اعجاز بٹ کی مدت ملازمت کل ختم ہوگی، عہدہ چھوڑنے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ کی مدت ملازمت کی میعاد کل ختم ہو رہی ہے لیکن اب تک ان کے اس عہدے کو چھوڑنے کے کوئی امکانات نہیں ہیں بلکہ یہ اطلاعات تک موجود ہیں کہ وہ اتوار کو بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے چیف ایگزیکٹوز کے اجلاس میں شرکت کے لیے دبئی جا رہے ہیں جس سے اِس تاثر کو تقویت مل رہی ہے کہ ان کی میعاد میں توسیع کر دی گئی ہے جو ممکنہ طور پر دو ماہ سے ایک سال تک کے عرصے کے لیے ہو سکتی ہے۔

اعجاز بٹ نے سابق چیئرمین نسیم اشرف کے استعفے کے بعد 8 اکتوبر 2008ء کو دو سالہ معاہدے کے تحت عہدہ سنبھالا تھا اور گزشتہ سال بھی جب یہ میعاد مکمل ہونے لگی تھی تو ذرائع ابلاغ میں بہت شور و غوغا اٹھا کہ اُن کے جانے کا فیصلہ ہو چکا ہے اور اُس وقت بھی سابق چیئرمین پی سی بی ظفر الطاف اور نیشنل بینک کے سابق صدر علی رضا کے نام سامنے آئے تھے لیکن بعد ازاں اچانک اعجاز بٹ کے عہدے میں مزید ایک سال کی توسیع کا فیصلہ سامنے آ گیا یوں معروف صحافی اپنا سا منہ لے کر رہ گئے اور اِس مرتبہ بھی کچھ ایسا ہی لگ رہا ہے۔ گو کہ اس مرتبہ اعجاز بٹ کے ہٹنے کی خبریں کہیں زیادہ تواتر کے ساتھ آ رہی ہیں لیکن میعاد میں صرف ایک روز باقی رہ جانے کے باوجود اس کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔
گو کہ اعجاز بٹ اس بات سے انکاری ہیں کہ انہوں نے گزشتہ ماہ ایوان صدر میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن اِن چیف اور صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات میں اپنے عہدے کی میعاد میں توسیع کی خواہش ظاہر کی تھی لیکن لیکن ایوانِ صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر کی تصدیق اُن کا بھانڈا پھوڑ چکی ہے۔ صدر مملکت ابتداء ہی سے مفاہمت اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں جس کا اظہار پہلے مسلم لیگ ق اور اب متحدہ قومی موومنٹ کی حکومت میں واپسی کے ذریعے ہو رہا ہے۔ اس لیے اگر حکومت کی مجموعی پالیسی کا جائزہ لیا جائے تو بھی اعجاز بٹ کے جانے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا جبکہ وہ صدر قریبی ساتھیوں میں بھی شمار ہوتے ہیں۔ اعجاز بٹ اپنے قریبی ساتھی محسن خان کو قومی کرکٹ ٹیم کا عبوری کوچ اور محمد الیاس کو چیف سلیکٹر مقرر کر کے بھی اپنی طاقت کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔ معاہدے کے آخری ایام میں اتنے اہم فیصلے بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ اعجاز بٹ کو عہدے کی میعاد میں توسیع کا یقین ہے۔
اعجاز بٹ کے عہد کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی تاریخ کا بدترین دور کہا جا رہا ہے کیونکہ اسی کے دوران پاکستان کو کرکٹ کے میدانوں اور اُن سے باہر تمام محاذوں پر شکست کا منہ دیکھنا پڑا، آسٹریلیا کے بدترین دورے سے لے کر سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دہشت گرد حملے اور اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل سے لے کر عالمی کپ 2011ء کی میزبانی سے محرومی تک، ملکی کرکٹ تاریخ کے بیشتر سیاہ باب اسی دور میں رقم ہوئے۔