[ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ] بہترین و بدترین

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء میں سری لنکا نے میدان مارا اور بھارت کے خلاف فائنل میں وہ شاندار فتح حاصل کی جو ملک کے لاکھوں باسیوں کے لیے تاعمر یاد رہ جانے والا لمحہ ہوگی۔ ایک طرف جہاں سری لنکا کے کھلاڑیوں کی جامع کارکردگی ان کی تاریخی جیت کا سبب بنی وہیں دیگر ٹیموں کی اجتماعی و انفرادی سطح پر کمزوریاں شکست پر منتج ہوئیں اور اب ہم انہی بہترین و بدترین کھلاڑیوں کا ذکر کرنے جا رہے ہیں۔

CRICKET-WORLD-ICCT20-SEMI-IND-RSA

بہترین: ویراٹ کوہلی

گو کہ بھارت چیمپئن نہیں بن سکا لیکن ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا بہترین کھلاڑی قرار دیے جانے کا اگر کوئی حقدار تھا تو وہ ویراٹ کوہلی تھا۔ ٹی ٹوئنٹی جیسے مختصر ترین فارمیٹ میں 106.33 کا ناقابل یقین اوسط اور پاکستان، ویسٹ انڈیز، بنگلہ دیش، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے خلاف فاتحانہ اننگز کے بعد فائنل میں انہوں نے 77 رنز بنائے لیکن دوسرے اینڈ سے انہیں کسی کا ساتھ میسر نہ آ سکا اور یہی بھارت کی شکست کی وجہ بنا۔ ٹورنامنٹ میں ویراٹ کی بہترین کارکردگی سیمی فائنل میں نظر آئی جب انہوں نے مایہ ناز باؤلر ڈیل اسٹین کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور بھارت نے 173 رنز کا بھاری ہدف، وہ بھی جنوبی افریقہ کے مضبوط باؤلنگ اٹیک کے خلاف، باآسانی 4 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔

CRICKET-WORLD-ICCT20-SEMI-IND-RSA

بدترین: یووراج سنگھ

'کیسا عروج، کیا زوال'، ورلڈ کپ 2011ء میں اپنی بہترین کارکردگی کے ذریعے بھارت کو عالمی چیمپئن بنانے والے یووراج سنگھ اس ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں 'ولن' ثابت ہوئے۔ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے خلاف ان کی ناکامی مقابلہ جیتنے کی وجہ سے نظر نہ آئی اور جو دبی دبی تنقید تھی وہ آسٹریلیا کے خلاف میچ میں 'یووی' کے 43 گیندوں پر 60 رنز سے ختم کردی۔ لیکن اس کے بعد سیمی فائنل اور فائنل میں یووراج نے اپنے پیروں پر خود کلہاڑی ماری۔ 17 گیندوں پر 18 رنز کی باری کو ویراٹ کوہلی کی طوفانی اننگز نے سہارا دیا لیکن فائنل میں کوہلی بھی ان کو نہ بچا سکے۔ 21 گیندوں پر 11 رنز اور اس کی وجہ سے بھارت کا 130 رنز تک محدود ہوجانا شکست کی سب سے بڑی وجہ بنا۔ ایک ایسا بلے باز جو ٹی ٹوئنٹی تاریخ کی تیز ترین نصف سنچری اور ایک اوور کی تمام چھ گیندوں پر چھ چھکے لگانے کے ریکارڈز رکھتا ہو ، اس سے ایسی کارکردگی کی توقع نہ تھی۔

CRICKET-WORLD-ICCT20-SEMI-IND-RSA

بہترین: اسٹیفن مائی برگ

بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے دنیائے کرکٹ کی سرفہرست 8 ٹیموں کو براہ راست اہم مرحلے میں جگہ دی یوں میزبان بنگلہ دیش اور زمبابوے سمیت کل 8 ٹیموں کو پہلا مرحلہ کھیلنا پڑا لیکن جس ٹیم نے اپنی کارکردگی سے سب کو حیران کردیا، وہ نیدرلینڈز تھی۔ ان کے اوپنر اسٹیفن مائی برگ بلاشبہ ٹورنامنٹ کے بہترین بلے بازوں میں شامل رہے۔ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ چھکے اور سب سے زیادہ چوکے بھی انہوں نے ہی لگائے اور یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے انہیں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی2014ء ٹیم آف دی ٹورنامنٹ میں بحیثیت اوپنر شامل کیا۔

