پلنکٹ کا شاہکار، آخری گیند پر چھکا اور مقابلہ ٹائی

انگلستان کے لیام پلنکٹ نے سری لنکا کے خلاف پہلے ایک روزہ کی آخری گیند پر ایک شاندار چھکا لگا کر مقابلہ ٹائی کردیا، حالانکہ انگلستان کی شکست یقینی نظر آ رہی تھی۔ ٹرینٹ برج میں کھیلے گئے ایک روزہ میں 287 رنز کے تعاقب میں انگلستان صرف 82 رنز پر چھ وکٹوں سے محروم ہو چکا تھا جب جوس بٹلر اور کرس ووکس کی 138 رنز کی شراکت داری نے واپسی کی راہ ہموار کی۔ لیکن چھیالیسویں اوور میں آٹھ وکٹیں گرنے کے بعد بہت کم امید باقی رہ گئی تھی کہ باقی 52 رنز بن پائیں گے۔ آخری اوور میں انگلستان کو 14 رنز کی ضرورت تھی اور وہ پہلی پانچ گیندوں پر لیام پلنکٹ اور کرس ووکس ایک گیند پر بھی میدان سے باہر نہ پھینک سکے۔ آخری گیند پر انگلستان کو جیتنے کے لیے سات رنز کی ضرورت تھی جب نووان پردیپ کی پھینکی گئی یارکر درست نشانے پر نہیں پڑی اور پلنکٹ نے اسے لانگ آف کے اوپر سے چھکے کے لیے روانہ کردیا۔ ایک یقینی شکست سے بچنے کے بعد جہاں تماشائیوں کا جوش عروج پر پہنچ گیا وہیں سری لنکا ایک واضح کامیابی سے محروم ہوگیا جو ٹیسٹ سیریز میں شکست کے بعد اس کے حوصلے بلند کرنے کے لیے بہت ضروری تھی۔

انگلستان نے ٹاس جیت کر پہلے گیندبازی کا فیصلہ کیا اور ابتدائی 9 اوورز میں 56 رنز پر سری لنکا کی تین وکٹیں حاصل کرکے مضبوط پوزیشن حاصل کرلی۔ یہاں پر اینجلو میتھیوز نے ایک ذمہ دارانہ اور بہت ضروری اننگز کھیلی جس میں پہلے دنیش چندیمال اور پھر سیکوگے پرسنا نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ اینجلو اور دنیش نے 64 رنز کا اضآفہ کیا جبکہ پرسنا کے ساتھ شراکت داری 68 رنز تک پہنچی، جس میں اینجلو کا حصہ صرف 8 رنز کا تھا۔ آئرلینڈ کے خلاف تیز ترین سنچری کا قومی ریکارڈ توڑنے کے بہت قریب پہنچنے والے پرسنا نے تمام کسر آج انگلستان سے نکالی۔ ایسے موقع پر جب آدھے اوورز ابھی باقی تھے اور سری لنکا 120 رنز پر چار وکٹوں سے محروم ہوچکا تھا، سیکوگے پرسنا نے جارحانہ کھیل پیش کیا۔ صرف 28 گیندوں پر 4 چھکوں اور 8 چوکوں کی مدد سے انہوں نے 59 رنز بنائے۔ یہاں تک کہ مجموعہ 33 اوورز میں 188 رنز تک پہنچ گیا۔ یہاں کرس ووکس نے انہیں اپنی ہی گیند پر کیچ کیا اور کم از کم ایک بڑھتے ہوئے خطرے کا خاتمہ کردیا۔ میتھیوز 47 ویں اوور میں اس وقت آؤٹ ہوئے جب سری لنکا 266 رنز تک پہنچ چکا تھا۔ انہوں نے 109 گیندوں پر 73 رنز بنائے۔ آخری اوورز میں فرویز مہاروف کے 31 رنز بھی سری لنکا کے کام آئے اور یوں اسکور 286 رنز تک پہنچ گیا جو حالات کو دیکھتے ہوئے اچھا اسکور کہا جا سکتا تھا۔

