ویسٹ انڈیز کی فتح اور بھارت کی شکست میں 'قسمت' کا کھیل

انسانی معاشروں میں "قسمت" کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ بالخصوص اپنی خامیوں اور ناکامیوں کو قسمت کے کھاتے میں ڈال کر خود کو مطمئن کرنا ایک کارآمد علاج سمجھا جاتا ہے۔ مگر حقیقت میں کسی فرد کی ناکامی بدقسمتی سمجھ لی جائے تو یہ کسی دوسرے کے لیے خوش قسمتی بھی بن جاتی ہے۔ کرکٹ مبصرین بھی اکثر یہی کہتے ہیں اس کھیل میں قسمت کا بہت زیادہ عمل دخل ہوتا ہے۔ دلیل یہ کہ بعض اوقات تمام کھلاڑی جان لڑا کر بھی اپنی ٹیم کو موسم کی خرابی یا کسی دوسری وجہ سے فتح نہیں دلوا پاتے۔

کہا جاتا ہے کہ کرکٹ مقابلے کے آغاز میں کیا جانے والے ٹاس ہی سے قسمت کا کھیل بھی شروع ہوجاتا ہے۔ پھر میدان اور پچ کی حالت اور سب سے بڑھ کر ایمائرز کے صحیح و غلط فیصلے بھی دراصل اچھی یا بری قسمت ہی کی بدولت ہیں۔ اگر ان غیر متوقع محرکات کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو تازہ ترین مثال 31 مارچ کو کھیلا گیا ٹی ٹوئنٹی 2016 کا دوسرا سیمی فائنل مکمل طور پر قسمت کے رحم و کرم پر رہا۔ بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیان مقابلے میں متعدد بار ایسا ہوا کہ کھلاڑی اپنی حریف ٹیم کی مدد کرنے کا سبب بن گئے۔

شیکھر دھاوان طویل عرصے سے بھارت کی جانب سے بلے بازی کا بخوبی آغاز کر رہے ہیں۔ مگر اس اہم مقابلے کے لئے بھارتی ٹیم نے شیکھر کی جگہ اجنکیا راہانے کو شامل کرلیا۔ اپنے آبائی شہر میں اجنکیا راہانے نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اپنے انتخاب کو درست ثابت بھی کیا۔ راہانے کی اننگز میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب نہ صرف بھارتی شائقین بلکہ خود راہانے کا خون بھی خشک ہوگیا مگر ان کی خوش قسمتی دیکھیے کہ سیموئل بدری کی گیند پر سویپ کھیلتے ہوئے گیند کو تھرڈ مین کی طرف اچھال بیٹھے لیکن گیند فیلڈر سے محض چند انچ آگے گری اور یوں راہانے کیچ آؤٹ ہونے سے بھی بچ گئے اور ایک قیمتی چار رنز بھی حاصل کرلیے۔ راہانے نے آؤٹ ہونے سے بال بال بچ جانے کے بعد جس طرح کے تاثرات دیئے اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ قسمت کے شکر گزار ہیں۔

روہیت شرما کے سیموئل بدری کے ہاتھوں ایل بی ڈبلیو آؤت ہونے کے بعد بھارتی ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی کہلوائے جانے والا ویرات کوہلی میدان میں اترے۔ تماشائیون کی پر جوش آوازوں سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ بھارتی عوام کوہلی پر کتنا بھروسہ کرتے ہیں۔ ان نعروں کی گونج اس وقت کم ہوئی کہ جب کوہلی رن آؤٹ ہونے سے بال بال بچ گئے۔ ہوا یوں کہ ڈوائن براوو کی نوبال کے بعد ملنے والی فری ہٹ پر راہانے شارٹ تو نہ لگا سکا مگر دوسری سائیڈ پر موجود کوہلی رنز کے لئے دوڑ پڑے۔ کریبین ٹیم کے لیے ایک ہی وقت میں دو مواقع ملے مگر اسے بھارت کی خوش قسمتی کہیے یا ویسٹ انڈیز کی بدقسمتی کہ دونوں ہی موقع ضائع ہوگئے۔ پہلے وکٹ کیپر دنیش رام دین کی پھینکی ہوئی گیند وکٹ کو نہ لگی اور پھر براوو بھی گیند کو پکڑ کر بروقت وکٹ کی طرف اچھالنے میں ناکام ہوگئے۔ اگر ان دونوں میں سے کوئی بھی ایک کھلاڑی وکٹ پر گیند مارنے میں کامیاب ہوتا تو کوہلی کی پویلین واپسی یقینی تھی۔

virat-kohli-india-wt20

ویررات کوہلی پر قسمت کی مہربانیاں یہیں تمام نہ ہوئیں بلکہ بلکہ اگلی ہی گیند پر وہ ایک بار پھر رن آؤٹ ہونے سے بچ گئے۔ رنز بنانے کی رفتار میں اضافے کے لیے اگلی گیند پر کوہلی نے شاٹ کھیلتے ہی دوڑ لگانے کا فیصلہ کیا۔ ویسٹ انڈین فیلڈر نے گیند تھام کر وکٹ کیپر رام دین کی جانب اچھالی تو کوہلی دوسرے رن کے لیے کریز چھوڑ چکے تھے۔ فیلڈر کی جانب سے گیند رام دین کے پاس بروقت پہنچی لیکن وہ اسے پکڑنے میں ناکام رہے یوں کوہلی کو بمشکل کریز میں داخل ہونے کا موقع مل گیا۔ دو بار اپنی قسمت کا امتحان لینے کے بعد کوہلی نے تیسرا موقع نہ دیا اور ایک ناقابل فراموش باری کھیل کر بھارت کو 192 کا مجموعہ بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  قیادت کی پگ ویرات کے سر