CRICKET-WORLD-ICCT20-SEMI-IND-RSA

بدترین: مارلون سیموئلز

2012ء میں کھیلے گئے گزشتہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ویسٹ انڈیز کو چیمپئن بنانے میں کلیدی کردار مارلون سیموئلز کا تھالیکن اس مرتبہ وہ ویسٹ انڈیز کے 'یووراج' بنے۔ دو سال پہلے جس بلے باز کے سامنے لاستھ مالنگا جیسا باؤلر بھی ناکام ثابت ہوا اس مرتبہ سیمی فائنل جیسے اہم مقابلے میں 29 گیندوں پر صرف 18 رنز بنا پایا اور جب بارش کی وجہ سے سیمی فائنل مقابلہ روکنا پڑا تو ویسٹ انڈیز ڈک ورتھ لوئس پار اسکور سے خاصا پیچھے تھا۔ٹورنامنٹ میں کھیلے گئے چار مقابلوں میں سیموئلز نے صرف ایک مرتبہ 100 سے زیادہ کے اسٹرائیک ریٹ سے بیٹنگ کی، جب انہوں نے پاکستان کے خلاف 18 گیندوں پر 20 رنز بنائے۔

CRICKET-WORLD-ICCT20-SEMI-IND-RSA

بہترین: ڈیل اسٹین

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء کے بہترین مقابلوں میں سے ایک جنوبی افریقہ-نیوزی لینڈ میچ تھا اور اس مقابلے میں جس باؤلر نے اپنی اہلیت ثابت کی وہ ڈیل اسٹین تھے۔ ڈھاکہ و چٹاگانگ کی ان وکٹوں پر جہاں اسپنرز کا راج تھا، ڈیل اسٹین اور لاستھ مالنگا نے ثابت کیا کہ اگر لائن و لینتھ کو برقرار رکھا جائے تو ٹی ٹوئنٹی جیسی مختصر طرز میں بھی بلے بازوں کو نکیل ڈالی جا سکتی ہے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف آخری اوور میں 7 رنز کا کامیابی سے دفاع کرنا ڈیل اسٹین کے کمال فن کی دلیل ہے۔

CRICKET-WORLD-ICCT20-SEMI-IND-RSA

بدترین: شعیب ملک

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کے سفر کے آغاز لے کر اختتام تک ایک بات سمجھ نہیں آئی کہ آخر شعیب ملک کس حیثیت سے کھیلنے گئے تھے؟ اگر اسپیشلسٹ بیٹسمین کی حیثیت سے انہیں ٹیم میں جگہ دی گئی تھی تو چھٹے یا ساتويں نمبر پر کھلانے کی تک نہیں بنتی اور اگر آل راؤنڈر کی حیثیت سے لےجایا گیا تھا تو ان سے پورے ٹورنامنٹ میں ایک اوور بھی نہیں پھنکوایا گیا۔ اس پر طرّہ یہ کہ موصوف نے کیچز بھی چھوڑے۔ اگر تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے سیمی فائنل تک نہ پہنچنے کا احتساب کیا جائے اور ٹیم کی کمزور کڑی کو ڈھونڈا جائے تو بلاشبہ شعیب ملک ہوں گے۔ جن کو پاکستان نے تمام مقابلوں میں آزمایا اور وہ سب میں ہی ناکام رہے۔4 مقابلے اور 52 رنز اور کوئی وکٹ نہیں۔

