کوہلی کو چند مہینوں کے لیے کرکٹ چھوڑنے کا مشورہ

0 300

ویراٹ کوہلی کا فارم سے باہر ہو جانا سب کو کَھل رہا ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ میں 70 سنچریاں بنانے والا 100 مقابلوں میں ایک مرتبہ بھی سنچری نہ بنا پائے تو تشویش تو ہوگی۔ بھارت کے سابق ہیڈ کوچ روی شاستری بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جو کوہلی کے 'بَیڈ پیچ' سے پریشان نظر آتے ہیں لیکن ساتھ ہی ایک حل بھی پیش کر رہے ہیں۔

روی شاستری کا کہنا ہے کہ کوہلی ذہنی طور پر بہت زیادہ 'پک' چکے ہیں، اس لیے اگر وہ چاہتے ہیں کہ ملک کے لیے مزید چھ سے سات سال کھیلیں تو انہیں کرکٹ سے کچھ وقفہ لینا ہوگا۔

‏33 سالہ کوہلی نہ صرف بین الاقوامی کرکٹ بلکہ انڈین پریمیئر لیگ میں بھی مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ آئی پی ایل کے جاری سیزن میں وہ اب تک رائل چیلنجرز بنگلور کے لیے 7 اننگز میں صرف دو مرتبہ 40 پلس کی اننگز کھیل سکے ہیں بلکہ لکھنؤ سپر جائنٹس کے خلاف آخری مقابلے میں تو صفر کی ہزیمت سے دوچار ہوئے۔

کوہلی نے کسی بھی فارمیٹ میں آخری بار کوئی سنچری 23 نومبر 2019ء کو بنائی تھی اور اس دن کے بعد سے اب تک 100 مقابلے کھیلنے کے باوجود ایک مرتبہ بھی تہرے ہندسے کو عبور نہیں کیا۔

کوہلی اور انٹرنیشنل کرکٹ: 23 نومبر 2019ء سے پہلے اور اُس کے بعد

میچزرنزبہترین اننگزاوسطسنچریاںنصف سنچریاں
پہلے45823650254*54.1170122
بعد63247894*37.54024

اس حوالے سے ایک انٹرویو میں شاستری کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ سے دو ماہ کا ہی سہی، انگلینڈ کے دورے کے بعد ہو یا اس سے پہلے، لیکن کوہلی کے لیے کرکٹ سے وقفہ لینا بہت ضروری ہے، "ورنہ ان کا بھیجا فرائی ہو جائے گا۔"

رواں سال کوہلی نہ صرف ذاتی کارکردگی میں پیچھے رہے ہیں بلکہ قیادت بھی ان کے ہاتھ سے نکل چکی ہے۔ پہلے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں بھارت اور بنگلور دونوں کی قیادت چھوڑی اور پھر بھارت کی ٹیسٹ اور ون ڈے کپتانی بھی ہاتھوں سے چلی گئی۔

یہ اقدامات غالباً اس لیے اٹھائے گئے تاکہ قیادت کا اضافی بوجھ ان کے ذہن سے ہٹ جائے اور وہ اپنی بنیادی ذمہ داری یعنی بیٹنگ پر توجہ دے سکیں، لیکن کوئی تدبیر کارگر ثابت نہیں ہو رہی۔

شاستری کہتے ہیں کہ جب میں بھارت کا کوچ تھا تو میں نے سب کھلاڑیوں کے احساس کی بات کی تھی۔ زبردستی کھیلیں تو مسائل پیدا ہوں گے اس لیے بہت احتیاط کے ساتھ کام لینے کی ضرورت ہے۔ اور کھلاڑی بھی ہیں جو ایسے مسائل سے دوچار ہیں اور انہیں بھی یہی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ انگلینڈ کے سابق کپتان کیون پیٹرسن نے بھی کوہلی کو کچھ عرصے کے لیے کرکٹ بلکہ سوشل میڈیا سے بھی دُور رہنے کا مشورہ دیا تھا۔