پاکستانی گیندبازوں کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں، ایلسٹر کک کا عزم

پاکستان اور انگلستان کی سیریز میں اب ایک ماہ کا عرصہ باقی رہ گیا ہے۔ جب 14 جولائی کو لارڈز میں پہلا ٹیسٹ شروع ہوگا تو سب کی نظریں پاکستانی گیندبازوں پر ہوں گی، بالخصوص محمد عامر پر۔ جنہوں نے اگست 2010ء میں اسی میدان پر اپنا آخری ٹیسٹ کھیلا تھا، شاندار کارکردگی دکھائی لیکن اسپاٹ فکسنگ میں بھی دھر لیے گئے۔ ایک ابھرتا ہوا ستارہ ڈوب گیا اور پانچ سال کی پابندی کے بعد اب دوبارہ ابھر رہا ہے۔ اس کی حقیقی آب و تاب دیکھنے کے لیے سب کی نظریں لارڈز پر ہیں اور یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ یہاں بھی مقابلہ پاکستان کی باؤلنگ اور انگلستان کی بیٹنگ کا ہوگا۔ اس کا بھرپور اندازہ انگلستان کے کپتان ایلسٹر کک کو بھی ہے جن کا کہنا ہے کہ ان کے بلے باز پاکستان کے باؤلرز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

پاکستان ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں بدترین ناکامی کے بعد سے بین الاقوامی کرکٹ سے باہر ہے، اور انگلستان کے خلاف سیریز کے ذریعے اس کے لیے ایک مشکل دور کا آغاز ہونے والا ہے جس میں اسے انگلستان، ویسٹ انڈیز، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ دوسری جانب انگلستان سری لنکا کو چاروں خانے چت کرکے حوصلے بلند کر چکا ہے۔ تین ٹیسٹ مقابلوں میں دو-صفر سے کامیابی کے باوجود انگلش بلے بازوں کو دشمنتھا چمیرا اور دھمیکا پرساد جیسے اوسط درجے کے باؤلرز کے خلاف خاصی جدوجہد کرنا پڑی۔ اس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ جب محمد عامر اور وہاب ریاض جیسے باؤلرز ان کے سامنے ہوں گے تو کیا حالت ہوگی؟ کک کہتے ہیں کہ پاکستان کے بعد تیز گیندبازی میں بہت دم خم ہے، پھر انہیں اچھے اسپنرز کا ساتھ بھی حاصل ہوگا لیکن ہم ان کا سامنا کرنے کے لیے مستعد ہیں۔ گزشتہ سال آ‎سٹریلیا کے خلاف سیریز میں بھی خوب رنز بنائے تھے اور اب بھی بنائیں گے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ پاکستان کے خلاف ایک زبردست سیریز ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:  یہ 'پلے آف' کیا ہے؟

محمد عامر کے علاوہ یاسر شاہ بھی ممکنہ طور پر قومی کرکٹ ٹیم میں واپس آئیں گے جو ڈوپ ٹیسٹ میں ناکامی کے بعد تین ماہ کی معطلی کی سزا مکمل کر چکے ہیں۔ یہ دورہ پاکستان کے لیے بالعموم اور ان دونوں کھلاڑیوں کے لیے بالخصوص بہت اہم اور بڑا امتحان ہوگا۔

سری لنکا کے خلاف کامیابی کے ساتھ ساتھ ایلسٹر کک اس بات پر بھی خوش ہیں کہ انہیں ایک قابل اعتماد اوپننگ ساتھی مل گیا ہے۔ ایلکس ہیلز نے سیریز میں پانچ اننگز میں 292 رنز بنائے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں ناکامی کے بعد یہ بہترین واپسی تھی۔ کک کے مطابق تین مرتبہ 80 سے زیادہ کی اننگز کھیلنا بہت خوش کن تھا۔

انگلینڈ کے لیے اوپننگ کا مسئلہ کتنا گمبھیر ہو چکا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ 2012ء میں اینڈریو اسٹراس کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے اب تک 8 جوڑیاں آزمائی جا چکی ہیں۔

علاوہ ازیں وکٹ کیپر جانی بیئرسٹو کی عمدہ کارکردگی، اور سیریز کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کرنے، کے بعد کک نے ان کی بلے بازی کو سراہا ہے لیکن ساتھ ہی کہا ہے کہ وکٹ کیپنگ میں ابھی انہیں کچھ محنت کرنا ہوگی۔ "چند مواقع ضائع ہوئے، جو ظاہر کرتے ہیں کہ راتوں رات ورلڈ کلاس وکٹ کیپر نہیں بنا جا سکتا۔"

پاکستان و انگلستان کے درمیان چار ٹیسٹ مقابلوں کے بعد پانچ ون ڈے اور ایک ٹی ٹوئنٹی میچ بھی کھیلیں گے۔ آخری مقابلہ 7 ستمبر کو کھیلا جائے گا۔

Facebook Comments