انگلستان کی جانب سے کرس ووکس، ڈیوڈ ولی اور لیام پلنکٹ نے دو، دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

انگلستان کے لیے 287 رنز کے ہدف کا آغاز بالکل بھی آسان نہیں تھا۔ بیٹنگ میں باؤلرز کو ناکوں چنے چبوانے والے میتھیوز نے یہاں بھی اپنا کمال دکھایا اور پہلے چھ اوورز میں ہی انگلستان تین وکٹوں سے محروم ہو چکا تھا جن میں سے جیسن روئے اور جو روٹ کی قیمتی وکٹیں میتھیوز کو ملیں جبکہ ایلکس ہیلز کو سورنگا لکمل نے آؤٹ کیا۔ ابھی سانس ہی نہ سنبھلا تھا کہ جانی بیئرسٹو کی اننگز بھی تمام ہوئی۔ یہ چاروں کھلاڑی دہرے ہندسے تک بھی نہیں پہنچے۔ یہاں پر کپتان ایون مورگن نے وکٹ کیپر جوس بٹلر کے ساتھ مل کر اننگز کی بحالی کی طرف پہلا قدم اٹھایا۔ دونوں نے 42 رنز کا اضافہ کرکے مجموعے کو 16 اوورز میں 72 رنز تک پہنچایا اور ساتھ ہی مورگن کا بلاوا آ گیا۔ نووان پردیپ کی گیند پر وہ وکٹ کیپر چندیمال کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔ انگلستان کو پردیپ کے اگلے اوور میں اور ایک دھچکا لگا جب معین علی کلین بولڈ ہوگئے۔

اب باقی 204 رنز تھے اور صرف چار کھلاڑی باقی تھے۔ اچھے خاصے پرامید شائقین کا جوش بھی ٹھنڈا پڑ چکا تھا جب بٹلر اور کرس ووکس کی 'بحرانی' اننگز نے اپنا کمال دکھایا۔ دونوں نے ساتویں وکٹ پر 138 رنز کا اضافہ کرکے ہلکی سی امید پیدا کی۔ بدقسمتی سے بٹلر اپنی پانچویں ون ڈے سنچری مکمل نہ کر سکے اور 99 گیندوں پر 93 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔ ڈیوڈ ولی زیادہ دیر ووکس کا ساتھ نہیں دے سکے اور انگلستان 235 رنز پر آٹھویں وکٹ سے محروم ہوگیا۔ تب دسویں نمبر پر پلنکٹ کھیلنے آئے اور ان کے فیصلہ کن وار نے مقابلے کو برابری کی سطح پر پہنچا دیا۔

پلنکٹ صرف 11 گیندوں پر 22 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے جبکہ ووکس 92 گیندوں پر 94 رنز کے ساتھ ناقابل شکست میدان سے واپس آئے، جس پر انہیں میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز بھی ملا۔ انہوں نے بٹلر کے ساتھ ساتویں وکٹ پر 138 رنز کی جو شراکت داری قائم کی، وہ اس وکٹ پر ایک روزہ کرکٹ کی دوسری سب سے بڑی ساجھے داری ہے۔ یہ ریکارڈ ویسے بٹلر ہی کے پاس ہے جنہوں پچھلے سال جون میں نیوزی لینڈ کے خلاف عادل رشید کے ساتھ مل کر 177 رنز بنائے تھے۔

ویسے ایک ایسے وقت میں جب ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ایک روزہ کو کھا رہی ہے، ایسے مقابلے کا انعقاد ون ڈے کرکٹ کی بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اب دونوں ٹیمیں 24 جون کو ایجبسٹن میں دوسرا ایک روزہ کھیلیں گی اور توقع ہے کہ یکطرفہ ٹیسٹ سیریز کے مقابلے میں یہاں دلچسپ مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔

Liam-Plunkett

Facebook Comments