CRICKET-WORLD-ICCT20-SEMI-IND-RSA

بہترین: ڈیرن سیمی

ڈیرن سیمی کی زیر قیادت ویسٹ انڈیز اعزاز کا دفاع تو نہ کرسکا ، البتہ کپتان کی اپنی کارکردگی پر کوئی سوال نہیں اٹھتا۔ پہلے مقابلے میں بھارت کے خلاف ناکامی کے بعد انہوں نے ایک لمحے کے لیے بھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھا اور باقی تمام چار مقابلوں میں ناقابل شکست رہے۔ بالخصوص آسٹریلیا کے خلاف ان کی 13 گیندوں پر 34 رنز کی باری اور اس کے بعد والہانہ جشن ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ پھر پاکستان کے خلاف 42 رنز کی طوفانی اننگز تھی جو ویسٹ انڈیز کو سیمی فائنل تک پہنچا گئی۔ گو کہ سیمی فائنل میں بارش نے مقابلے کا فیصلہ ڈک ورتھ لوئس طریق کار پر کیا، لیکن اگر سیمی کو اس روز بھی موقع مل جاتا تو عین ممکن تھا وہ ایک مرتبہ پھر کوئی معجزہ دکھا جاتے۔

CRICKET-WORLD-ICCT20-SEMI-IND-RSA

بدترین: محمد حفیظ

دنیائے ٹی ٹوئنٹی کے نمبر ایک آل راؤنڈر محمد حفیظ سال کے اہم ترین ٹورنامنٹ میں چل کر نہ دیے۔ چار مقابلوں میں صرف ایک وکٹ اور بلے کے ذریعے صرف 55 رنز۔ اس پر کمال یہ کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف کوارٹر فائنل کی حیثیت رکھنے والے میچ میں، جہاں پاکستان کو 167 رنز کا بھاری ہدف درپیش تھا، 32 گیندوں پر صرف 19 رنز بنائے اور یوں مارلون سیموئلز اور یووراج سنگھ کو بھی شرما دیا۔ گو کہ حفیظ نے ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے بعد قیادت سے استعفیٰ دے کر اس داغ کو دھونے کی کوشش کی ہے، لیکن 'بہت بے آبرو ہوکر ترے کوچے سے ہم نکلے!'۔

CRICKET-WORLD-ICCT20-SEMI-IND-RSA

بہترین: لاستھ مالنگا

سری لنکا نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے دوران ایک انوکھا فیصلہ کیا۔ جب کپتان دنیش چندیمال کے بلے سے رنز نہیں اگل رہے تھے تو انہیں دستے سے علیحدہ کردیا اور آخری تین انتہائی اہم مقابلوں کے لیے نائب کپتان لاستھ مالنگا کو قیادت سونپی گئی۔ ان کی کپتانی میں سری لنکا نے پہلے ہی مقابلے میں نیوزی لینڈ کو 60 رنز پر ڈھیر کرکے سیمی فائنل کی راہ اپنائی اور پھر وہاں مالنگا نے پھینکے گئے 2 اوورز میں صرف 5 رنز دے کر ڈیون اسمتھ اور کرس گیل کی قیمتی وکٹیں سمیٹ کر سری لنکا کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔ سیمی فائنل کے بعد پھر فائنل میں بھی ان کی یارکرز نے نازک مرحلے پر حریف بلے بازوں کو زچ کیا اور یہی وجہ ہے کہ بھارت آخری 4 اوورز میں صرف 19 رنز جوڑ پایا۔ آخری اوور میں مالنگا کی پے در پے یارکرز نے ویراٹ کوہلی اور مہندر سنگھ دھونی کو خاصا پریشان کیا اور پھر سری لنکا اپنی بہترین بیٹنگ کی بدولت اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔

