انگلش کنڈیشنز؟ باؤلرز کا کچومرنکل گیا، بھارت فتحیاب

انگلش کنڈیشنز، انگلش کنڈیشنز، انگلش کنڈیشنز، کتنا شور تھا نا چیمپئنز ٹرافی شروع ہونے سے پہلے؟ اور افتتاحی مقابلے میں کیا ہوا؟ 636 رنز بن گئے اور سوائے اسپنرز کے کسی باؤلر کی دال نہ گلی۔ اور جب اسپنر چل جائیں تو کس کو فاتح ہونا چاہیے؟ جی ہاں! بھارت۔ وارم اپ مقابلوں کی کارکردگی کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے دھونی الیون نے ایک لمحے کے لیے بھی پروٹیز کو مقابلے پر حاوی ہونے دیا اور با آسانی 26 رنز کی فتح حاصل کی۔

شیکھر دھاون کی پہلی ون ڈے سنچری بھارت کی نیّا پار لگا گئی (تصویر: ICC)

شیکھر دھاون کی پہلی ون ڈے سنچری بھارت کی نیّا پار لگا گئی (تصویر: ICC)

بھارت کی فتح میں بلے بازی کے علاوہ اس کی عمدہ گیندبازی اور بہترین فیلڈنگ کا بھی اہم کردار رہا، جس نے ثابت کر دیا کہ بھارت کو ٹائٹل کے لیے خارج از امکان سمجھنے والے کتنی بڑی غلطی پر ہیں۔ کارڈف میں ہونے والے افتتاحی مقابلے میں فتح کے مرکزی عوامل شیکھر دھاون کی سنچری اور جنوبی افریقہ کا حکمت عملی سے عاری کھیل تھے۔ ڈیل اسٹین کے بغیر میدان میں اترنے اور بعد ازاں مورنے مورکل کے بھی زخمی ہو جانے کے بعد پست حوصلہ جنوبی افریقی باؤلرز نے بہت گھٹیا باؤلنگ کی اور رہی سہی کسر بعد ازاں بیٹنگ کرتے ہوئے رن آؤٹس نے پوری کر دی۔ نتیجہ اک اہم مقابلے میں شکست کی صورت میں نکلا۔

جنوبی افریقہ کو گو کہ ٹاس جیتنے کا موقع ملا اور اس نے کنڈیشنز کو دیکھتے ہوئے گیندبازی کا ہی فیصلہ کیا لیکن پہلی ہی وکٹ پر روہیت شرما اور شیکھر دھاون نے 'دنیا کی بہترین باؤلنگ لائن اپ' کے ارمان ٹھنڈے کر دیے۔ جنوبی افریقہ کے باؤلرز یہ سمجھتے رہے کہ وہ بھارتی بلے بازوں کی شارٹ پچ گیندوں کے خلاف روایتی کمزوری کافائدہ اٹھا لیں گے، لیکن بھارت خوب تیاری کے ساتھ میدان میں اترا تھا اور حریف باؤلرز کو ایسا سبق پڑھایا کہ ابتدائی 40 اوورز میں وہ صرف چار وکٹیں ہی لے سکے۔

سب سے شاندار کارکردگی بھارتی اوپنرز کی تھی اور محض 21 اوورز میں 127 رنز کی شراکت داری اس کا واضح ثبوت تھی۔ روہیت، جن کی شمولیت پر عرصے سے ایک حلقہ ناک بھوں چڑھائے ہوئے ہے، آج کپتان کے اعتماد پر پورے اترے اور 81 گیندوں پر ایک چھکے اور 8 چوکوں کی مدد سے 65 رنز بنانے میں کامیاب رہے۔

