پاکستان میں کھیلنے والے افغان کھلاڑی پر جرمانہ لگا دیا گیا

0 296

ایک کے بعد دوسرے مسئلے سے دوچار ہونے والے افغان وکٹ کیپر محمد شہزاد ایک مرتبہ پھر قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں اور اس بار انہیں 3 لاکھ افغانی یعنی تقریباً 5 لاکھ پاکستانی روپے کا جرمانہ دینا پڑے گا کیونکہ وہ بغیر اجازت کے ایک پاکستانی کلب کی جانب سے کھیل رہے تھے۔ افغان کرکٹ بورڈ نے شہزاد کو پشاور سے فوری طور پر وطن واپس آنے کا حکم بھی دیا ہے۔

30 سالہ محمد شہزاد گزشتہ ماہ زمبابوے میں ہونے والے ورلڈ کپ کوالیفائرز میں شرکت کے بعد پاکستان آ گئے تھے۔ افغان کرکٹ بورڈ کے میڈیا و مارکیٹنگ شعبے کے سربراہ لطف اللہ ستانکزئی کے مطابق کسی بھی کھلاڑی کے لیے ضروری ہے کہ وہ کہیں بھی کھیلنے سے پہلے 'این او سی' حاصل کرے لیکن شہزاد نے ایسا نہیں کیا۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ محمد شہزاد کو قانون کی خلاف ورزی پر پکڑا گیا ہے۔ ابھی زمبابوے میں ہی انہیں ایک میچ کے دوران آؤٹ ہونے کے بعد اپنا بلّا پچ پر مارنے پر دو میچز کی پابندی بھگتنا پڑی تھی۔ اس سے تین ماہ پہلے ہی ان پر ایک سال کی پابندی کا خاتمہ ہوا تھا جو ڈوپ ٹیسٹ کی ناکامی کی وجہ سے عائد ہوئی تھی۔

البتہ بورڈ کا کہنا ہے کہ شہزاد بھارت میں ہونے والے تربیتی کمیپ میں جائیں گے جو بنگلہ دیش کے خلاف ایک سیریز اور جون میں بھارت کے خلاف اپنے پہلے ٹیسٹ سے قبل لگایا جائے گا۔ لیکن ساتھ ہی دھمکی بھی دی کہ اگر ایسی حرکت دوبارہ کی گئی تو شہزاد پر پابندی لگا دی جائے گی۔

افغانستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کو یہ حکم بھی دیا ہے کہ اگر وہ ملک کے لیے کھیلنا چاہتے ہیں تو انہیں بیرون ملک سے افغانستان واپس آنا ہوگا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ افغانستان کے بیشتر کھلاڑی پاکستان میں رہتے ہیں، وہی ملک کہ جہاں انہوں نے اس زمانے میں کرکٹ دیکھی اور کھیلی جب وہ مہاجر کی صورت میں پاکستان میں رہتے تھے۔