ایک لاکھ +گیارہ اور سچن کا آؤٹ

مقابلہ چاہے دنیا کے کسی بھی میدان پر ہو لیکن پاک-بھارت میچ ہمیشہ تماشائیوں کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔ اور اگر یہ میدان کولکتہ کا ایڈن گارڈنز ہو، تو کسی بھی حریف ٹیم کو، خصوصاً اگر وہ پاکستان کی ہو تو، گیارہ کھلاڑیوں اور مزید ایک لاکھ حریفوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور اگر آپ ایک نوجوان اور غیر معروف پاکستانی باؤلر ہوں جس نے ابھی دنیا کے بہترین بلے باز راہول ڈریوڈ کی وکٹ حاصل کی ہو، تو وہ خود پر جمی ایک لاکھ نگاہوں اور اپنے ہیرو سچن ٹنڈولکر کو میدان میں آتا دیکھ کر ایک لاکھ لوگوں کے فلک شگاف نعروں کو محسوس کر سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ پہلی ہی گیند پر اس کی گلی اڑادے تو اسے یکدم موت کے سے سناٹے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میں نے یہ کر دکھایا، اور میری جبین سجدۂ شکر کے لیے جھک گئی۔

(یہ اقتباس شعیب اختر کی سوانحِ عمری 'کنٹروورشلی یورز' کا ابتدائی پیراگراف ہے جس کا اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس کتاب کے دیگر ترجمہ شدہ اقتباسات یہاں سے پڑھے جا سکتے ہیں۔)

Facebook Comments