تیز ترین نصف سنچری کا ریکارڈ کون توڑ سکتا ہے؟

ویسٹ انڈیز کے کرس گیل بگ بیش لیگ میں گیندبازوں کے چھکے چھڑانے اور میڈیا کے ہاتھوں خفت اٹھانے کے بعد آسٹریلیا کو خیرباد کہہ گئے ہیں۔ میدان سے باہر جو کچھ ہوا، اس سے قطع نظر گیل نے اس مرتبہ ثابت کیا کہ اگر تیز ترین ٹی ٹوئنٹی نصف سنچری کے ریکارڈ کو توڑا جا سکتا ہے، تو وہ ان ممکنہ کھلاڑیوں میں سے ایک ہوں گے۔ ملبورن رینیگیڈز کی جانب سے کھیلتے ہوئے انہوں نے ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز کے خلاف صرف 12 گیندوں پر نصف سنچری بنائی اور یوں ٹی ٹوئنٹی تاریخ میں یووراج سنگھ کی تیز ترین اننگز کا ریکارڈ برابر کیا۔ وہ الگ بات کہ یووراج نے ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی یہ ریکارڈ بنایا تھا اور اس کی صحت پر اب تک کوئی فرق نہیں پڑا لیکن یہ دوڑ اب مزید تیز ہونے والی ہے کیونکہ اب ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016ء محض چند ہفتے دور ہے۔ آپ کے خیال میں وہ کون سے کھلاڑی ہیں جو تیز ترین نصف سنچری کا عالمی ریکارڈ توڑ سکتے ہیں؟

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2007ء اپنی طرز کا پہلا اور بہت ہی یادگار ٹورنامنٹ تھا جس کو مزید یادگار بنایا چند کھلاڑیوں کی کارکردگی نے، جیسا کہ یووراج سنگھ کہ جنہوں نے انگلستان کے خلاف مقابلے میں صرف 12 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی اور اس دوران اسٹورٹ براڈ کو ایک اوور کی تمام چھ گیندوں پر چھکے رسید کیے۔ ان کے اس ریکارڈ کو توڑنا ہرگز آسان نہیں ہوگا کیونکہ اتنے عظیم ریکارڈز ٹوٹنے میں وقت لیتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جلد یا بدیر اس ریکارڈ کو بھی ٹوٹنا ہے اور ہمیں نظر رکھنی ہوگی ان کھلاڑیوں پر جو ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان میں سےب سے پہلے ہوں گے بلاشبہ کرس گیل کہ جنہوں نے بگ بیش لیگ میں 12 گیندوں پر ہی نصف سنچری بنا کر ثابت بھی کیا ہے کہ انہیں اب صرف اس کارکردگی کو بین الاقوامی کرکٹ میں دہرانا ہے اور ان کا نام بھی فہرست میں سب سے اوپر جگمگائے گا۔

کرس گیل

Chris-Gayle

تیز ترین نصف سنچری کا ریکارڈ توڑنے والے ممکنہ کھلاڑیوں میں سے آگے کرس گیل ہیں۔ ان کی گزشتہ اننگز پر نظر ڈالی جائے تو نظر آتا ہے کہ وہ 10 گیندوں پر 44 رنز بنا چکے تھے اور اگر اگلی ہی گیند پر چھکا مار دیتے تو 11 گیندوں پرنصف سنچری ہو جاتی۔ یعنی کسی بھی طرز کی کرکٹ میں تیز ترین نصف سنچری۔ ایسا ہو تو نہیں سکا لیکن اب گیل کے سامنے زیادہ بڑا میدان ہے۔ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی مارچ میں بھارت کے میدانوں پر ہو رہا ہے جہاں کھیلنے کا وسیع تجربہ گیل کے پاس ہے کیونکہ وہ انڈین پریمیئر لیگ میں کھیلتے ہیں۔ اس لیے کم از کم گیل کے پرستاروں کو تو امید ہے کہ وہ اسی ٹورنامنٹ میں تیز ترین نصف سنچری کے ریکارڈ کو توڑ کر آگے نکل جائیں گے۔

