اعصاب شکن معرکہ اور بنگلہ دیش کی تاریخی فتح

دو سال قبل جب بنگلہ دیش نے مہمان نیوزی لینڈ کو سیریز میں 4-0 سے شکست دے کر دنیا پر ثابت کر دیا تھا کہ وہ کم از کم اپنے گھر میں دیگر ٹیموں کے لیے لوہے کا چنا ثابت ہوگی اور کسی حد تک یہی ثبوت اس نے رواں سال ایشیا کپ کے دوران بھی دیا، جہاں وہ ایشین چیمپئن بننے سے 'دو چار ہاتھ' کے فاصلے پر ہمت ہار گیا، لیکن اس مقابلے سے ظاہر ہو گیا کہ محدود اوورز میں بنگلہ دیش کو کمزور حریف سمجھنا اک بہت بڑی غلطی ہوگی اور شاید یہی غلطی ویسٹ انڈیز سے بھی ہوئی ہے۔ جو تمام تر کوششوں کے باوجود سیریز میں ناکامی کے داغ سے بچ پایا اور ڈھاکہ میں آخری ایک روزہ مقابلے میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد شکست سے دوچار ہو گیا۔

مشفق الرحیم سیریز ٹرافی کے ہمراہ، انہیں سیریز کا بہترین کھلاڑی بھی قرار دیا گیا (تصویر: AFP)

مشفق الرحیم سیریز ٹرافی کے ہمراہ، انہیں سیریز کا بہترین کھلاڑی بھی قرار دیا گیا (تصویر: AFP)

بنگلہ دیش نے اعصاب شکن معرکہ آرائی کے بعد محض دو وکٹوں سےکامیابی حاصل کر کے اک اور تاریخ رقم کر دی۔ جبکہ حال ہی میں ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ جیت کر آسمانوں پر محو پرواز ویسٹ انڈیز پہلی ہی محدود اوورز کی سیریز میں بری طرح ناکام ہوا۔ گو کہ سیریز میں 2-0 سے خسارے کے باوجود وہ عمدہ کارکردگی کے ذریعے سیریز برابر کرنے میں کامیاب ہوا لیکن حتمی معرکے میں 30 رنز پر تین وکٹیں گنوانے کے بعد کپتان مشفق الرحیم اور محمود اللہ کی ذمہ دارانہ بلے بازی اور اختتامی لمحات میں ناصر حسین کی بہترین کارکردگی اس کے ہاتھوں سے سیریز چھین کر لے گئی۔

کھلنا میں کھیلے گئے اولین دونوں ایک روزہ مقابلوں میں ویسٹ انڈیز کو نکیل ڈالنے کے بعد جوابی کارروائی کے باعث پچھلے قدموں پر لوٹ جانے والے بنگلہ دیش نے شیر بنگلہ اسٹیڈیم، ڈھاکہ میں ہونے والے آخری مقابلے میں ٹاس جیتا اور ویسٹ انڈیز کو بلے بازی کی دعوت دی۔ جس کا ٹاپ آرڈر ایک مرتبہ پھر بری طرح ناکامی سے دوچار اور ٹیم 17 رنز پر ابتدائی تین وکٹیں گنوا بیٹھی۔ اگر اس موقع پر کیرون پولارڈ 74 گیندوں پر 85 رنز کی شاندار باری نہ کھیلنے اور ڈیرن براوو 51 رنز کے ساتھ ان کا بھرپور ساتھ نہ دیتے تو ویسٹ انڈیز بہت بری طرح میچ ہارتا۔

