900 چوہے کھا کر بلّی حج کو چلی، آسٹریلیا کی توبہ

0 818

آسٹریلیا کے نئے کپتان ٹم پین کہا ہے کہ ان کی قیادت میں کھلاڑی حریف کے خلاف زبان کا استعمال نہیں کریں گے، کیونکہ وہ بال ٹیمپرنگ اسکینڈل کے ٹیم کی ساکھ کو بحال کرنا اور عوامی سپورٹ دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

ڈیرن لیمن کے استعفے کے بعد آسٹریلیا کے کھلاڑی نئے کوچ کے اعلان کا انتظار کر رہے ہیں اور پین اگلی ٹیسٹ مہم کے لیے اپنے ارادے ظاہر کر چکے ہیں جو اکتوبر میں پاکستان کے خلاف ہوگی۔

33 سالہ وکٹ کیپر نے کہا ہے کہ کیپ ٹاؤن ٹیسٹ سے قبل ہی کھلاڑیوں کے جارحانہ انداز پر غور کیا جا رہا تھا اور اب جبکہ مجموعی رویّے کا بھیانک نتیجہ نکلا ہے تو اب ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مثبت تبدیلی لائیں۔

اگلی ٹیسٹ سیریز میں ابھی چھ مہینے باقی ہیں اس لیے ٹیم پین کہتے ہیں کہ کھلاڑیوں کے پاس کافی وقت ہے کہ وہ پرانے ماحول سے نکلیں اور یہ سوچیں کہ انہیں کس طرح کھیلنا ہے۔

ٹم پین طویل غیر حاضری کے بعد حالیہ نومبر میں ہی قومی ٹیم میں واپس آئے ہیں۔ بال ٹیمپرنگ اسکینڈل کے بعد انہیں جوہانسبرگ میں کھیلے گئے ٹیسٹ میں پہلی بار قیادت کا موقع ملا۔ ٹم پین ویسے ہی خاموش طبع کھلاڑی کے طور پر مشہور ہیں اور ان کی موجودگی میں آسٹریلیا اپنے چہرے سے بدزبانی کا سیاہ داغ مٹانے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