بھارت کی جانب سے دیئے گئے 193 کے ہدف کا تعاقب آسان نہ تھا۔ مگر ویسٹ انڈیز نے جب بلے بازی کا آغاز کیا تو اندازہ ہوا کہ قسمت آج دونوں ہی ٹیموں کو برابر مواقع فراہم کر رہی ہے۔ لینڈل سیمنز کی آمد ویسٹ انڈیز کے لیے پہلی خوش قسمتی ثابت ہوئی۔ وہ ٹی ٹوئنٹی 2016 کھیلنے کے لیے بھارت پہنچنے والے دستے میں شامل ہی نہ تھے۔ مگر آندرے فلیچر کے اچانک زخمی ہونے کے بعد انہیں اہم ترین مقابلے سے محض ایک روز قبل بھارت طلب کرلیا گیا۔ اور تو اور انہیں میزبان ملک کے خلاف بڑے ہدف کا تعاقب شروع کرنے کے لیے میدان میں بھی بھیج دیا گیا۔ لینڈل کی اننگز میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب ان کی پویلین واپسی یقینی ہوچکی تھی مگر قسمت نے انہیں بچا لیا۔

تیرھویں اوور کی گیند پر سیمنز نے انتہائی عجیب انداز سے بلا گھمایا جس سے گیند سیدھا فیلڈر کے ہاتھوں میں جاپہنچی۔ قبل اس کے کہ سیمنز پویلین کا رخ کرتے امپائر نے نوبال کا اشارہ کردیا۔ اس کے بعد سیمنز نے شاندار فائدہ اٹھایا اور اپنی نصف سنچری مکمل۔ کوہلی کی طرح سیمنز کی بھی قسمت کا دوسرا امتحان ہوا۔ اس بار بھی صورتحال پہلے والی ہی رہی یعنی غلط شارٹ، پھر کیچ اور گیند نوبال قرار۔ یوں سیمنز کو اپنی باری میں کم از کم دو نئی زندگیاں حاصل ہوئیں۔

umpire-wt20

ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں اختتامی اوورز سب سے زیادہ اہم قرار دیئے جاتے ہیں۔ جو ٹیم ان اوورز کا بہتر استعمال کر گزرے اس کی میچ پر گرفت مضبوط سمجھی جاتی ہے۔ بھارت کے خلاف سیمی فائنل میں ویسٹ انڈیز کی دھواں دار بلے بازی کے باوجود 17 اوورز میں اسکور محض 161 رنز تھا۔ جیت کے لئے انہیں آخری 18 گیندوں پر مزید 32 رنز کی ضرورت تھی۔ اس وقت دونوں ہی ٹیموں کے لیے مارو یا مر جاؤ والی صورتحال تھی۔

بھارتی کپتان دھونی نے باہم مشاورت کے بعد بمرا کو گیند تھما دی جس نے پہلی تینوں گیندیں ضائع کروا کر میدان میں موجود بھارتی شائقین میں نیا جوش بھر دی۔ اہم ترین اوور کی چوتھی گیند پر سیمنز نے زور دار چھکا لگانے کی کوشش کی مگر باونڈی پر جڈیجہ نے اچھل کر گیند روکی جسے کوہلی نے تھام کر سیمنز کو کیچ آؤٹ کردیا۔ مگر قسمت نے ایک بار پھر ویسٹ انڈیز کے ساتھ دیا۔ امپائر کے بغور جائزہ لینے پر ظاہر ہوا کہ اچھل کر گیند کیچ کرنے کی کوشش میں جڈیجہ کا پیر باؤنڈری لائن کو چھو چکا تھا لہذا نہ صرف سیمنز آؤٹ نہ ہوئے بلکہ انہیں قیمتی 6 رنز بھی حاصل ہوئے۔ یہاں سے بھارت کے حوصلوں کو شدید دھچکا پہنچا جس کا ویسٹ انڈیز نے بھرپور فائدہ اٹھا کر میچ اپنے نام کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں: انوکھا، منفرد اور نرالا ویسٹ انڈیز

ویسے اگر اس موقع پر بارش ہو جاتی تو دونوں ٹیموں کے اہم ترین کھلاڑی ویرات کوہلی اور کرس گیل سب سے زیادہ زیر بحث آتے۔ ایک طرف جہاں ویرات کوہلی کو تین بار آؤٹ ہونے سے بال بال بچنہ تو دوسری طرف جارح مزاج کرس گیل کا جلدی آؤٹ ہوجانے کے بعد یہی کہا جاتا کہ قسمت کی دیوی بھارت پر مہربان ہے۔ مگر حقیقت میں یہ بھارت کی شومئی قسمت اور ویسٹ انڈیز کی خوش قسمتی تھی کہ میچ کا نتیجہ خلاف توقع رہا۔

india-semi-final-wt20

Facebook Comments