عالمی کپ تنازع کے بعد پہلا ہند-بنگلہ ٹکراؤ، کیا ماحول گرم ہوگا؟

بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین سیریز بس شروع ہوا ہی چاہتی ہے۔ 10 جون سے واحد ٹیسٹ کا آغاز ہوگا جس کے بعد دونوں ٹیمیں تین ایک روزہ مقابلے کھیلیں گی۔ جب آخری مرتبہ دونوں ٹیمیں مقابل آئی تھیں تو یہ عالمی کپ 2015ء کا کوارٹر فائنل مقابلہ تھا جہاں بھارت نے 109 رنز سے باآسانی کامیابی حاصل کی۔ البتہ بنگلہ دیش سے اس مقابلے کو متنازع بنانے کی 'بچکانہ' کوششیں کیں اور امپائروں کے چند فیصلوں کو بنیاد بناتے ہوئے بین الاقوامی کرکٹ کونسل تک پر الزامات لگائے۔ اب دونوں ٹیمیں مقابل ہیں تو ایسے ماحول کا خدشہ ہے جس میں کھنچاؤ نظر آئے گا۔

ویسے بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اس وقت بنگلہ دیش کے دورے پر ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان پیار کی پینگیں بڑھانے کی باتیں کی جارہی ہیں لیکن کرکٹ میں ماحول گرم ہوگا، چاہے بھارت کے کپتان ویراٹ کوہلی ماحول کو ٹھنڈا کرنے کی کتنی بھی کوششیں کریں۔ گرم مزاج کوہلی کہتے ہیں کہ وہ بنگلہ دیش کے خلاف کوئی عداوت یا کینہ نہیں رکھتے۔ ماضی میں جو کچھ ہوا، وہ ماضی کا حصہ بن گیا، ہم یہاں صرف کرکٹ کھیلنے اور جیتنے کے لیے آئے ہیں اور پوری توجہ اسی پر رکھیں گے۔

عالمی کپ کے کوارٹر فائنل کے بعد بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے آئی سی سی کے صدر مصطفیٰ کمال اس حد تک چلے گئے کہ اپنے ہی ادارے کو دھمکیاں دینا شروع کردیں اور کہا کہ بھارت کو عالمی کپ جتوانے کی سازش کی جارہی ہے اور بنگلہ دیش کو جان بوجھ کر ہروایا گیا ہے۔ معاملہ یہاں تک بگڑا کہ مصطفیٰ کمال کو عالمی کپ کے فائنل میں فاتح کو ٹرافی دینے کے آئینی حق سے بھی محروم کردیا گیا اور پھر وطن واپس پہنچ کر انہوں نے بھی عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

Facebook Comments