جنوبی افریقہ ویسے ہی اپنے اہم باؤلر ڈیل اسٹین کےبغیر کھیل رہا تھا، وہ اس کارروائی کو کہاں جھیل سکتا تھا؟ پھر 'مرے ہوئے کو سو درّے' کہ دوسرے مرکزی باؤلر مورنے مورکل بھی زخمی ہوگئے۔ یہ تو بھارتی بلے بازوں کو کھلی چھوٹ دینے والی بات ہو گئی۔ جنہوں نے اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھایا بھی اور روہیت کے بعد دھاون اور ویراٹ کوہلی نے بھی 83 رنز جڑ ڈالے۔ تلواری مونچھوں سے گیندبازوں کو دہشت زدہ کرنے میں کامیاب ہونے والے شیکھر نے اپنی پہلی ایک روزہ سنچری محض 80 گیندوں پر مکمل کی۔

بھارت کےلیے آخری پاور پلے مہنگا پڑ گیا، جس میں فیلڈرز پر پابندی کا فائدہ اٹھانے کے چکر میں دھاون اور دنیش کارتک دونوں کی وکٹیں گرگئیں۔ اس موقع پر واضح طور پر لگتا تھا کہ بھارت 350 رنز کو نظروں میں رکھے ہوئے ہے لیکن پے در پے وکٹیں گرنے سے رنز بنانے کی رفتار میں مزیداضافہ نہ ہو سکا۔ بہرحال، دھاون کی 94 گیندوں پر 114 رنز کی اننگز اور بعد ازاں آخری لمحات میں رویندر جدیجا کے 29 گیندوں پر 47 رنز نے بھارت کو 331 رنز تک ضرور پہنچا دیا۔ جدیجا نے ان لمحات میں اسکور بورڈ کو متحرک رکھا جب دوسرے اینڈ سے مسلسل وکٹیں گر رہی تھیں۔ انہوں نے میچ کی آخری دو گیندوں پر بھی دو چوکے رسید کیے اور ناقابل شکست میدان سے لوٹے۔
جنوبی افریقہ کے باؤلرز کی حالت قابل رحم تھی۔ مورکل 7 اوورز بھی نہ پھینک پائے، سوٹسوبے نے 10 اوورز میں 83، روری کلائن ویلٹ نے 81 اور راین میک لارن نے 70 رنز کھائے۔ صرف ژاں پال دومنی ہی کچھ بہتر باؤلر ثابت ہوئےجنہوں نے اپنے 10 اوورز میں 42 رنز دیے۔ وکٹیں صرف میک لارن، سوٹسوبے اور دومنی کو ملیں جو بالترتیب 3، 2 اور ایک رہیں۔

332 رنز کے ہدف کے تعاقب میں جنوبی افریقہ کو ابتداء ہی میں سخت دھچکا پہنچا۔ پاکستان کے خلاف وارم اپ مقابلے کی طرح ابتداء ہی میں اوپنرز کی وکٹیں گنوانا پڑیں۔ پہلے کولن انگرام بھوونیشور کمار کی وکٹ بنے تو دوسرے اینڈ سے امیش یادیو نے خطرناک موڈ میں نظر آنے والے ہاشم آملہ کو ٹھکانے لگاکر جنوبی افریقہ کے تابوت میں پہلی کیل ٹھونک دی۔ ہاشم 15 گیندوں پر 4 چوکوں کے ساتھ 22 رنز بنا چکے تھے، اور اگلے پچھلے تمام بدلے چکانے کے موڈ میں تھے۔

بہرحال، 31 رنز پر اوپنرز سے محروم ہو جانے کے بعد آنے والے بلے بازوں پر بہت ذمہ داری عائد ہوتی تھی۔ کپتان ابراہم ڈی ولیئرز نے نچلے نمبروں سے رابن پیٹرسن کو ون ڈاؤن بھیجا تھا اور کچھ ہی دیر میں خود بھی ان سے آ ملے۔ دونوں نے تیسری وکٹ پر 124 رنز جوڑ کر مقابلے کو دلچسپ مرحلے میں داخل کر دیا۔ پیٹرسن نے اپنے ایک روزہ کیریئر کی پہلی نصف سنچری 51 گیندوں پر بنائی اور عین اس وقت جب وہ مقابلے کو بھارت کی پہنچ سے بہت دور لےجانے والے تھے، رویندر جدیجا کی خوبصورت فیلڈنگ نے پیٹرسن کی اننگز کا خاتمہ کر دیا۔ 72 گیندوں پر 6 چوکوں کی مدد سے 68 رنز بنا کر رابن پیٹرسن انتہائی بوجھل قدموں کے ساتھ میدان سے لوٹے اور یہیں سے جنوبی افریقہ کا زوال شروع ہوا اور بھارتی اسپنرز مقابلے پر حاوی ہوتے چلے گئے۔

