کیا پاکستان چیمپئنز ٹرافی سے باہر ہوگیا ہے؟

پاکستان کے "انتہاپسند" کرکٹ شائقین کو سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ بنگلہ دیش کے ہاتھوں بھارت کی بدترین شکست پر خوشی منائیں یا اپنے مستقبل کو دیکھتے ہوئے افسوس کا اظہار کریں۔ خوشی تو اس لیے کہ ان کے پاس اس طوفانِ بدتمیزی کا جواب دینے کا موقع ہے جو پاکستان کی بنگلہ دیش کے ہاتھوں حالیہ شکست پر بھارت کے شائقین نے مچایا تھا۔ یہ صدا تک سننےکو ملی کہ "بنگلہ دیش سے تو جیت نہیں سکتے، ہم سے کیا کھیلو گے؟" اب میرپور، ڈھاکہ میں پہلے ہند-بنگلہ ایک روزہ میں بھارتی سورماؤں کی شکست نے انہیں جواب دینے کا زبردست موقع فراہم کیا ہے لیکن پاکستانی شائقین کے چہرے پر ایک کھسیانی سی مسکراہٹ دکھائی دے رہی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ بنگلہ دیش کی جیت کی صورت میں پاکستان کے آئندہ چیمپئنز ٹرافی سے باہر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ لیکن کیا حقیقت میں ایسا ہی ہے؟ کیا واقعی پاکستان اس اہم ٹورنامنٹ کی دوڑ سے باہر ہوگیا ہے؟ اس کا جواب ہے فی الحال تو نہیں!

آخر یہ چیمپئنز ٹرافی کے لیے کوالیفائی کرنے کا معاملہ کیا ہے؟ دراصل بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے اس اہم ترین ٹورنامنٹ میں دنیا کی 8 بہترین ٹیمیں کھیلتی ہیں، جن کا انتخاب ٹورنامنٹ سے دو سال قبل ایک مخصوص تاریخ پر عالمی درجہ بندی کے حساب سے کیا جاتا ہے۔ اگلی چیمپئنز ٹرافی 2017ء میں انگلستان میں کھیلی جائے گی جس میں میزبان سمیت وہی کھیلے گا، جو رواں سال 30 ستمبر کو درجہ بندی کی اولین 8 ٹیموں میں شامل ہوگا۔

اِس وقت، یعنی بھارت اور بنگلہ دیش کے پہلے ایک روزہ کے بعد، عالمی درجہ بندی میں بنگلہ دیش 91 پوائنٹس کے ساتھ ساتویں نمبر پر ہے جبکہ آٹھواں اور اہم ترین مقام ویسٹ انڈیز کے پاس ہے جس کے پوائنٹس کی تعداد 88 ہے۔ پاکستان 87 پوائنٹس کے ساتھ نویں نمبر پر ہے یعنی اس جگہ پر جہاں موجود ٹیم چیمپئنز ٹرافی کھیلنے کی اہل نہیں ہوتی۔ اب صورتحال یہ ہےکہ اگر بنگلہ دیش بھارت کے خلاف سیریز کسی بھی فرق سے جیت لیتا ہے تو اس کے چیمپئنز ٹرافی میں پہنچنے کے امکانات بہت روشن ہوں گے بلکہ درحقیقت اس کے لیے ستمبر کے اختتام آئندہ پانچ ایک روزہ مقابلوں میں سے صرف ایک ہی جیتنا کافی ہوگا۔

دوسری جانب ، پاکستان کو اب پورا دھیان سری لنکا کے خلاف آئندہ ایک روزہ سیریز پر رکھنا چاہیے، جہاں کامیابی اسے چیمپئنز ٹرافی تک پہنچا سکتی ہے اور شکست غالباً اخراج کا راستہ دکھائے گی۔ نئے کپتان اظہر علی کو اپنے گزشتہ دورے میں بنگلہ دیش کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی اور اب سری لنکا جیسے سخت حریف کو اسی کے ملک میں جاکر زیر کرنا ان کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا، لیکن اگر پاکستان نے آئی سی سی کا یہ اہم ترین ٹورنامنٹ کھیلنا ہے، تو لنکا ڈھانا ہوگی، بصورت دیگر قوم ہاکی جیسے ایک المیے کے لیے تیار ہوجائے جو اب اولمپکس تک پہنچنے کے لیے بھی کوالیفائنگ راؤنڈ کھیل رہی ہے۔ امید ہے کہ پاکستان کرکٹ یہ مشکل مرحلہ عبور کرلے گی۔

ویسے سال 2015ء میں بنگلہ دیش کی کارکردگی دیکھیں تو چیمپئنز ٹرافی کھیلنا ان کا حق محسوس ہوتا ہے۔ عالمی کپ کے کوارٹر فائنل تک رسائی، پھر پاکستان کے خلاف تاریخی کلین سویپ اور اب بھارت کے خلاف جاری سیریز میں عمدہ کارکردگی انہیں چیمپئنز کے ساتھ کھیلنے کا حقدار بناتی ہے۔

Facebook Comments