بین الاقوامی کرکٹ پر "تین بڑوں" کے قبضے کا ابتدائی مرحلہ مکمل

بین الاقوامی کرکٹ کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینے کے خواہشمند "تین بڑے" ممالک- بھارت، آسٹریلیا اور انگلستان- کو غلبہ دینے کے لیے ابتدائی مرحلہ مکمل ہوگیا۔

اجلاس کے پہلے دن جن اصولوں پر اتفاق کیا گیا ہے، اس سے تینوں ممالک کی گرفت مضبوط ہوگی (تصویر: ICC)

اجلاس کے پہلے دن جن اصولوں پر اتفاق کیا گیا ہے، اس سے تینوں ممالک کی گرفت مضبوط ہوگی (تصویر: ICC)

دبئی میں بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے سالانہ بورڈ اجلاس کے پہلے روز ان تین ممالک کی متنازع سفارشات میں کچھ ردوبدل کرکے انہیں متفقہ "اصولوں" کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس پر آئندہ ماہ غور کیا جائے گا۔

مستقبل کے ڈھانچے، انتظامی امور اور مالیاتی معاملات طے کرنے کے لیے اہم اجلاس گو کہ متنازع سفارشات پر حتمی فیصلہ نہیں کرسکا لیکن جن اصولوں پر غور کے لیے "اتفاق" کیا گیا ہے، وہ بھی کرکٹ کے لیے زہر قاتل سے کم نہیں۔ آئی سی سی کے جاری کردہ اعلامیہ، جس کی ایک نقل کرک نامہ کو بھی موصول ہوئی، کے مطابق تمام ممالک نے عالمی کرکٹ کے معاملات کی اصلاح کی خاطر پیش کردہ تجاویز پر اتفاق کیا، جن پر غور کرنے کے بعد اگلے ماہ کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

متفقہ امور میں چند تو حوصلہ افزاء ہیں لیکن کچھ بہت ہی متنازع ہیں۔سب سے اہم معاملہ ٹیسٹ کھیلنے کی اہلیت کا تھا۔بھارت، انگلستان اور آسٹریلیا کی جانب سے چندہفتے قبل جو متنازع سفارشات پیش کی گئی تھیں، ان میں ایک تجويز یہ بھی تھی کہ ٹیسٹ کرکٹ کو عالمی درجہ بندی کے حساب سے دو گروہوں میں تقسیم کردیا جائے جس میں سرفہرست چار اور زیریں چار ٹیمیں شامل ہوں جبکہ ٹیسٹ درجہ رکھنے والے 10 ممالک میں آخری دو کی انٹرکانٹی نینٹل کپ میں تنزلی کردی جائے۔ لیکن آئی سی سی اجلاس کے پہلے دن تمام بورڈز نے اتفاق کیا کہ تمام رکن ممالک اہلیت کی بنیاد پر ہر طرز کی کرکٹ کھیلنے کے مجاز ہیں اور ان کی کھیل میں شرکت اہلیت کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیہ میں واضح کیا گیا ہے کہ نہ کسی ملک کو استثنا حاصل ہوگا، اور نہ ہی کسی کی رکنیت کی حیثیت میں تبدیلی ہوگی۔ یوں واضح کردیا گیا کہ ٹیسٹ کرکٹ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے اور اس میں ترقی و تنزلی کے پیمانے کو مسترد کردیا گیا ہے۔

اجلاس میں ایک ٹیسٹ کرکٹ فنڈ کے قیام کی تجویز بھی غور کے لیے منظور کی گئی جس میں بھارت، آسٹریلیا اور انگلستان کے علاوہ باقی سات اراکین کے لیے سالانہ بنیادوں پر ایک فنڈ مختص کیا جائے گا اور ان میں یکساں تقسیم ہوگا۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے فیوچر ٹورز پروگرام (ایف ٹی پی) میں تبدیلی کے حوالے سے بھی واضح موقف اختیار کیا اور کہا کہ مستقبل میں تمام ٹیمیں طے شدہ پروگرام کے تحت کھیلیں گی اور تجارتی حقوق کا اگلا دورانیہ یعنی اگلے سال سے 2023ء تک یہ پروگرام برقرار رہے گا۔

البتہ آئی سی سی میں مضبوط قیادت کی ضرورت کو تمام ممالک نے تسلیم کیااور اس حوالے سے چند بہت اہم امور پر غور کیا گیا جیسا کہ سفارشات کے عین مطابق ایگزیکٹو کمیٹی اور مالیاتی و تجارتی امور کی کمیٹی کا قیام، جس میں بھارت کو مرکزی قائدانہ ذمہ داری سونپنے کی تجويز بھی غور کے لیے منظور ہوئی۔ ایگزیکٹو کمیٹی چار کے بجائے پانچ اراکین پر مشتمل ہوگی جس میں بھارت، آسٹریلیا اور انگلستان کے کرکٹ بورڈز مستقل نمائندے ہوں گے۔ جون 2014ء سے دو سال کے عرصے کے لیے بھارتی کرکٹ بورڈ کا نمائندہ آئی سی سی بورڈ کی سربراہی سنبھالے گا جبکہ آسٹریلیا ایگزیکٹو کمیٹی اور انگلستان مالیاتی و تجارتی امور کی قیادت کریں گے۔

عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ، جو 2013ء میں کھیلی جانی تھی لیکن چار سال کے لیے موخر کردی گئی، کا مستقبل ایک مرتبہ پھر تاریک ہوتا نظر آرہا ہے کیونکہ اجلاس میں جن تجاویز کو غور کے لیے منتخب کیا گیا ان میں ٹیسٹ چیمپئن شپ کے اخراج اور چیمپئنز ٹرافی کی بحالی کی افسوسناک شقیں بھی شامل ہیں۔ اعلامیہ کے مطابق مستقبل کے آئی سی سی ایونٹس کے کمرشل حقوق کے لیے ایک نیا ادارہ تشکیل دیا جائے گا۔ ہر چار سال میں آئی سی سی کے تین بڑے ایونٹس ہوں گے جس میں چیمپئنز ٹرافی بھی شامل ہوگی جو ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی جگہ لے گی۔

گو کہ حتمی فیصلے ایک ماہ کے لیے موخر ہوگئے ہیں، لیکن غور کے لیے جن امور کا انتخاب گزشتہ روز کے اجلاس میں کیا گیا ہے، ان کے منظور ہونے کے نتیجے میں 'شرفاء کا کھیل' دولت کے پجاریوں کے ہاتھوں میں چلا جائے گا۔

Facebook Comments