پولارڈ بنگلہ دیشی باؤلنگ پر مکمل طور پر حاوی رہے۔ انہوں نے 8 مرتبہ گیند کو چھکے کی راہ دکھائی جبکہ 5 چوکے بھی لگائے۔ براوو کے ساتھ مل کر چوتھی وکٹ پر 132 رنز کی زبردست شراکت داری قائم کی اور ویسٹ انڈیز کو میچ میں واپس لے آئے۔ لیکن ڈیرن سیمی اور دیگر بلے بازوں کی جانب سے موقع سے فائدہ نہ اٹھا پانا ایک بڑے مجموعے تک عدم رسائی کا سبب بنا اور پوری ٹیم 48 ویں اوور میں 217 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ پولارڈ کے علاوہ کامیاب ترین بلے باز براوو رہے جنہوں نے 108 گیندوں پر 51 رنز بنائے۔

بنگلہ دیش کی جانب سے شفیع الاسلام نے 3، محمود اللہ اور مومن الحق نے 2،2جبکہ سہاگ غازی نے ایک وکٹ حاصل کی۔

بظاہر ہدف آسان لگتا تھا لیکن گزشتہ روز کی کارکردگی سب کے ذہنوں میں ہوگی جہاں محض 212 کے تعاقب میں بنگلہ دیشی ٹیم 136 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی۔ اسی خوف کے سائے تیسرے اوور میں نظر آئے جب کیمار روچ نے ایک ہی اوور میں دو انتہائی خوبصورت گیندوں پر اوپنرز تمیم اقبال اور انعام الحق کو میدان بدر کر دیا۔ تمیم اقبال سیم پر باہر نکلتی ہوئی ایک گیند کو نہ سمجھ پائے اور گیند ان کی آف اسٹمپ اڑاتی ہوئی نکل گئی جبکہ انعام الحق مسلسل دو شارٹ گیندوں پر بری طرح گھبرا جانے کے بعد تیسری گیند کو پوائنٹ پر کھڑے کیرون پولارڈ کے ہاتھوں میں دے بیٹھے، جنہوں نے آگے کی جانب جست لگا کر اک خوبصورت کیچ تھاما اور ویسٹ انڈیز کو غالب پوزیشن پر پہنچا دیا۔ اسی پاور پلے کے دوران بنگلہ دیش کو ظہورالاسلام کی وکٹ سے بھی محروم ہو جانا پڑا، اور وہ بھی روچ ہی کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔

تین وکٹیں گر جانے کے بعد ذمہ داری ایک مرتبہ پھر تجربہ کار مشفق الرحیم اور محمود اللہ کے کاندھوں پر تھی جنہوں نے چوتھی وکٹ پر 91 قیمتی رنز جوڑے اور بنگلہ دیش کی ڈوبتی کشتی کو کچھ سہارا ملا۔ بدقسمتی سے دونوں کھلاڑی اپنی نصف سنچریاں مکمل نہ کر سکے اور سنیل نرائن کے ایک ہی اسپیل میں آؤٹ ہوئے۔ محمود اللہ 45 گیندوں پر48 اور مشفق 56 گیندوں پر 44 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے تو میچ بہت مشکل مرحلے میں داخل ہو گیا۔

133 رنز پر آدھی وکٹیں گر جانے کے بعد لوئر آرڈر خصوصاً ناصر حسین کے نازک کاندھوں پر بڑا بوجھ آن پڑا۔ انہوں نے پہلے مومن الحق کے ساتھ 53 اور پھر سہاگ غازی کے ساتھ 28 رنز کی شراکت داریاں قائم کیں اور بنگلہ دیش کو کامیابی کے انتہائی نزدیک پہنچا دیا۔ اس مرحلے پر جب بنگلہ دیش کو فتح کے لیے 4 رنز کی ضرورت تھی، روچ کے ایک ہی اوور میں سہاگ اور عبد الرزاق کی وکٹیں گرنے سے میچ انتہائی سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہو گیا لیکن تاہم ناصر نے اعصاب پر قابو رکھا۔

شاندار فتح کے بعد بنگلہ دیشی کھلاڑیوں نے بھی اپنی 'گینگ نیم اسٹائل' رقص کی مہارتیں دکھائیں۔ جیسا کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتنے کے بعد ویسٹ انڈیز نے دکھائی تھیں (تصویر: AFP)

