ایلسٹر کک شکست کے خوف میں مبتلا ہیں: کیون پیٹرسن کی سخت تنقید

'بڑے بے آبرو ہوکر ' نکالے گئے کیون پیٹرسن سری لنکا کے ہاتھوں شکست کے بعد انگلینڈ کے کپتان اور کھلاڑیوں کو خوب آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ سینئر کھلاڑیوں کے اعصاب پر اب بھی ایشیز کی کلین سویپ شکست سوار ہے۔

ہیڈنگلے میں کک بالکل ویسا دکھائی دیا، جیسا اینڈریو اسٹراس اپنے آخری ٹیسٹ میں تھا، پیٹرسن کا کالم (تصویر: Getty Images)

ہیڈنگلے میں کک بالکل ویسا دکھائی دیا، جیسا اینڈریو اسٹراس اپنے آخری ٹیسٹ میں تھا، پیٹرسن کا کالم (تصویر: Getty Images)

معروف برطانوی اخبار ٹیلی گراف کے لیے لکھے گئے اپنے کالم میں ان کا کہنا ہے کہ رنز نہ بنانے کا دباؤ ایلسٹر کک پر واضح دکھائی دے رہا ہے اور ٹیم کے کھلاڑی بھی کپتان یا کوچ کی مرضی کے مطابق کھیلتے نہیں دکھائی دے رہے۔ ناکامی کا خوف حکمت عملی پر حاوی دکھائی دیتا ہے جیسا کہ لارڈز میں دیر سے اننگز ڈکلیئر کرنا اور ہیڈنگلے میں ٹاس جیتنے کے بعد باؤلنگ کا فیصلہ کرنا۔ دورۂ آسٹریلیا بہت سخت تھا اور ہمیں جن وجوہات کی بنیاد پر وہاں شکست کا سامنا کرنا پڑا، اب بھی انہی سےمتاثر دکھائی دیتے ہیں۔

پیٹرسن نے کہا کہ اسٹورٹ براڈ اور جمی اینڈرسن تھکے ماندے دکھائی دے رہے ہیں اور مجھے شکست کے بعد جمی کا حد سے زیادہ مایوس ہوجانا بھی سمجھ نہیں آیا۔ ہم ماضی میں بھی میچز ہارے ہیں، پہلے تو جمی کبھی اتنے مایوس نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ کک ایک "زبردست" کھلاڑی ہے لیکن ٹیم کو اس مصیبت سے نکالنے میں مدد دینے والے بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔ ہیڈنگلے میں کک بالکل ویسا ہی دکھائی دیا جیسا کہ لارڈز میں اپنے آخری ٹیسٹ میں اینڈریو اسٹراس تھا۔

کیون پیٹرسن نے کہا کہ سری لنکا کے خلاف دونوں مقابلوں میں انگلینڈ جیتنے کی پوزیشن میں آکر مقابلے گنوا بیٹھا، جو مایوس کن امر ہے لیکن گیری بیلنس، سام روبسن، جو روٹ اور معین علی کی کارکردگی لائق تحسین ہے۔ لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ اچھا ڈریسنگ روم وہی ہے، جہاں جیتنے کے بعد کھلاڑی جمع ہوں۔ اگر ان کھلاڑیوں کو مواقع دیے گئے تو یہ جیتنا سیکھیں گے اور بازی اپنے حق میں پلٹیں گے۔

پیٹرسن کا یہ کالم ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آسٹریلیا کے اسپنر شین وارن نے کک کی قائدانہ صلاحیتوں پر تنقید کرتے ہوئے ان سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے یا پھر انہیں کچھ عرصہ کرکٹ سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے۔

Facebook Comments