آسٹریلین کیمپ میں کھلبلی، بھارت تاریخی فتح کا منتظر

چنئی اور حیدرآباد میں تاریخی فتوحات، اور آسٹریلیا کے خیمے میں پڑھنے والی پھوٹ، کے بعد بھارت ایک تاریخی فتح حاصل کرنے کے قریب ہے۔ کل یعنی جمعرات سے موہالی میں شروع ہونے والا تیسرا ٹیسٹ ہو سکتا ہے بھارت کے لیے آسٹریلیا کے خلاف سب سے بڑے مارجن سے سیریز فتح کا مژدہ ثابت ہو۔

بھارت آسٹریلیا کے کیمپ میں مچی کھلبلی کا فائدہ اٹھا کر تاریخ رقم کرنے کی کوشش کرے گا (تصویر: BCCI)

بھارت آسٹریلیا کے کیمپ میں مچی کھلبلی کا فائدہ اٹھا کر تاریخ رقم کرنے کی کوشش کرے گا (تصویر: BCCI)

اولین دونوں ٹیسٹ مقابلوں میں بدترین شکستیں ایک طرف، لیکن آسٹریلیا کے لیے سب سے بڑی ضرب وہ ہنگامہ ہے جس کے نتیجے میں نائب کپتان شین واٹسن سمیت چار کھلاڑیوں کو نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر موہالی ٹیسٹ کھیلنے کے لیے نااہل قرار دیا گیا۔ واٹسن کے علاوہ تیز گیند باز جیمز پیٹن سن، مچل جانسن اور بلے باز عثمان خواجہ دیگر کھلاڑی ہیں جو اگلے ٹیسٹ میں نہیں کھیل پائیں گے۔ اس معاملے سے نائب کپتان اس قدر ناراض ہوئے کہ سڈنی جا کر ہی دم لیا ہے۔ "نظم و ضبط کی خلاف ورزی" کی وجوہات تو اپنی جگہ مضحکہ خیز ہیں ہی، لیکن کوچ مکی آرتھر نے ایسا قدم اٹھانے کے لیے جو وقت چنا وہ بہت ہی غلط ہے۔

عین اس وقت جب آسٹریلیا کو سیریز میں اپنے امکانات کو برقرار رکھنے کے لیے اتحاد کی ضرورت تھی، یہ معاملہ ٹیم کو سنگین صورتحال سے دوچار کر گیا ہے۔ اور دوسری جانب بھارت کسی ماہر شکاری کی طرح سیریز جیتنے پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔

اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو آسٹریلیا تو متعدد بار بھارت کو 'وائٹ واش' کر چکا ہے لیکن بھارت کبھی بھی کینگروز کو 2-0 سے زیادہ کے مارجن سے زیر نہیں کر پایا۔ بھارت نے پہلی بار 1979-80ء کی ٹیسٹ سیریز میں 2-0 سے آسٹریلیا کو ہرایا جب اس کے کپتان کم ہیوز تھے۔ مجموعی طور پر مذکورہ سیریز میں چھ ٹیسٹ کھیلے گئے تھے۔ اس کے علاوہ بھارت 2008-09ء میں چار مقابلوں اور 2010-11ء میں دو مقابلوں میں اسی مارجن سے آسٹریلیا پر قابو پا چکا ہے اور دونوں بار شکست خوردہ کپتان رکی پونٹنگ تھے۔ لیکن بھارت کبھی بھی دو-صفر سے بڑے مارجن سے آسٹریلیا کو شکست نہیں دے سکا اور اب مہندر سنگھ دھونی کی قیادت میں اسے یہ تاریخی موقع میسر ہے کہ وہ نہ صرف موہالی ٹیسٹ جیت کر گزشتہ سال آسٹریلوی سرزمین پر کلین سویپ کا داغ دھوئے بلکہ حال ہی میں انگلستان کے خلاف ہوم سیریز پر اٹھائی جانے والی ہزیمت کا بھی خاتمہ کرے۔

روایتی طور پر پی سی اے اسٹیڈیم، موہالی کی پچ تیز گیندبازوں کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے لیکن بھارت ایسی غلطی ہر گز نہیں کرے گا۔ تیز گیندبازی کے شعبے میں اس کا آسٹریلیا کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں اور پیٹن سن اور جانسن کے باہر ہونے کے باوجود آسٹریلوی باؤلنگ میں اتنا دم خم ہے کہ وہ مددگار کنڈیشنز میں اس کے بخیے ادھیڑ دے۔ یہی وجہ ہے کہ موہالی میں اسپنرز کے لیے مددگار وکٹ بنائی گئی ہے۔ انگلستان کے خلاف حالیہ ہوم سیریز میں تو یہ چال الٹی چل گئی تھی اور انگلستان گریم سوان اور مونٹی پنیسر کی بدولت سیریز لے اڑا لیکن آسٹریلیا کی ٹیم میں اچھے اسپنرز کی عدم موجودگی بھارت کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔

اولین دونوں ٹیسٹ میچز میں شائقین کی بھرپور دلچسپی کے بعد توقع ہے کہ موہالی، چندی گڑھ میں بھارت کی تاریخی فتح کی توقع لیے شائقین کرکٹ کی ایک بہت بڑی تعداد اسٹیڈیم کا رخ کرے گی۔ یہ توقع اس لیے بھی ہے کہ میچ کے تیسرے و چوتھے روز ہفتہ اور اتوار ہوگا۔

Facebook Comments