتش ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مقابلے میں بڑے پیمانے پر پولیس نفری دیکھنے میں آئی۔ پھر میچ کے دوران جب آٹھواں اوور آیا تو ایک جوتا فف دو پلیسی کے قریب آ کر گرا، جو اس میچ میں بارہویں کھلاڑی تھے۔

واضح رہے کہ چنئی سپر کنگز پر دو سال سے پابندی عائد تھی اور یہ 1065 دن کے بعد اس میدان پر سپر کنگز کا پہلا مقابلہ تھا۔ ایک ایسی ٹیم جو بلاشبہ آئی پی ایل کی سب سے زیادہ پسندیدہ ٹیم کہی جا سکتی ہے، کا اپنے ہی میدان پر ایسا استقبال ہوگا، کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔ واقعے سے قبل کئی فلمی ستارزں نے چنئی سپر کنگز سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سیاسی کشیدگی کے دوران نہ کھیل کر اپنا وزن مطالبے کے حق میں ڈالیں۔ یہی نہیں بلکہ چند حلقوں نے تو سیاہ پٹیاں باندھ کر کھیلنے کا مطالبہ بھی کیا تھا لیکن ایسا کچھ نہ ہوا اور نتیجہ اس صورت میں نکلا۔

بہرحال، مقابلہ تو جاری رہا لیکن اس واقعے سے یہ اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ اگر سیاسی ایجنڈوں کو کھیل کے میدانوں تک لایا جائے تو اس کے نتیجے میں کیا بدترین خرابیاں جنم لیتی ہیں۔ امید یہی ہے کہ سپر کنگز جب اپنے باقی تمام ہوم میچز اس میدان پر کھیلے گا تو ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آئے گا۔