[باؤنسرز] سابقہ کارکردگی پر کھیلنے کی روایت کب ختم ہوگی؟

دورۂ ویسٹ انڈیز کے لیے قومی کرکٹ ٹیم کے اعلان کے بعد رات کو ایک نجی چینل پر ‪"‬شاہد آفریدی شو‪"‬ دیکھنے کا اتفاق ہوا،پروگرام کا نام تو کچھ اور تھا لیکن دو گھنٹے کا پورا شو اسٹار آل راؤنڈر کے گرد ہی گھومتا رہا جس میں میزبان بھی بوم بوم کی مدح سرائی کرتا رہا جبکہ تینوں شرکابھی آفریدی کے ہی گن گاتے دکھائی دیےجو قومی ٹیم کے کپتان پر مسلسل تنقید کرنے کے ساتھ ساتھ اس سے یہ مطالبہ کررہے تھے کہ شاہد آفریدی کو دورۂ ویسٹ انڈیز میں تمام میچز میں پورا چانس دیا جائے۔ایک سابق وکٹ کیپر کا خیال ہے کہ شاہد آفریدی کیلئے نمبر سات کی پوزیشن بہت نیچے ہوجائے گی جسے ‪"‬ٹیل‪"‬ کے ساتھ بیٹنگ کرنا پڑے گی اور انہیں خدشہ ہے کہ دوسرے اینڈ پر مستند بیٹسمین نہ ہونے کے باعث شاہد آفریدی اپنی طوفانی بیٹنگ کا رنگ نہ دکھا پائیں گے۔

شاہد آفریدی اور محمد حفیظ شائقین کرکٹ سے دست بستہ التجا کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ان کی حالیہ نہیں بلکہ ماضی کی کارکردگی کو یاد رکھا جائے (تصویر: ICC)

شاہد آفریدی اور محمد حفیظ شائقین کرکٹ سے دست بستہ التجا کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ان کی حالیہ نہیں بلکہ ماضی کی کارکردگی کو یاد رکھا جائے (تصویر: ICC)

چیمپئنز ٹرافی کے اسکواڈ سے جب شاہد آفریدی کو ڈراپ کیا گیا اس کا سبب گزشتہ کئی سیریزوں میں ناقص کارکردگی تھی جو بالنگ کے شعبے میں مکمل طور پر ناکام ہونے کے ساتھ ساتھ جنوبی افریقہ کے خلاف 88رنز کی اننگز کے علاوہ کوئی قابل ذکر کارنامہ نہیں دکھا سکے۔حالیہ عرصے میں شاہد آفریدی کو کسی قسم کی ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کا بھی موقع نہیں ملااس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ شاہد آفریدی فارم کے حصول کے بعد قومی ٹیم میں واپس آئے ہیں اور دورہ ویسٹ انڈیز میں اچھی کارکردگی دکھائیں گے اور شاید یہی وجہ ہے کہ مایہ ناز آل راؤنڈر کے ‪"‬سپورٹر‪"‬سابق کھلاڑی کپتان سے یہ ضمانت مانگ رہے ہیں کہ ویسٹ انڈیز میں اگر شاہد آفریدی ناکام بھی ہوئے تو پھر بھی انہیں تمام میچز میں شرکت کا موقع دیا جائے۔

ٹی وی پروگرام کے دوران فون پر بات کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا جن کا کہنا تھا کہ وہ بڑے دل والے ہیں یعنی چیمپئنز ٹرافی میں جن لوگوں نے انہیں ٹیم سے باہر رکھ کر زیادتی کی وہ اس زیادتی کو بھلا چکے ہیں ۔ممکن ہے کہ باتوں کے تیر چلاتے وقت آفریدی کا اعتماد انتہا کو پہنچا ہو مگر کارکردگی کے لحاظ سے ان میں اعتماد کی کمی دکھائی رہی ہے جو شائقین سے یہ اپیل کرنے پرمجبور ہوگئے ہیں کہ وہ ان کی ماضی کی پرفارمنس کو بھی یاد رکھیں ۔