CRICKET-WORLD-ICCT20-SEMI-IND-RSA

بدترین: جیڈ ڈرنباخ

اگر سوال کیا جائے کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں دنیائے کرکٹ کی 8 سرفہرست ٹیموں میں سے کس کی کارکردگی سب سے گھٹیا رہی تو اس کا جواب چنداں مشکل نہ ہوگا، انگلستان! سری لنکا کے خلاف مقابلے میں ایلکس ہیلز کی بدولت واحد فتح سمیٹنے کے علاوہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں انگلستان نے کچھ حاصل نہ کیا، یہاں تک کہ نیدرلینڈز کے خلاف ہار بھی اس کے نصیب میں لکھی گئی۔ مایوس کن کارکردگی کا تاریک ترین پہلو جیڈ ڈرنباخ کی باؤلنگ رہی۔ نیوزی لینڈ کے خلاف بارش سے متاثرہ مقابلے کو ایک طرف رکھ دیں تو انہوں نے بقیہ تین میچز میں 99 رنز کی مار سہی جن میں جنوبی افریقہ کے خلاف تین اوورز میں کھائے گئے 44 رنز بھی شامل ہیں۔ جيڈ نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء کا بدترین اوور بھی پھینکا جب جنوبی افریقہ کے ابراہم ڈی ولیئرز نے ان کو ایک ہی اوور میں 26 رنز رسید کیے۔

CRICKET-WORLD-ICCT20-SEMI-IND-RSA

بہترین: ڈیوین براوو

یکم اپریل کو پاک-ویسٹ انڈیز مقابلے میں شاید پاکستان نے اپنے پرستاروں کے لیے 'اپریل فول' منایا۔ 81 رنز پر ویسٹ انڈیز کی 5 وکٹیں حاصل کرنے کے بعد آخری 6 اوورز میں 85 رنز کھانے کے بعد نہ صرف شکست سے دوچار ہوا بلکہ ٹورنامنٹ سے بھی باہر ہوگیا۔ اس میں اہم ترین کردار ڈیوین براوو کی دھواں دار بیٹنگ کا تھا جنہوں نے کپتان ڈیرن سیمی کے ساتھ مل کر صرف 32 گیندوں پر 71 رنز جوڑے اور ہدف کو پاکستان کی پہنچ سے کہیں دور کردیا۔ براوو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں اپنے ابتدائی دونوں مقابلوں میں زیادہ کامیابیاں نہ سمیٹ سکے لیکن آسٹریلیا کے خلاف 12 گیندوں پر 27 رنز کی فاتحانہ کارکردگی اور پاکستان کے خلاف 46 رنز نے انہیں ٹورنامنٹ کے ان بہترین کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ اگر سیمی فائنل میں 19 گیندوں پر 30 رنز کی اننگز تمام نہ ہوتی تو عین ممکن تھا کہ وہ سیمی کے ساتھ مل کر آسٹریلیا اور پاکستان کے خلاف دکھائی گئی کارکردگی دہرا دیتے لیکن قسمت اور بارش آڑے آ گئی۔ بیٹنگ کے علاوہ ڈیوین براوو کی فیلڈنگ بھی بہت شاندار رہی اور بلاشبہ انہوں نے ٹورنامنٹ کے چند بہترین کیچز پکڑے۔

CRICKET-WORLD-ICCT20-SEMI-IND-RSA

بدترین: جارج بیلی

ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں مسلسل فتوحات دامن میں سمیٹے آسٹریلیا کا دستہ بنگلہ دیش پہنچا تو کئی ماہرین کی نظر میں وہ اعزاز کے لیے 'ہاٹ فیورٹ' تھا۔ لیکن جتنی توقعات، اتنی ہی بدترین کارکردگی کا مظاہرہ۔ گروپ میں آسٹریلیا بنگلہ دیش کے علاوہ کسی کو نہیں زیر نہ کر پایا۔ پہلے پاکستان سے شکست کھائی، پھر بھارت سے بھی ہارا اور ویسٹ انڈیز نے بھی اسے جیتنے نہ دیا اور ان تمام مقابلوں میں خود کپتان جارج بیلی کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ پاکستان کے خلاف جب گلین میکس ویل مقابلہ آسٹریلیا کی گرفت میں دے گئے تھے تو جارج بیلی سمیت آنے والے تمام کھلاڑی ناکام ہوئے اور پھر یہی سلسلہ بقیہ مقابلوں میں جاری رہا۔ پاکستان کے خلاف 4، ویسٹ انڈیز کے خلاف 12، بھارت کے خلاف 8 اور بنگلہ دیش کے خلاف 11 رنز آسٹریلیا جیسی عظیم ٹیم کے کپتان کو زیب نہیں دیتے۔

Facebook Comments