"سر" رویندر جدیجا، 29 گیندوں پر 47 رنز،  دو وکٹیں، ایک کیچ، ایک رن آؤٹ (تصویر: Getty Images)

"سر" رویندر جدیجا، 29 گیندوں پر 47 رنز، دو وکٹیں، ایک کیچ، ایک رن آؤٹ (تصویر: Getty Images)

چند ہی اوورز کے بعد مرد بحران سمجھے جانے والے ژاں-پال دومنی رویندر جدیجا کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے اور پھر اگلےہی اوور میں سب سے بڑا دھچکا، ابراہم ڈی ولیئرز کا آؤٹ۔ یوں 184 پر ہی جنوبی افریقہ آدھی ٹیم گنوا بیٹھا اور مقابلے سے تقریباً باہر ہو گیا۔ ڈی ولیئرز 69گیندوں پر 71 رنز بنا چکے تھے کہ امیش یادیو کی ایک اٹھتی ہوئی گیند کو کھیلنے کی سعی لاحاصل میں وکٹ گنوا گئے۔

اس مقام پر بھی جنوبی افریقہ میچ نکال سکتا تھا۔ ڈیوڈ ملر اور فرانکو دو پلیسی پوری صلاحیت رکھتے تھے کہ 18 اوورز میں 145 رنز بنا سکیں،لیکن اس جگہ پر دونوں بلےبازوں کے درمیان ہم آہنگی خراب ہونے سے جو صورتحال پیدا ہوئی، جنوبی افریقہ کو اس کا خمیازہ میچ کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ کسی بھی ٹیم کے لیے سب سے برا نظارہ کہ اس کے دونوں بلے باز ایک اینڈ پر موجود ہوں اور دوسرے اینڈ پر حریف کھلاڑی بیلز اڑا دے۔ملر بغیر کوئی گیند کھیلے واپس آ گئے۔

راین میک لارن میدان میں اترے، اور حقیقت یہ ہے کہ انہیں ایک یا دو ساتھی میسر آ جاتے تو میچ کا نتیجہ شاید کچھ اور ہوتا۔انہوں نے آتے ہی دو چوکے لگا کراپنے ارادے ظاہر کیے اور ہر اوور میں دونوں اینڈز سے چوکے نکلنے لگے یہاں تک کہ دو پلیسی آخری پاور پلے کے استعمال کی کوشش میں وکٹ دے گئے۔ 23 گیندوں پر 30 رنز بنانےکےبعد ان کی واپسی ہوئی اوراب ایک اینڈ بالکل غیر محفوظ ہو گیا۔ میک لارن اپنی سی کوشش کرتے رہے جس کے دوران انہوں نےاپنی پہلی ون ڈے نصف سنچری بھی مکمل کی لیکن کلائن ویلٹ کے بعد تو بالکل ہی ناممکن ہو گیا کیونکہ مورنے مورکل زخمی تھے اور عام کھلاڑی کی طرح دوڑ نہ سکتے تھے۔ نتیجہ یہ کہ باؤنڈری لائن پر کھڑے کھلاڑی تک پہنچنے والے شاٹس پر بھی ایک رن نہ بنتا ۔

آخری اوور میں جنوبی افریقہ کو 33 رنز کی ضرورت تھی اور آخری گیند پر مورکل بولڈ ہو گئے۔ جنوبی افریقہ کی اننگز 305 رنز پر تمام ہوئی اور میک لارن 61 گیندوں پر 71 رنز کے ساتھ ناقابل شکست لوٹے۔