شاندار فتح کے بعد بنگلہ دیشی کھلاڑیوں نے بھی اپنی 'گینگ نیم اسٹائل' رقص کی مہارتیں دکھائیں۔ جیسا کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتنے کے بعد ویسٹ انڈیز نے دکھائی تھیں (تصویر: AFP)

اگلے اوور میں مقابلہ برابر ہونے کے بعد ناصر حسین نے کور کی جانب اک خوبصورت شاٹ لگایا اور رن مکمل کرتے ہوئے فتح کا جشن منانے لگے لیکن دوسرے اینڈ پر کھڑے الیاس سنی یہی سمجھتے رہے کہ گیند چوکے کے لیے چلی گئی ہے اور رن مکمل نہیں کیا جبکہ باؤنڈری پر موجود فیلڈر نے گیند واپس پھینکی اور کیرون پاول نے ان کی وکٹیں بکھیر دیں۔ کپتان نے اپیل کی کہ رن مکمل نہیں ہوا، تیسرے امپائر نے تصدیق کی البتہ رن آؤٹ نہیں دیا گیا۔ لیکن اگلی گیند کو ناصر نے کٹ کھیلتے ہوئے چوکے کی راہ دکھا دی اور پھر پورا ڈھاکہ فتح کے نعروں سے گونج اٹھا!

ویسٹ انڈیز کی جانب سے کیمار روچ نے 5 وکٹیں حاصل کیں اور ان کی یہ شاندار کارکردگی بھی ٹیم کی بنگلہ دیش جیسے کمزور حریف کے ہاتھوں شکست کا باعث بنی ۔ سنیل نرائن نے تین وکٹیں حاصل کیں۔

محمود اللہ کو میچ جبکہ مشفق الرحیم کو سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

ایک روزہ سیریز اپنے اختتام کو پہنچی لیکن ویسٹ انڈیز کی اہلیت پر کئی سوالیہ نشان چھوڑ گئی ہے۔ پوری سیریز میں ویسٹ انڈیز کی باؤلنگ میں وہ دم خم نظر نہیں آیا، جو اس کا خاصہ ہونا چاہیے خصوصاً بنگلہ دیش جیسی ٹیم کے خلاف۔ درمیان میں جو دو مقابلے ویسٹ انڈیز نے جیتے، وہ بھی بلے بازو ں اور آل راؤنڈرز کی کارکردگی کی وجہ سے۔ اس آخری مقابلے میں جہاں ایڑی چوٹی کے زور کی ضرورت تھی، ویسٹ انڈین باؤلرز نے 27 فاضل رنز دے کر حریف ٹیم کے لیے ہدف تک رسائی کو مزید آسان بنایا۔ پھر اس حوالے سے بھی یہ ویسٹ انڈیز کی کمزوری رہی کہ وہ تمام 50 اوورز نہیں کھیل پایا اور ٹیم 48 اوورز میں آؤٹ ہو گئی۔ بلے بازوں کو بجائے اسکور کو جلد از جلد بڑھانے کی کوشش میں وکٹیں گنوانے کے تمام اوورز کھیلنے پر نظر مرکوز رکھنی چاہیے تھی۔ رہی سہی کسر نازک مواقع پر دو آسان کیچ چھوڑنے نے پوری کر دی۔ بہرحال، بحیثیت مجموعی یہ مقابلہ ویسٹ انڈیز کے لیے بہت مایوس کن رہا اور گزشتہ دو مقابلوں میں جیت سے جو تحریک ملی تھی، وہ آخری مقابلے میں بالکل نظر نہیں آئی۔

اب سیریز میں صرف ایک ٹی ٹوئنٹی مقابلہ رہ گیا ہے جو 10 دسمبر کو ڈھاکہ ہی میں کھیلا جائے گا۔

Facebook Comments