سری لنکا کے تمام منفی حربے ناکام، پاکستان کی تاریخی جیت

چار دنوں تک بیزاری کی آخری حدوں کو چھونے والا مقابلہ پانچویں دن یقین کی آخری حدوں تک اعصاب شکن مرحلے میں داخل ہوجائے گا؟ یہ خود پاکستان اور سری لنکا کے تصور میں نہ ہوگا لیکن پاکستان نے ثابت کیا کہ جب وہ فتح کی ٹھان لے تو کوئی منفی حربہ اور کوئی حریف اس کا راستہ نہیں روک سکتا۔ 302 رنز کا ہدف محض 58 ویں اوور میں حاصل کرکے پاکستان نے ایک تاریخ بھی رقم کی، سیریز بھی بچائی اور عالمی درجہ بندی میں اپنی پوزیشن بھی برقرار رکھا۔ بڑے ہدف کے تعاقب میں اظہر علی، مصباح الحق اور سرفراز احمد نے جو شاندار کارکردگی دکھائی، وہ عرصے تک یاد رکھی جائے گی۔

گو کہ پاکستان کی فتح کے معمار یہی تینوں کھلاڑی تھے تھے لیکن جس طرح پہلی اننگز میں سری لنکا کے ہاتھوں دو دن میں 428 رنز کھانے والی ٹیم نے مقابلے میں واپسی دکھائی ہے، اس پر ہر کھلاڑی کو داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ بالخصوص پہلی اننگز میں سنچری بنانےوالے احمد شہزاد،طویل عرصے بعد ٹیسٹ کھیلتے ہوئے 6 وکٹیں لینے والے محمد طلحہ اور آخری دن سری لنکا کی اننگز کو اختتام تک پہنچانے والے عبد الرحمٰن کو۔ اظہر علی، جنہیں سیریز میں پہلی بار کھیلنے کا موقع دیا گیا، نے بلاشبہ اپنے کیریئر کی بہترین اور یادگار ترین اننگز کھیلی۔ 137 گیندوں پر 103 رنز کی اننگز پاکستان کو تقریباً فتح کے کنارے تک پہنچا گئی لیکن اس سے قبل یہ سرفراز احمد کی 46 گیندوں پر 48 رنز کی برق رفتار باری تھی، جس نے پاکستان کی اننگز کو وہ رفتار فراہم کی جو اتنے بڑے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے درکار تھی۔ تیسرے مصباح، ہمیشہ کی طرح چٹان بن کر ایک اینڈ پر ڈٹے رہے اور صرف 72 گیندوں پر ناقابل شکست 68 رنز بنا کرمیدان سے فاتحانہ لوٹے۔

دوسری جانب سیریز میں ایک-صفر کی برتری کے باوجود سری لنکا نے تیسرا ٹیسٹ مثبت ذہن کے ساتھ نہیں کھیلا اور جیسے جیسے مقابلہ آگے بڑھتا گیا، منفی حربے بڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ آخری روز جب پاکستان بہت کم اوورز میں ایک بڑے ہدف کو حاصل کررہا تھا تو حریف بلے بازوں کو لیگ سائیڈ پر گیندیں پھینکنے، امپائر سے بار بار روشنی کم ہونے کا گلہ کرنے اور زخمی ہوکر بار بار فزیو کو میدان میں بلانے جیسے حربے تک استعمال کیے گئے جو سری لنکا جیسی پیشہ ور ٹیم کو زیب نہیں دیتے اور انہیں اس کی سزا موقع پر مل بھی گئی۔ پاکستان جو 2000ء میں ایسی ہی حرکتیں کرکے انگلستان کے خلاف کراچی ٹیسٹ ہارا تھا، آج اپنے خلاف وہی حربے استعمال ہوتا دیکھ رہا تھا، لیکن نتیجہ آج بھی وہی نکلا، جو مثبت ذہن کے ساتھ کھیلا، جیت اسی کو ملی۔

اس پرسکون ذہن کے ساتھ کہ اب سیریز نہیں ہاریں گے، سری لنکا نے شارجہ کے میدان میں پہلے دن ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا لیکن انہوں نے مقابلے کے آغاز سے قبل ہی گویا تہیہ کررکھا تھا کہ وہ دو-صفر سے نہیں بلکہ ایک-صفر ہی سے سیریز جیتنے کے خواہاں ہیں اور انہوں نے ابتدائی دن ہی سے سست روی اختیار کی اور اپنے لیے وہ گڑھا کھودا، جس میں آخری دن خود گرنا پڑا۔ کیونکہ اگر وہ پہلی اور دوسری اننگز میں رنز کی معمول کی رفتار کے مطابق رنز بناتا تو ہرگز آخری روز اس صورتحال تک نہ پہنچتا۔ بہرحال، پہلی اننگز میں سری لنکا 166 رنز پر اپنی آدھی وکٹیں گنوا بیٹھا تھا لیکن ڈیبیوٹنٹ دلرووان پیریرا کے 95 اور کپتان اینجلو میتھیوز کے 91 رنز کی بدولت وہ دوسرے روز کے اختتامی لمحات پر 428 رنز تک پہنچ گیا۔ جب سری لنکا نے اس موقع پر اپنی پہلی اننگز کے خاتمے کا اعلان کیا تو پاکستان کو ایک بہت مشکل صورتحال کا سامنا تھا۔