بھارت کے تیز باؤلرز کا حال بھی جنوبی افریقی ساتھیوں سے مختلف نہ رہا۔ ایشانت شرما نے 8 اوورز میں66 رنز دیے، یادیوکو10 میں 75 اور بھوونیشور کو 7 میں 49 رنز کی مار سہنا پڑی۔ لیکن تینوں باؤلرز نے دو، دو وکٹیں ضرور لیں جبکہ دو وکٹیں رویندر جدیجا کو بھی ملی، جنہوں نے 9 اوورز میں صرف 33 رنز دیے جبکہ آشون نے بھی 10 اوورز میں صرف 47 رنز دے کر اپنا بھرپور حصہ ڈالا، گو کہ انہیں کوئی وکٹ نہ ملی۔

شیکھر دھاون کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

دو قیمتی پوائنٹس ملنے کے بعد اب بھارت گروپ 'بی' میں سرفہرست آ گیا ہے، اسی گروپ کا اگلا مقابلہ کل پاکستان اور ویسٹ انڈیزکے درمیان اوول میں کھیلا جائے گا۔

بھارت بمقابلہ جنوبی افریقہ

چیمپئنز ٹرافی 2013ء، پہلا مقابلہ

6 جون 2013ء

بمقام: صوفیہ گارڈنز، کارڈف

نتیجہ: بھارت 26 رنز سے کامیاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: شیکھر دھاون

بھارت رنز گیندیں چوکے چھکے
روہیت شرما ک  پیٹرسن ب میک لارن 65 81 8 1
شیکھر دھاون ک متبادل ب دومنی 114 94 12 1
ویراٹ کوہلی ک آملہ ب سوٹسوبے 31 41 2 0
دنیش کارتک ک ڈی ولیئرز ب میک لارن 14 15 1 1
مہندر سنگھ دھونی ک دو پلیسی ب سوٹسوبے 27 26 3 0
سریش رینا ک دومنی ب میک لارن 9 6 0 1
رویندر جدیجا ناٹ آؤٹ 47 29 7 1
روی چندر آشون رن آؤٹ 10 10 1 0
بھوونیشور کمار ناٹ آؤٹ 0 0 0 0
فاضل رنز ل ب 4، و 8، ن ب 2 14
مجموعہ 50 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 331

 

جنوبی افریقہ (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
مورنے مورکل 6.5 0 27 0
لونوابو سوٹسوبے 10 0 83 2
روری کلائن ویلٹ 10 0 81 0
راین میک لارن 10 0 70 3
رابن پیٹرسن 3.1 0 24 0
ژاں پال دومنی 10 0 42 1

 

جنوبی افریقہہدف: 332 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
ہاشم آملہ ک دھونی ب یادیو 22 15 4 0
کولن انگرام ک رینا ب بھوونیشور 6 5 1 0
رابن پیٹرسن رن آؤٹ 68 72 6 0
ابراہم ڈی ولیئرز ک جدیجا ب یادیو 70 71 7 0
ژاں پال دومنی ایل بی ڈبلیو ب جدیجا 14 24 0 0
فرانکو دو پلیسی ک رینا ب ایشانت 30 23 5 0
ڈیوڈ ملر رن آؤٹ 0 0 0 0
راین میک لارن ناٹ آؤٹ 71 61 11 1
روری کلائن ویلٹ ک دھونی ب ایشانت 4 5 0 0
لونوابو سوٹسوبے ب جدیجا 3 14 0 0
مورنے مورکل ب بھوونیشور 8 11 1 0
فاضل رنز ل ب 1، و 7، ن ب 1 9
مجموعہ 50 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 305

 

بھارت (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
بھوونیشور کمار 7 0 49 2
امیش یادیو 10 0 75 2
ایشانت شرما 8 0 66 2
روی چندر آشون 10 0 47 0
رویندر جدیجا 9 1 31 2
سریش رینا 6 0 36 0

Facebook Comments