حوصلے بلند ہیں، کچھ خاص کر دکھائيں گے: محمد حفیظ

مختصر ترین طرز کی کرکٹ کے سب سے بڑے ٹورنامنٹ ”ورلڈ ٹی ٹوئنٹی“ میں پاکستان ایک قابل رشک ریکارڈ کا حامل ہے۔ 2007ء میں جنوبی افریقہ میں کھیلے گئے پہلے ٹورنامنٹ میں پاکستان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فائنل میں جگہ پائی اور ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد روایتی حریف بھارت کے ہاتھوں شکست کھائی لیکن 2009ء میں انگلستان میں ہونے والے دوسرے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں یونس خان کی زیر قیادت پاکستان نے تاریخی فتح حاصل کی اور سری لنکا کے خلاف فائنل جیت کر 1992ء کے عالمی کپ کے بعد ملک کو دوسرا عالمی اعزاز بخشا۔ گو کہ 2010ء میں ویسٹ انڈیز میں کھیلے گئے تیسرے ٹورنامنٹ میں پاکستان کی کارکردگی اتنی عمدہ نہیں رہی لیکن کچھ خوش قسمتی اور کچھ بروقت اچھے کھیل نے پاکستان کو سیمی فائنل تک پہنچا دیا جہاں آسٹریلیا کے مائیکل ہسی تن تنہا پاکستان کی پیشرفت کی راہ میں دیوار بن گئے اور پاکستان کی دوڑ سیمی فائنل ہی میں تمام ہوئی۔ لیکن اس تاريخ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہر ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کم از کم سیمی فائنل تک ضرور پہنچا ہے اور محمد حفیظ الیون ایک مرتبہ پھر یہی تاریخ دہرانے کی کوشش کرے گی۔

ماضی میں بھی کارکردگی اچھی رہی ہے، دہرانے کی کوشش کریں گے (تصویر: AFP)

ماضی میں بھی کارکردگی اچھی رہی ہے، دہرانے کی کوشش کریں گے (تصویر: AFP)

اسی عزم کے ساتھ قومی کرکٹ ٹیم بحر ہند کے خوبصورت جزیرے سری لنکا پہنچ چکی ہے جہاں پہلی بار صحافیوں کا سامنا کرتے ہوئے پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی کپتان محمد حفیظ نے کہا ہے کہ ”تجربہ کار کھلاڑیوں کی خدمات کا حاصل ہونا اور حالیہ دورۂ سری لنکا اور پریمیئر لیگ کھیلنے کے باعث مقامی موسم و حالات سے بہتر آگہی کے علاوہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹس میں پاکستان کا سابقہ ریکارڈقومی کرکٹ ٹیم کے لیے مثبت علامتیں ہیں اور ان سے پاکستان کو بھرپور اعتماد ملے گا۔“

آسٹریلیا کے خلاف حالیہ ٹی ٹوئنٹی سیریز جیت کر نئے عزم و حوصلے پانے والی قومی ٹیم کے کپتان کا کہنا ہے کہ ”عالمی کپ جیتنا ہمیشہ قوم کا خواب رہا ہے اور 1992ء اور 2009ء میں ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کے عالمی اعزاز حاصل کر کے پاکستان یہ کارنامہ ماضی میں بھی انجام دے چکا ہے اور اس مرتبہ بھی پراعتماد قومی ٹیم کے جیتنے کے امکانات واضح ہیں۔ اب تک ہونے والے تمام ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں پاکستان کی کارکردگی بہت عمدہ رہی اور انہی کامیابیوں کے بل بوتے پر اس مرتبہ اچھے نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے۔“

حفیظ نے ٹیم میں تجربہ کار کھلاڑیوں کی موجودگی کے حوالے سے خصوصاً شاہد آفریدی کا ذکر کیا، جو آسٹریلیا کے خلاف ایک روزہ سیریز میں اپنا بایاں ہاتھ زخمی ہونے کے باعث ٹی ٹوئنٹی سیریز نہیں کھیل پائے تھے اور اس وقت صحت یابی کے مراحل سے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”شاہد آفریدی ٹی ٹوئنٹی طرز کے تجربہ کار ترین کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں اور وہ کسی بھی دن مقابلے کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں۔“ انہوں نے کہاکہ ”سری لنکا کے موسم سے بہتر آشنائی اور کھلاڑیوں کا بہترین تال میل ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں بہترین کام کر سکتا ہے۔“

سری لنکا کے حالات سے آگہی کا دعویٰ رواں سال جون میں تین ٹیسٹ، پانچ ایک روزہ اور دو ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کی طویل سیریز بعد ازاں ٹیم کے متعدد اراکین کی جانب سے سری لنکا پریمیئر لیگ میں شرکت کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے اور محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ ”پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایس ایل پی ایل کھیلنے کی اجازت اسی امر کو ذہن میں رکھتے ہوئے دی تھی کہ ہم سری لنکا کی کنڈیشنز سے مانوسیت حاصل کر لیں۔“

باضابطہ طور پر 18ستمبر سے شروع ہونے والے ٹورنامنٹ کے لیے پاکستان نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش کے ساتھ گروپ ”ڈی“ میں موجود ہے۔ گو کہ پاکستان کے گروپ کو آسان تصور کیا جا رہا ہے لیکن حفیظ کسی کو ”ہلکا“ لینے کی غلطی نہیں کرنا چاہ رہے اور ان کا کہنا ہے کہ ”ٹی ٹوئنٹی طرز کی کرکٹ میں کوئی ایک اوور بھی میچ کا نتیجہ بدل سکتا ہے اور اس میں بنگلہ دیش اور زمبابوے تک کی کارکردگی بہت عمدہ ہے اس لیے ہم ہر گز کسی ٹیم کو ہیچ نہیں سمجھیں گے۔ اس وقت ٹورنامنٹ کا پہلا یعنی گروپ مرحلہ گزارنے کے حوالے سے ہم پر دباؤ ہے اور ہم اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔“

پاکستان اپنے دونوں گروپ مقابلے پالی کیلے میں کھیلے گا، جہاں کی وکٹ کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ یہ تیز گیند بازوں کو مدد دیتی ہے۔ یوں آجکل اسپن گیند بازی پر بہت زیادہ بھروسہ کرنے والے پاکستان کے لیے تشویش کا ایک پہلو ضرور موجود ہے لیکن محمد حفیظ سمجھتے ہیں کہ تیز و اسپن دونوں گیند بازوں کا اچھا ملاپ یہاں کامیابی کے لیے کافی ہوگا۔ اس کے علاوہ انہوں نے فیلڈنگ کے شعبے میں قومی کرکٹ ٹیم کی محنت کا ذکر کیا اور آسٹریلیا کے خلاف حالیہ ٹی ٹوئنٹی سیریز میں فیلڈرزکی عمدہ کارکردگی کا حوالہ بھی دیا۔

پاکستان ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے آغاز سے قبل 17 ستمبر کو روایتی حریف بھارت کے خلاف وارم اپ میچ کھیلے گا جبکہ ٹورنامنٹ شروع ہونے کے بعد 19 ستمبر کو انگلستان کے خلاف بھی ایک وارم اپ مقابلہ ہوگا۔

Facebook Comments