پاکستانی اوپنرز نے بہت ہی مثبت انداز سے پہلی اننگز کا آغاز کیا او راوپنرز خرم منظور اور احمد شہزاد کے 114 رنز کے آغاز نے 'اینٹ کا جواب پتھر' دینے کا موقع ضرور فراہم کیا لیکن پاکستان کا مڈل آرڈر رنگانا ہیراتھ کے سامنے نہ ٹھہر پایا۔ احمد شہزاد نے کیریئرکی پہلی سنچری مکمل کی جبکہ خرم منظور نے 52 اور مصباح الحق نے 63 رنز بنائے لیکن باقی بلے بازوں کی کارکردگی مایوس کن رہی اظہر علی 8، یونس خان 17، اسد شفیق 18 اور سرفراز احمد 5 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے اور پاکستان کی پوری ٹیم 341 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔

پہلی اننگز میں 87کی برتری کے ساتھ جب سری لنکا نے دوسری اننگز شروع کی تو چوتھے دن کھانے کا وقفہ ہونے والا تھا۔ پاکستان کے پاس وقت بہت کم تھا، اور مقابلہ سخت۔ جان لڑا کر باؤلرز نے دن کے اختتام تک سری لنکا کی 5 وکٹیں حاصل کیں جو اب بھی بہت سست کھیل کا مظاہرہ کررہا تھا۔

آخری روز سری لنکا محض 5 وکٹوں کے نقصان پر 189 رنز تک پہنچ گیا جب عبد الرحمٰن نے مسلسل دو گیندوں پر دلرووان پیریرا اور رنگانا ہیراتھ کو آؤٹ کرکے تہلکہ مچا دیا۔ پاکستان نے جلد از جلد سری لنکا کی اننگز کی بساط لپیٹ دی۔ محض 25 رنز پر سری لنکا کی آخری 5 وکٹیں گریں اور پاکستان کو جیتنے کے لیے 302 رنز کا مشکل ہدف ملا، جو اس نے برقی قمقموں کی روشنی میں حاصل کرلیا۔

پاکستان کو درپیش ہدف اس لیے مشکل تھا کہ اس سے قبل وہ شاذونادر ہی 300 سے زیادہ رنز کا ہدف کامیابی سے عبور کرسکا ہے۔ 1994ء میں آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میں جب پاکستان کو 315 رنز بنانے تھے تو وہ اپنے ہی میدان پر 9 وکٹیں گنوانے کے بعد انضمام الحق اور مشتاق احمد کی تاریخی شراکت داری کے ذریعے فتح تک پہنچا تھا۔ لیکن آج پاکستانی بلے بازوں نے کہیں زیادہ جامع کارکردگی دکھائی اور اسے بہترین ٹیسٹ فتوحات میں سے ایک تک پہنچایا۔

کپتان مصباح الحق کے فیصلوں نے بھی پاکستانی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا، بالخصوص سرفراز احمد کو اوپر بھیجنا، جنہوں نے شاندار بیٹنگ کے ذریعے میچ کا جھکاؤ پاکستان کے حق میں کیا۔ پھر اظہر علی کے ساتھ مصباح کی 109 رنز کی شراکت داری پاکستان کو منزل مراد تک پہنچا گئی۔

اظہر علی کو کیریئر کی یادگار ترین سنچری بنانے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جبکہ سیریز میں 103 کے اوسط سے سب سے زیادہ یعنی 412 رنز بنانے والے اینجلو میتھیوز سیریز کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

اس یادگار فتح کے ساتھ ہی بحیثیت کوچ ڈیو واٹمور کا عہد اپنے اختتام کو پہنچا جس میں پاکستان ٹیسٹ کرکٹ میں ایک بھی سیریز نہ جیت پایا لیکن ان کو الوداع کہنے کے لیے پاکستانی ٹیم نے ایک شاندار کارکردگی بچا کر رکھی ہوئی تھی، جس کا مظاہرہ آج کیا گیا۔

اب پاکستان ٹیسٹ کرکٹ سے طویل چھٹیوں پر چلا جائے گا کیونکہ پاکستان کا اگلا ٹیسٹ معرکہ اکتوبر کے مہینے میں آسٹریلیا کے خلاف ہوگا ۔

Facebook Comments