فیلڈنگ میں رخنہ ڈالنے والے، بین اسٹوکس انضمام الحق کی فہرست میں

انگلستان اور آسٹریلیا کے دوسرے ایک روزہ مقابلے میں کہانی تو کچھ مختلف نہ تھی، نتیجہ وہی نکلا جو ان دونوں ملکوں کے گزشتہ کئی باہم ون ڈے میچز کانکل چکا ہے یعنی آسٹریلیا نے باآسانی کامیابی حاصل کی لیکن لارڈز میں کچھ 'نیا' ضرور ہوا۔ انگلش بلے باز بین اسٹوکس انتہائی متنازع انداز میں 'آبسٹرکٹنگ دی فیلڈ' آؤٹ دیے گئے۔

آپ نے بہت کم کھلاڑیوں کو اس طرح آؤٹ ہوتے دیکھا یا سنا ہوگا۔ ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ میں اسٹوکس محض چھٹے بلے باز ہیں، جو فیلڈ سے چھیڑچھاڑ کے مرتکب قرار پائے اور میدان بدر ہوئے۔ بلکہ ان سے قبل انگلستان کا کبھی کوئی کھلاڑی اس طرح آؤٹ نہیں ہوا۔ قصہ یہ ہوا کہ 310 رنز کے ہدف کے تعاقب میں موجود انگلستان جب 26 ویں اوور میں 3 وکٹوں پر 141 رنز تک پہنچ چکا تھا جب اوور میں مچل اسٹارک نے چوتھی گیند پھینکی۔ اسٹوکس کا شاٹ براہ راس باؤلر کے ہاتھوں میں گیا، جنہوں یہ دیکھتے ہوئے کہ اسٹوکس کریز سے باہر ہیں، فوراً اسٹرائیکنگ اینڈ پر تیز رفتار تھرو پھینکا۔ گیند براہ راست وکٹوں میں جاتی دکھائی دے رہی تھی لیکن یہاں اسٹوکس نے ایک سنگین غلطی کی کہ گیند کو ہاتھ سے روک دیا۔ ویسے گیند اتنی دور ضرور تھی کہ انہیں چھوئے بغیر نکل جاتی لیکن ہوسکتا ہے کہ ان سے یہ فعل غیر ارادی طور پر سرزد ہوا ہو کیونکہ طوفانی رفتار سے آنے والی گیند پر خود کو بچانے کے لیے ایسا ردعمل دکھانا ممکن ہے۔ بہرحال، امپائروں نے طویل غور و خوض کے بعد معاملہ ٹی وی امپائر پر چھوڑا جنہوں نے اسٹوکس کو واپسی کا پروانہ تھما دیا۔

میدان میں موجودہ تماشائیوں نے اس فیصلے پر خوب آوازے کسے اور اسی ہنگامے میں اسٹوکس میدان سے باہر آ گئے۔ کریز پر موجود انگلش کپتان ایون مورگن اس فیصلے سے سخت ناخوش دکھائی دیے اور انگلستان کی پوری توجہ مقابلے کے بجائے اس تنازع کی نذر ہوگئی اور بالآخر اسے شکست کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

اب جتنے منہ اتنی باتیں ہیں۔ دراصل قانون میں 'جان بوجھ کر' کا لفظ استعمال کرنے سے جو سقم پیدا ہوا ہے، اس کا سب فائدہ اٹھا رہے ہیں یعنی بلے باز اسی صورت میں آؤٹ قرار پائے گا جب وہ جان بوجھ کر گیند کو روکے۔ اب بلے باز کے حقیقی ارادے کا کس کو علم ہو سکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ سب کی رائے منقسم ہے۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ اسٹوکس کو بالکل درست آؤٹ دیا گیا اور باقی کی رائے ہے کہ انہوں نے خود کو زخمی ہونے سے بچانے کے لیے ہاتھ کا استعمال کیا۔ بہرحال، فیصلہ تو ہوچکا۔

اب چلتے ہیں ذرا ماضی میں کہ کون سے کھلاڑی اس طرح آؤٹ ہو چکے ہیں۔ پاکستان یہاں 'خودکفیل' ہیں۔ ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کا پہلا 'آبسٹرکٹنگ دی فیلڈ' آؤٹ ہونے والا بلے باز پاکستانی تھا اور بین اسٹوکس سے پہلے آخری بھی۔ 1987ء میں کراچی کے مقام پر انگلستان کے خلاف کھیلتے ہوئے رمیز راجہ اس طرح آؤٹ ہوئے تھے۔ دو سال بعد بھارت کے مہندر امرناتھ اس فہرست میں شامل ہوئے جو سری لنکا کے خلاف احمد آباد میں فیلڈنگ میں رخنہ ڈالنے پر میدان بدر ہوئے۔ پھر بھارت کے خلاف 2006ء میں انضمام الحق کا مشہور زمانہ آؤٹ، جس نے پشاور کے تماشائیوں کو بھی حیران کن کردیا تھا۔

چند سال قبل قانون میں تبدیلی کے بعد وہ کھلاڑی بھی آؤٹ دیا جا سکتا ہے جو رن آؤٹ سے بچنے کے لیے جان بوجھ کر فیلڈر اور اسٹمپس کی راہ میں حائل ہوجائے۔ اس کا پہلا شکار محمد حفیظ بنے۔ 2013ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں ان کے ساتھ ساتھ انور علی بھی اسی طرح آؤٹ قرار پائے۔

اب بین اسٹوکس کے بعد انگلستان بھی 'مظلوموں' کی فہرست میں آ چکا ہے لیکن اس وقت زیادہ پریشان کن بات سیریز کا ہاتھ سے نکلنا ہے جو اولڈ ٹریفرڈ میں تیسرے مقابلے میں شکست کے ساتھ ہی آسٹریلیا کے نام ہوجائے گی اس لیے انگلستان کو اسٹوکس کے معاملے کو بھول کر اپنی تمام توجہ 8 ستمبر والے مقابلے پر رکھنی چاہیے۔

آؤٹ یا ناٹ آؤٹ؟

آؤٹ یا ناٹ آؤٹ؟

Posted by CricNama on Saturday, September 5, 2015

Facebook Comments