سچن مجھ سے کنی کترا گیا

ہمیں سیریز میں ایک حوصلہ شکن ہار ضرور سہنا پڑی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم نے سچن ٹنڈولکر کو لگام دیے رکھی۔ یہ بات ہمارے حق میں رہی کہ سیریز کے دوران سچن کو کہنی کی تکلیف تھی؛ جس نے عظیم بلے باز کو لاچار کر دیا تھا۔ اس طرح ہم اسے اپنے عتاب میں لانے میں کامیاب ہو گئے۔ اس تکلیف کے باعث ہم اس کی طرف باؤنسر پھینکنے اور اس کی کمزوری کا فائدہ اٹھانے کے قابل تھے۔ میں پہلے روز یہی معلومات لے کر ڈریسنگ روم میں واپس آیا کہ سچن تیز اور اٹھتی ہوئی گیند کا سامنا کرتے ہوئے پریشان ہو رہا ہے۔ اور میرا سامنا کرتے ہوئے تو وہ واضح طور پر مسائل سے دوچار ہو رہا تھا۔ یہ ہمارے آگے بڑھنے کے لیے کافی تھا۔

جب ہم دوبارہ میدان میں آئے، تو میں نے ایک بہت تیز گیند پھینکی، جو اس کے بلے سے نہیں لگی، لیکن حیران کن طور پر وہ میدان سے جانے لگا! یہ پہلا موقع تھا کہ میں نے سچن کو اپنا سامنا کرتے ہوئے گھبراتے اور دور ہٹتے دیکھا – اور وہ بھی فیصل آباد کی سست پچ پر۔ اس نے میری نشانہ بنانے کی عادت کو مزید جلا بخشی۔ اگلے مقابلے میں میں نے اسے سر پر گیند ماری، اور وہ اس کے بعد رنز بھی نہ بنا پایا۔

سچن کے جانے کے بعد بہت زیادہ مزاحمت نہ ہوتی۔ میں بلے باز کو ڈرانے دھمکانے اور اسے گزند پہنچانے کا کام کرتا اور آصف اُن کی وکٹیں سمیٹتا۔ ٹیم اجلاسوں میں ہم بھارتی کھلاڑیوں کے بارے میں اپنے مشاہدے جمع کرتے اور انہیں گھیرنے کی حکمت عملی ترتیب دیتے۔ یہ واحد موقع تھا جب ہم میں سے بیشتر نے اس حقیقت کو سمجھا کہ پچ کو تیز ہونا چاہیے۔ دو ٹیسٹ مقابلے بے نتیجہ ہونے کے بعد بالآخر ہم نے ایک مناسب پچ تیار کی، جیسی کہ میں شروع سے چاہتا تھا۔ اور پھر کیا ہوا؟ جی ہاں! ہم جیت گئے، کس طرح؟ ہم نے اُنہیں کچل ڈالا۔ ہم سب میچز جیت سکتے تھے لیکن کپتان کیونکہ بلے بازوں میں سے منتخب کیا گیا تھا، جو ہمیشہ دفاعی انداز سے سوچتا، اور میں کہوں تو منفی انداز سے۔ میرے خیال میں بغیر گھاس کی سست پچ بنانا خود غرضی کے مترادف ہے – کیونکہ یہ بلے باز کو انفرادی ریکارڈز بنانے کی اجازت دیتی ہے۔ لیکن آل راؤنڈرز کا شکریہ – جنہوں نے ہمارے لیے مقابلے جیتے۔

اس وڈیو میں 2:30 منٹ پر جو وکٹ ہے، یہ وہی وکٹ ہے جس کا ذکر اوپر شعیب اختر نے کیا ہے جس میں گيند سچن کے بلے یا دستانے کو چھوئے بغیر سیدھا کیپر کے ہاتھوں میں گئی اور اس کے باوجود وہ امپائر کے اشارے کا انتظار کیے بغیر میدان سے لوٹ گئے۔

(یہ اقتباس شعیب اختر کی سوانحِ عمری 'کنٹروورشلی یورز' سے ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس کتاب کے دیگر ترجمہ شدہ اقتباسات یہاں سے پڑھے جا سکتے ہیں۔)

Facebook Comments