مصباح الحق کو قیادت سے ہٹانا خارج از امکان ہے: ذکا اشرف

پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی بھارتی کرکٹ بورڈ کی طرح اپنے موجودہ کپتان کو ہٹائے جانے کے معاملے کو ٹھنڈا کر دیا ہے۔ ایک جانب جہاں بھارتی کرکٹ بورڈ نے ایشیا کپ کے لیے مہندر سنگھ دھونی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تو وہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکا اشرف نے مصباح الحق کو کپتان کی حیثیت سے ہٹائے جانے کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ذکا اشرف نے کہا کہ بحیثیت قائد مصباح نے بہت اچھا کام کیا ہے اور موجودہ صورتحال میں انہیں سپورٹ کی ضرورت ہے۔ تینوں طرز کی کرکٹ میں الگ ٹیموں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فی الوقت یہ صرف تجاویز ہیں اور ابھی تک ان پر پی سی بی نے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے، اس لیے مصباح الحق کو فوری طور پر نہیں ہٹایا جائے گا۔ اس امر کا حتمی فیصلہ بورڈ کی تمام کمیٹیوں کی باہمی مشاورت سے کیا جائے گا۔ اتنے اہم فیصلے جلدی میں نہیں کیے جاتے، جو بھی فیصلہ ہوگا وہ پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لیے ہوگا۔

مصباح الحق

ذکا اشرف کے علاوہ پاکستان کے سابق کپتان اور معروف تبصرہ نگار رمیز راجہ بھی مصباح الحق کو ہٹانے کے حق میں نہیں دکھائی دیتے

اپنی قیادت میں پاکستان کو 15 ٹیسٹ میں 9 فتوحات سے ہمکنار کرنے والے مصباح الحق کی کپتانی میں پاکستان نے 19 میں سے 14 ایک روزہ جیتے ہیں اور صرف پانچ میں اسے شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے، جن میں سے چار مقابلے انگلستان کے خلاف حالیہ سیریز میں کھیلے گئے۔ جبکہ اسی دورے میں عالمی نمبر ایک انگلستان کے خلاف پاکستان نے 3-0 سے ٹیسٹ سیریز بھی جیتی ہے۔ اس ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے بورڈ بھی مصباح کو ہٹانے میں پس و پیش سے کام لے رہا ہے۔ ان کے علاوہ مصباح کی کپتانی میں پاکستان نے 8 ٹی ٹوئنٹی کھیلے ہیں جن میں سے صرف دو ہی ہارے ہیں اور وہ بھی ابھی حالیہ سیریز میں۔

سال 2011ء میں مستقل کامیابیاں سمیٹنے کے باعث صرف ایک سیریز میں ناکامی کے باعث مصباح الحق کو 'دودھ میں مکھی کی طرح نکالنے' کا قدم اٹھا کر بورڈ ماضی کی غلطیاں نہیں دہرانا چاہتا اور اس لحاظ سے یہ بہت احسن قدم بھی ہے۔ لیکن اس سے مصباح پر دہری ذمہ داری عائد ہوگی کہ وہ آنے والے مقابلوں میں پاکستان کو فتوحات سے ہمکنار کر کے خود پر ہونے والی تنقید کو غلط ثابت کریں۔

ذکا اشرف کے علاوہ پاکستان کے سابق کپتان اور معروف تبصرہ نگار رمیز راجہ بھی مصباح الحق کو ہٹانے کے حق میں نہیں دکھائی دیتے اور ان کا کہنا ہے کہ صرف کپتان بدلنے سے پاکستانی ٹیم کی کمزوریاں درست نہیں ہوں گی اس کے لیے بحیثیت مجموعی ٹیم میں بہتری لانےکی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصباح الحق کی زیر قیادت پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں استحکام آیا ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیم میں کچھ نئے و باصلاحیت کھلاڑیوں کو شامل کیا جائے۔

رمیز راجہ نے کہا کہ ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شکست کی وجہ دراصل ٹیسٹ سیریز میں کلین سویپ کے بعد ٹیم سے پیدا ہونے والی توقعات تھیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان ٹیسٹ مقابلوں سمیت پوری سیریز میں بلے بازوں کی ناکامی کا شکار رہا، ٹیسٹ میں تو یہ باؤلرز کی اچھی کارکردگی میں چھپ گئی لیکن ایک روزہ و ٹی ٹوئنٹی میں یہ خامی کھل کر سامنے آ گئی۔ رمیز راجہ نے کہا کہ بلے بازی کے ساتھ ساتھ فیلڈنگ اور کھلاڑیوں کا مکمل فٹ ہونا بھی ٹیم کے اہم ترین مسئلے ہیں جن پر قابو پانا ضروری ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کو اگلے ماہ ایشیا کپ کھیلنا ہے، جہاں اس کا مقابلہ بھارت اور سری لنکا جیسی مضبوط ٹیموں سے بھی ہوگا۔ ٹورنامنٹ کے لیے بھارت نے اپنی ٹیم کا اعلان کر دیا ہے جبکہ پاکستان اپنے دستے کا اعلان کرنے والا ہے۔

Facebook Comments