ابراہم ڈی ولیئرز

AB-de-Villiers

ابراہم ڈی ولیئرز کا نام سامنے آتے ہیں، وہ سب ممکن ہو جاتا ہے جو ان سے قبل ناممکنات میں سے تھا۔ وہ ایسے بلے باز ہیں جن کے سامنے سب ریکارڈز بہت چھوٹے ہیں، چاہے تیز ترین ایک روزہ نصف سنچری ہی کیوں نہ ہو۔ ڈی ولیئرز آخر کیوں اس ریکارڈ کو توڑ سکتے ہیں؟ کیونکہ وہ ایک روزہ میں تیز ترین نصف سنچری، تیز ترین سنچری اور تیز ترین 150 رنز کے ریکارڈز اپنے پاس رکھتے ہیں۔ ایک ہی اننگز میں تیز ترین نصف سنچری اور سنچری کے سنگ میل عبور کیے تھے۔ ایک سال قبل انہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف صرف 16 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی، پھر اسی اننگز کو 31 گیندوں پر تیز ترین سنچری تک پہنچایا۔ پھر اگلے ہی مہینے عالمی کپ میں انہوں نے ویسٹ انڈیز کے بلے بازوں کا ایک اور امتحان لیا اور 64 گیندوں پر 150 رنز مکمل کرکے تیز ترین 'ون ففٹی' کا اعزاز بھی اپنے نام کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہےکہ جس روز ڈی ولیئرز کا بلّا چل جائے، اس دن تمام ریکارڈز انہی کے ہوتے ہیں۔ ڈی ولیئرز میں وہ تمام خوبیاں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں جو تیز ترین ٹی ٹوئنٹی نصف سنچری کا ریکارڈ توڑنے کے لیے کسی بھی بلے باز میں ہونی چاہئيں۔

شاہد آفریدی

shahid-afridi

شاہد آفریدی 20 سالوں سے پاکستان کی جانب سے کھیل رہے ہیں اور اب بھی ان کا جادو کم نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے اس وقت کرکٹ کو نئی طرز کی بلّے بازی سے متعارف کروایا، جب اس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا۔ وہ 1996ء میں جس انداز سے کھیلتے تھے، آج 2016ء میں بھی اس میں رتی برابر تبدیلی نہیں آئی۔ اپنے بین الاقوامی کیریئر کی پہلی اننگز میں تیز ترین ون ڈے سنچری بنانے سے لے کر ابھی نیوزی لینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیريز میں 8 گیندوں پر 23 رنز بنانے تک۔ آج بھی "لالا" میں اتنا ہی دم خم دکھائی دیتا ہے، جتنا پہلے دن تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  ہیراتھ سب سے آگے

شاہد آفریدی کی ایک عادت ہے، وہ شروع سے ہی کم سے کم گیندوں پر زیادہ سے زیادہ رنز بنانا چاہتے ہیں، چاہے فارمیٹ ٹیسٹ ہی کا کیوں نہ ہو۔ تمام تر رہنمائی اور تربیت بھی ان کی اس عادت میں کوئی فرق نہیں لا سکی۔ اب جبکہ وہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے ساتھ ہی کرکٹ کو الوداع کہہ دیں گے، عین ممکن ہے کہ وہ اپنے آخری مقابلوں کو یادگار بنانے کے لیے ایک اور نمایاں کارنامہ انجام دینے کی کوشش کریں۔ اگر کسی دن ان کا بلّا چل گیا، تو پھر دنیا کا کوئی گیندباز ان کے سامنے ٹک نہیں پائے گا۔