آفریدی کو اپنے مداحوں سے گلہ ہے کہ ان کی یادداشت بہت کمزور ہے جنہیں اسٹار آل راؤنڈر کی ‪"‬چند‪"‬حالیہ ناکامیاں ہی دکھائی دےلیکن وہ ان کی اچھی کارکردگی بھول گئے ہیں حالانکہ شاہد آفریدی کو خود بھی یاد نہ ہوگا کہ انہوں نے آخری مرتبہ دونوں شعبوں میں عمدہ پرفارمنس کب دکھائی تھی۔شاہد آفریدی اگر اپنے مداحوں کو چڑھتے سورج کا پجاری سمجھ رہے ہیں توان کا ایسا سوچنا غلط بھی نہیں ہے کیونکہ یہی وہ شائقین کرکٹ تھے جنہوں نے ایک 16 سالہ نوجوان کو اس وقت شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا جب ٹیم میں ایسے کھلاڑی بھی موجود تھے جن کا انٹرنیشنل کرکٹ میں تجربہ 16 برس کے لگ بھگ تھا مگر یہ آفریدی کی دھماکہ خیز کارکردگی تھی جس نے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنالی ۔شاہد آفریدی کو چاہیے کہ وہ اب بھی اپنی پرفارمنس سے شائقین کو دوبارہ اپنی جانب متوجہ کریں تو شائقین کو یاد دہانی کروانے کی بجائے خود بیٹنگ اور بالنگ کا بھولا ہوا سبق یاد کریں ۔

پاکستانی ‪"‬پروفیسر‪" محمد حفیظ کا حال بھی شاہد آفریدی سے مختلف نہیں ہے جو چیمپئنز ٹرافی جیسے اہم ایونٹ میں اپنی کارکردگی پر پشیمان ہونے کی بجائے قذافی اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس کے دوران رپورٹرز کو یہ یاد کروارہے تھے کہ انہوں نے میگا ایونٹ سے قبل آئرلینڈ کے خلاف تین ہندسوں کی اننگز کھیلی تھی۔دورہ جنوبی افریقہ اور پھر چیمپئنز ٹرافی میں قومی ٹیم کے نائب کپتان نے جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا وہ سب کے سامنے ہے ۔پاکستانی ٹیم کو محمد حفیظ سے جو توقعات وابستہ ہیں اس سے خود ‪"‬پروفیسر‪"‬بھی آگاہ ہیں لیکن اس کے باوجود اپنی کارکردگی کا معیار بلند کرنے، اپنی ناکامی کو تسلیم کرنے کی بجائے محمد حفیظ صرف اس بات پر بضد ہیں کہ آئرلینڈ کے خلاف ان کی سنچری کو یاد رکھا جائے۔

چند دن قبل ماضی کے عظیم فاسٹ بالر اور قومی ٹیم کے سابق کوچ وقار یونس نے اپنے ایک بیان میں قومی ٹیم کی سلیکشن کو ڈومیسٹک کرکٹ میں پرفارم کرنے والے کھلاڑیوں کے ساتھ مذاق قرار دیا تھا کہ جن کھلاڑیوں کو ایک ایونٹ کیلئے ڈراپ کیا جاتا ہے وہ اگلے ہی ایونٹ میں بغیر ڈومیسٹک کرکٹ کھیلے اور کارکردگی دکھائے بغیر ٹیم میں شامل کرلیے جاتے ہیں ۔ شاہد آفریدی اور عمر اکمل اس کی واضح مثالیں ہیں جنہیں کارکردگی میں تسلسل نہ ہونے کے باعث چیمپئنز ٹرافی کے اسکواڈ سے باہر کیا گیا تھا اور اب یہی دونوں کھلاڑی کسی قسم کی نمائدہ کرکٹ کھیلے بغیر قومی ٹیم میں دوبارہ واپس آگئے ہیں اور کچھ بعید نہیں کہ اگر ویسٹ انڈیز میں بھی یہ اچھا پرفارم نہ کرسکیں تو انہیں دوبارہ باہر کرکے ان کھلاڑیوں کوٹیم میں شامل کرلیا جائے جو چیمپئنز ٹرافی میں ناقص کاکردگی دکھانے کی پاداش میں دورہ ویسٹ انڈیز سے محروم ہوئے ہیں ۔ پاکستان کرکٹ میں میوزیکل چیئرز کا یہ کھیل پہلے بھی کھیلا جاتا رہا ہے اور آئندہ بھی کھیلا جاتا رہے گا کیونکہ کسی بھی سلیکشن کمیٹی میں اتنا دم نہیں رہا کہ وہ کسی نوجوان کھلاڑی کو مستقل مواقع دے۔ چیمپئنز ٹرافی میں احسان عادل کا کھیلے بغیر ویسٹ انڈین ٹور سے باہر ہوجانا اس کی تازہ ترین مثال ہے کیونکہ ہر ٹور پر قربانی کا بکرا صرف نوجوان کھلاڑی ہی بنتے ہیں اور جن کی‪"‬قربانی‪"‬ اب واجب نہیں بلکہ فرض ہوچکی ہے وہ ناکام پرفارمنس کے باوجود شائقین کو اپنےماضی کے کارنامے یاد کرواتے ہوئے دوبارہ قومی ٹیم میں آدھمکتے ہیں !!

Facebook Comments