گلین میکس ویل

Glenn-Maxwell

آسٹریلیا تمام طرز کی کرکٹ میں دنیاکی خطرناک ترین ٹیموں میں سے ہے ہے، کیونکہ اس کے پاس دنیا کے خطرناک ترین کھلاڑیوں کی بڑی کھیپ موجود ہے۔ رکی پونٹنگ، ایڈم گلکرسٹ، میتھیو ہیڈن اور مائیکل بیون سے لے کر آج ڈیوڈ وارنر، آرون فنچ، اسٹیون اسمتھ اور گلین میکس ویل تک، سب ایک انگوٹھی نگینے کی طرح جڑے دکھائی دیتے ہیں۔ جارحانہ بلے بازی اور ذمہ دارانہ بیٹنگ کا جو امتزاج آسٹریلیا کے پاس پایا جاتا ہے، شاید ہی دنیا کی کسی اور ٹیم کے پاس ہو۔ لیکن سوال ہو تیز ترین نصف سنچری بنانے کا تو جواب ایک ہی آئے گا، گلین میکس ویل!

پاکستان کے خلاف ان کی 18 گیندوں پر بنائی گئی ان کی نصف سنچری کون بھلا سکتا ہے، جب وہ بالکل نئے نئے بین الاقوامی کرکٹ میں آئے تھے۔ مگر اب تو وہ تجربہ حاصل کر چکے ہیں، کھیل کی نزاکتوں کو سمجھ چکے ہیں اور ہر مقابلے کے ساھت مزید خطرناک ہوتے جا رہے ہیں۔ بھارت کے خلاف جاری سیریز میں وہ جس فارم میں دکھائی دیتے ہیں، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں تیز ترین نصف سنچری کا ریکارڈ ان کے ہاتھوں بھی ٹوٹ سکتا ہے۔

بین اسٹوکس

Ben-Stokes

جو بلے باز جنوبی افریقہ کے گیندبازوں کو انہی کے میدانوں پر پیٹ سکتا ہے، جو ٹیسٹ کرکٹ میں صرف 163 گیندوں پر ڈبل سنچری بنا سکتا ہے، اس کے ارادے اور عزائم کو بھلا کون نہیں سمجھ پائے گا؟ درست کہ 9 ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں اب اسٹوکس کچھ نہیں کرپائے لیکن جس تیزی سے وہ دیگر طرز کی کرکٹ میں رنز بنا رہے ہیں، وہ انہیں مستقبل قریب میں ٹی ٹوئنٹی کا خطرناک بلے باز بنا سکتے ہیں۔ وہ جس طاقت سے گیند کو باؤنڈری لائن سے باہر پھینکتے ہیں، جلد ہی وہ یووراج سنگھ اور کرس گیل کو ماضی کا قصہ بنا سکتے ہیں۔

مارٹن گپٹل

Martin-Guptill

گزشتہ ایک سال سے جو بلے باز دنیائے کرکٹ پر راج کر رہے ہیں، ان میں مارٹن گپٹل سرفہرست ہیں۔ ان کی بلے بازی دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ وہ ایسے حملے کرے پر تلے ہوئے ہیں کہ حریف دوبارہ کھڑا نہ ہو سکے۔ ابھی سری لنکا کے خلاف دو ٹی ٹوئنٹی میچز میں گپٹل نے 34 گیندوں پر 58 اور 25 گیندوں پر 63 رنز کی اننگز کھیلی۔ پھر پاکستان کے خلاف حالیہ ٹی ٹوئنٹی میں کین ولیم سن کے ساتھ پہلی وکٹ پر 171 رنز کی سب سے بڑی شراکت داری بھی قائم کی۔ گپٹل نے اس مقابلے میں چار چھکوں اور 9 چوکوں کی مدد سے صرف 58گیندوں پر 87 رنز بنائے، اور ناقابل شکست اور مرد میدان کے اعزاز کے ساتھ واپس آئے۔

سال 2015ء میں سب سے زیادہ ون ڈے رنز، اور ایسی طوفانی کارکردگی کو دیکھ کر اندازہ لگایاجا سکتا ہے کہ گپٹل کتنی زبردست فارم میں ہیں اور ایسی فارم میں انہیں 8 سال پرانا ریکارڈ توڑنے کے لیے کسی بھی مقابلے میں صرف 11 گیندوں کی ضرورت ہوگی اور یوں یووراج سنگھ قصہ پارینہ بن جائیں گے۔

Facebook Comments